۱۰ اسفند ۱۳۹۹ | Feb 28, 2021
محمد علی سدپارہ

حوزہ/ کے ٹو پر لاپتا عاشق حسین علیہ السلام پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کردی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کے ٹو پر لاپتا عاشق حسین علیہ السلام پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کردی ہے۔

پاکستان کے قومی ہیرو و کوہ پیما محمد علی سد پارہ موسم سرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے تھے اور اس مہم جوئی میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سدپارہ سمیت غیر ملکی کوہ پیما بھی تھے۔ 5 فروری کو ساجد سدپارہ آکسیجن سلینڈر میں مسئلے کے باعث واپس بیس کیمپ آگئے تھے لیکن ان کے والد محمد علی سدپارہ بیس کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔ محمد علی سدپارہ اور غیر ملکی کوہ پیما کی تلاش کے لیے پاک فوج اور دیگر اداروں نے ریسکیو آپریشن بھی کیا لیکن کوہ پیماؤں کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔

دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر حسینیؑ پرچم نصب کرنے والے “محمد علی سدپارہ” کی موت کی تصدیق

تفصیلات کے مطابق، گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر خان اور علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے پریس کانفرنس کی جس میں ساجد سدپارہ نے اپنے والد کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کی۔ ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اور ان کا خواب پورا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ اور عسکری ایوی ایشن کے بہادر پائلٹس کا بھی مشکور ہوں۔

واضح رہےکہ پاکستان کے ہیرو محمد علی سد پارہ کو دنیا کی 14 بلند چوٹیوں میں سے 8 کو سر کرنے و پرچم حسینی کو نصب کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 8 =