۱۶ تیر ۱۴۰۱ |۷ ذیحجهٔ ۱۴۴۳ | Jul 7, 2022
علامہ سبطین سبزواری

حوزہ/شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے گیارہ کان کن مزدوروں کی شہادت کو دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک عرصے سے ملت جعفریہ کو مختلف مواقع پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے گیارہ کان کن مزدوروں کی شہادت کو دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک عرصے سے ملت جعفریہ کو مختلف مواقع پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سوال صدر پاکستان ،وزیراعظم اور آرمی چیف سے ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان ،راہ نجات، ردالفساداور ضرب عضب جیسے آپریشنوں کا نتیجہ کیا نکلا ؟دہشت گردی کی نئی لہر کس کی پیداوار ہے اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا ؟۔

کیا ریاستی ادارے شیعہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں۔دہشت گردوں کا مقابلہ ریاستی اداروں کے بس کی بات نہیں۔درجنوں خفیہ ایجنسی کس کام کی ہیں اور ان کی کارکردگی کیا ہے؟۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی طرف سے دختر رسول سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں گستاخی، محرم الحرام سے پہلے نام نہاد متنازع بنیاد اسلام بل، فسادی غالی مقرر کی اسلام آباد میں تقریر، کوہاٹ اسلام آباد میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ ،سرگودھا کے علاقے سنگورا میں مسجد کی مسماری اور فرقہ وارانہ فسادات کی خبر دے رہے ہیں۔ان حالات میں عام شہری پریشان ہے مگر ریاستی ادارے آنکھیں بند کر کے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ شاید ان کی خاموشی بتارہی ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔وہ اپنی حفاظت خود کریں۔

اگر ایسی ہی صورتحال ہے تو ملکی سلامتی پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔ جو ریاست اپنے معصوم شہریوں کی حفاظت نہ کر سکے تو اس کے چلانے والی حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 2 =