۶ خرداد ۱۴۰۳ |۱۸ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 26, 2024
جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب میں جلسہ سیرت کا انعقاد

حوزہ/ مولانا سید منور حسین صاحب انچارج جامعہ امامیہ نے بیان کیا کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد حکومت نے اہلبیتؑ پر ظلم کی اپنی روش بدلی ، ائمہؑ کو قید خانہ میں اسیر کرنے کے بجائے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا شروع کیا تا کہ حالات پر کنٹرول بھی رہے اور کوئی الزام بھی نہ آئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنو/ دسویں امام حضرت علی نقی علیہ السلام کے روز شہادت جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب میں آن لائن جلسہ سیرت منعقد ہوا۔ جلسہ کا آغاز مولوی محمد صادق معروفی صاحب فاضل جامعہ امامیہ نے تلاوت قرآن کریم سے کیا ۔ 

مولانا سید علی ہاشم عابدی استاد جامعہ امامیہ نے بیان کیا کہ عباسی حکمراں متوکل جیسے ظالم و ستمگر نے اہلبیتؑ اورانکے چاہنے والوں پر ظلم کی انتہاکر دی، حضرت امام حسین علیہ السلام کی روضہ مبارک پر حملہ کیا اور زیارت پر پابندی لگا دی لیکن جب امام علی نقی علیہ السلام ایسے پر آشوب دور میں مریض ہوئے تو اپنی صحت یابی کی دعا کے لئے ایک شخص کو کربلائے معلی بھیجا تاکہ وہ وہاں جا کر دعا کرے اور زیارت امام حسینؑ بند نہ ہو۔ امام علی نقیؑ نے مختلف علاقوں میںاپنے نمایندہ اور وکیل معین کئے اور ان پر مکمل نگرانی فرمائی تا کہ سلسلہ ہدایت جاری رہے اور عصر غیبت میں نمایندگان سے کسب ہدایت میں مشکل نہ آئے۔ 

مولانا سید منور حسین صاحب انچارج جامعہ امامیہ نے بیان کیا کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد حکومت نے اہلبیتؑ پر ظلم کی اپنی روش بدلی ، ائمہؑ کو قید خانہ میں اسیر کرنے کے بجائے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا شروع کیا تا کہ حالات پر کنٹرول بھی رہے اور کوئی الزام بھی نہ آئے۔ امام رضاؑ کو خراسان بلانا، امام تقیؑ کو بغداد طلب کرنااور اسکے امام علی نقیؑ کو سامرہ بلا نا اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ لیکن امام علی نقی ؑنے ان حالات میں بھی لوگوں کی ہدایت فرمائی اور سب پر حجت تمام کی۔ امام علی نقی علیہ السلام نے زیارت جامعہ کبیرہ تعلیم فرمائی جو سند اور متن دونوں لحاظ سے بے نظیر ہے صاحبان ایمان خصوصا طلاب کرام کو چاہئیے کہ اسے پڑھیں اور اس سے استفادہ کریں۔ 

مولانا سید ممتاز جعفر نقوی صاحب مربی اعلیٰ جامعہ امامیہ نے بیان کیا کہ امام علی نقی علیہ السلام کے زمانے میں مختلف قسم کے باطل نظریات قائم کئے گئے جنکی امام نے کھل کو مخالفت کی۔ امام علی نقی ؑ نے سامرا میں حکومت کی مکمل نگرانی اور فوجی چھاونی میں رہنے کے باوجود لوگوں کی مدد کی، حق کو قائم کیا اور باطل کو ختم کرکے اسلام کو سربلند اور امامت کی عظمت کو دنیا والوں پر واضح کیا ۔ جب ایک خاتون نے زینبؑ ہونے کا باطل دعویٰ کیا تو امام نقیؑ نے اس کے باطل کو عیاں کیا اور اپنی عظمت کو واضح فرمایا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .