۱ بهمن ۱۴۰۰ |۱۷ جمادی‌الثانی ۱۴۴۳ | Jan 21, 2022
News Code: 366443
10 مارچ 2021 - 01:31
تقویم

حوزه/تقویم حوزہ:26 رجب 1442؛وفات سید البطحاء حضرت ابوطالب(ع)۔آپ کی وفات کے دن پیغمبر اکرمؐ نے سخت گریہ فرمایا اور حضرت علیؑ کو غسل و کفن دینے کا حکم دیا اور آپؐ نے ان کے لئے طلب رحمت کی دعا کی۔ جب حضرت محمدؐ حضرت ابوطاب کے دفن کی جگہ پہنچے تو فرمایا: اس طرح آپ کی مغرت اور شفاعت کے لئے دعا کرونگا کہ جن و انس حیران رہ جائے۔ آپ کے جسد خاکی کو مکہ میں آپ کے والد گرامی عبدالمطلب کے ساتھ قبرستان حُجون میں سپرد خاک کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسیl

آج:

Wednesday - 10 March 2021
بدھ، 25 رجب 1442

آج کا دن منسوب ہے:
امام موسي بن جعفر حضرت كاظم عليه السّلام
السلطان ابالحسن حضرت علي بن موسي الرضا عليهما السّلام
جواد الائمه حضرت محمد بن علي التقي عليهما السّلام
امام هادي حضرت علي بن محمد النقي عليهما السّلام

آج کے اذکار:
- یا حَیُّ یا قَیّوم (100 مرتبه)
- حسبی الله و نعم الوکیل (1000 مرتبه)
- یا متعال (541 مرتبه)  دنیا و آخرت میں عزت کے لیے

رونما واقعات:
وفات سید البطحاء حضرت ابوطالب علیه السلام،‌ ہجرت سے تین سال پہلے

درپیش مناسبتیں:
▪️1 روز تا مبعث حضرت رسول صلی الله علیه و آله و سلم
▪️7 روز تا ولادت امام حسین علیه السلام
▪️8 روز تا ولادت حضرت عباس علیه السلام
▪️9 روز تا ولادت حضرت سجاد علیه السلام
▪️15 روز تا ولادت حضرت علی اکبر علیه السلام

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

سید البطحاء حضرت ابوطالب علیه السلام

عبد مَناف بْن عَبْدُ الْمُطلب بن ہاشم، ابوطالب کے نام سے مشہور، امام علیؑ کے والد، پیغمبر اسلامؐ کے چچا اور مکہ میں قبیلہ بنی ہاشم کے سردار تھے۔ کچھ عرصے کے لئے آپ سقایۃ الحاج کے عہدے پر فائز رہے اور اپنے والد عبد المطلب کی وفات کے بعد حضرت محمدؐ کی سرپرستی قبول کی اور آنحضرت (ص) کی جانب سے نبوت کے اعلان کے بعد ان کی مکمل حمایت کی۔

آپ کا اسلام لانا یا نہ لانا شیعہ اور بعض اہل سنت کے درمیان اختلافی مسائل میں سے ہے۔ آپ کے ایمان لانے پر بہت سارے تاریخی، حدیثی قرائن و شواہد موجود ہیں۔ آپ کی طرف بعض اشعار اور قصاید کی نسبت دی گئی ہے جن کا مجموعہ دیوان ابوطالب کہا جاتا ہے۔ آپ نے بعثت کے دسویں سال 26 رجب میں وفات پائی اور قبرستان حجون میں سپرد خاک کئے گئے۔

ابو طالبؑ نے اپنے والد کی ہدایت پر اپنے آٹھ سالہ بھتیجے حضرت محمدؐ کی سرپرستی کا بیڑا اٹھایا۔

ابن شہرآشوب کہتے ہیں: جناب عبد المطلب نے وقت وصال ابو طالبؑ کو بلوایا اور کہا:

"بیٹا! تم محمدؐ کی نسبت میری محبت کی شدت سے آگاہ ہو، اب دیکھونگا کہ ان کے حق میں میری وصیت پر کس طرح عمل کرتے ہو"۔ ابو طالبؑ نے جوابا کہا:
"ابا جان! مجھے محمدؐ کے بارے میں سفارش کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ میرا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے۔
ابن شہر آشوب مزید کہتے ہیں: "عبد المطلبؑ" کا انتقال ہوا تو ابو طالبؑ نے رسول خداؐ کو کھانے پینے اور لباس و پوشاک میں اپنے اہل خانہ پر مقدم رکھا۔ ابن ہشام لکھتے ہیں: "ابو طالبؑ رسول خداؐ کو خاص توجہ دیتے تھے؛ اور آپؐ پر اپنے بیٹوں سے زیادہ احسان کرتے تھے، بہترین غذا آپؐ کے لئے فراہم کرتے تھے اور آپؐ کا بستر اپنے بستر کے ساتھ بچھا دیتے تھے اور ان کو ہمیشہ ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے تھے"۔

ابو طالبؑ جب بھی اپنے بیٹوں بیٹیوں کو کھانا کھلانے کے لئے دسترخوان بچھاتے تو کہا کرتے تھے کہ "رک جاؤ کہ میرا بیٹا (رسول خداؐ) آ جائے۔

تاریخی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو طالبؑ نے قریش کے دباؤ، سازشوں دھونس دھمکیوں اور ان کی طرف لاحق خطرات کے مقابلے میں رسول اکرمؐ کے بےشائبہ اور بےدریغ حمایت جاری رکھی۔ گوکہ ابو طالبؑ کی عمر رسول اللہؐ کی بعثت کے وقت پچھتر برس ہوچکی تھی، تاہم انھوں نے ابتداء ہی سے آپؐ کی حمایت و ہمراہی کو ثابت کر دکھایا۔ انھوں نے قریش کے عمائدین سے باضابطہ ملاقاتوں کے دوران رسول اللہؐ کی غیر مشروط اور ہمہ جہت حمایت کا اعلان کیا۔ یعقوبی کے مطابق یہ حمایت اور محبت اس حد تک تھی کہ جناب ابو طالبؑ اور ان کی زوجہ مکرمہ حضرت فاطمہ بنت اسد(س) رسول اللہؐ کے لئے ماں باپ کی صورت اختیار کرگئے تھے۔

پیغمبر اکرمؐ نے حضرت ابوطالب کے وفات کے وقت فرمایا: جب تک ابوطالب بقید حیات تھے قریش مجھ سے خوف محسوس کرتے تھے۔شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ جس دن ابوطالب کی وفات ہوئی جبرئیل پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئے اور کہا: مکہ سے باہر نکلو کیونکہ اب اس میں آپ کا کوئی حامی اور مددگار نہیں رہا۔

ابو طالبؑ کے قصائد اور منظوم کلام اور حکیمانہ اور ادیبانہ منظوم اقوال تقریبا ایک ہزار ابیات (اشعار) پر مشتمل ہیں اور یہ مجموعہ دیوان ابو طالب کے نام سے مشہور ہے۔ جو کچھ ان اشعار اور اقوال میں آیا ہے سب رسول خداؐ کی رسالت و نبوت کی تصدیق و تائید پر مبنی ہے۔ ان کا مشہور ترین قصیدہ قصیدہ لامیہ کے عنوان سے مشہور ہے۔

سید البطحاء جناب ابوطالبؑ کی تاریخ وفات کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ شیخ طوسی 26 رجب دسویں بعثت کو روز وفات سمجھتے ہیں، یعقوبی ماہ رمضان میں حضرت خدیجہ کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت ابوطالب کی وفات کو حضرت خدیجہ کی وفات کے تیسرے دن قرار دیتے ہیں اور وفات کے وقت آپ کی عمر 86 یا 90 سال بتاتے ہیں، بعض مورخین 1 ذی‌ القعدہ اور بعض 15 شوال کو آپ کا یوم وفات قرار دیتے ہیں۔

آپ کی وفات کے دن پیغمبر اکرمؐ نے سخت گریہ فرمایا اور حضرت علیؑ کو غسل و کفن دینے کا حکم دیا اور آپؐ نے ان کے لئے طلب رحمت کی دعا کی۔ جب حضرت محمدؐ حضرت ابوطاب کے دفن کی جگہ پہنچے تو فرمایا: اس طرح آپ کی مغرت اور شفاعت کے لئے دعا کرونگا کہ جن و انس حیران رہ جائے۔ آپ کے جسد خاکی کو مکہ میں آپ کے والد گرامی عبدالمطلب کے ساتھ قبرستان حُجون میں سپرد خاک کیا گیا۔

پیغمبر اکرمؐ نے حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ(س) کی وفات کے سال کو عامُ الحُزْن کا نام دیا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 1 =