۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
احمد مروی

حوزہ/ حجت الاسلام احمد مروی نے کہا کہ "حلال صنعت اور اس  کی مارکیٹ، مسلمان ملکوں کے درمیان ہم آہنگی اور امداد باہمی کا ایک وسیع میدان ہموار کرسکتی ہے۔ اقتصادی  میدان میں اآگر یہ ہمدلی پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں اسلامی ممالک مغربی ملکوں پر بھی اپنا اثرمرتب کرسکتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام احمد مروی نے امام رضا علیہ السلام کے حرم میں واقع شہید سلیمانی ہال میں حلال فقہی کونسل کے اراکین سے ملاقات میں اپنے خطاب میں کہا کہ حرام غذا انسان کے قلب و روح کو تاریک بنادیتی ہے لہذا  اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ دیگر ملکوں سے درآمد کی جانے والی غذائي اشیا، ملبوسات اور دواؤں وغیرہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام  مال حلال ہو۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں درآمد کی جانے والی اشیاء کی کڑی چھان بین کے ذریعے ان کے حلال ہونے پر نظر رکھی جائے اور اگر کوئی درآمد کنندہ خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے تو اس کے خلاف فورا  عدالتی اور قانونی کاروائی کی جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے دیکھا گیا ہےکہ کچھ غیر ذمے دار اور مفاد پرست افراد یا کمپنیاں، اپنے غیر قانونی مفاد اور نفع کے لئے کھانے پینے کی ایسی اشیا‏ء اور دوائیں درآمد کرتی ہیں جن کے حلال ہونے میں شک ہوتا ہے۔  

آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ نیشنل ہائی کونسل فار اسٹینڈرد کو چاہئے کہ درآمد کی جانے والی اشیا کے حلال ہونے کے بارے میں  حلال فقہی کونسل سے رجوع کرے اور ان اشیا کے حلال ہونے کا پورا  اطمینان حاصل کرے اور شرعی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت عدالتی اور قانونی کارروائي کی جائے۔

آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ بدقسمتی سے غیر ملکی اشیا کی بے تحاشا درآمدات ہی استقامتی معیشت کو نقصان پہنچارہی ہے اور ملک میں بیروزگاری پر پوری طرح سے قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اشیا اور تیار شدہ مال جو بلا روک ٹوک درآمد کیا جا رہا ہے، اس کی وجہ سے ملک کی داخلی  پیداوار کی رفتار کند پڑ گئی ہے، یہاں تک کہ بعض اشیا کی درآمدات کی زیادتی کی بنا پر ایران میں ان اشیا  کے کارخانے بند کرنے پڑے ہیں بنابریں ضرورت اس بات کی ہےکہ متعلقہ حکام بے ہنگم اور بلا روک ٹوک درآمدات کو روکیں اور ملک کے  کارخانوں کی سرگرمیوں کو بحال کریں  ۔

انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ درآمداتی اشیا پر گہری نظر رکھنے کے تعلق سے  "حلال فقہی کونسل کی ذمہ داری بہت ہی سخت ہے پوری دنیا میں حلال اشیا اور صنعتوں کی مارکیٹوں کی جانب اشارہ کیا  اور کہا کہ اس بات کے پیش نظر کہ دنیا میں مسلمان ملکوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور مسلمانوں کی آبادی بھی بہت ہے اس لئے حلال اشیا کی منڈیاں دنیا میں بہت ہی زیادہ بارونق ہيں  چنانچہ غیر مسلم افراد بھی حلال اشیا کو شوق سے خریدتے ہیں  ۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ  ایران بھی اپنی پیداوار اور برآمدات کے لحاظ سے  ایک مستحکم ملک ہے اس لئے حلال اشیا کی صنعت کی اس منڈی میں ایران بہت ہی اچھا کردار ادا کرسکتا ہے لیکن افسوس کہ ابھی تک اس موقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے  ۔

حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں "حلال" کے نشان کی ترویج کے سلسلے میں کہا کہ یہ نشان یا تجارتی مارک ایک وسیع  موضوع  ہے۔ اگر غذائی اور طبی پیداوار کا نام لیا جائے تو یہ اس موضوع کے صرف ایک گوشے کی طرف اشارہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ  ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ملکوں میں اس موضوع کو مختلف پہلوؤں سے بڑھاوا دیا جائے۔ مثال کے طور پر سیاحت، پیداواری صنعت، اور ثقافتی یا   تعلیمی  شعبے میں اس موضوع پر کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ "حلال صنعت اور اس  کی مارکیٹ، مسلمان ملکوں کے درمیان ہم آہنگی اور امداد باہمی کا ایک وسیع میدان ہموار کرسکتی ہے۔ اقتصادی  میدان میں اآگر یہ ہمدلی پیدا ہوجائے تو اس کے نتیجے میں اسلامی ممالک مغربی ملکوں پر بھی اپنا اثرمرتب کرسکتے ہیں۔

اس نشست کی ابتدا میں ایران کی نیشنل اسٹینڈرڈ ارگنائزیشن  میں حلال امور کے ناظر فقیہہ اور محلس شورائے نگہبان کے ممبر، آیت اللہ احمد مبلغی نے ایک رپورٹ پیش کی  ۔ بعد ازاں حلال فقہی کونسل کے دیگر اراکین  نے بھی  اپنے اپنے  خیالات کا اظہار کیا ۔
 

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 9 =