۵ خرداد ۱۴۰۱ |۲۴ شوال ۱۴۴۳ | May 26, 2022
علامہ سبطین سبزواری

حوزہ/ صدر شیعہ علماءکونسل پنجاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بغیر کسی مقدمہ کے جبری طور پر لاپتہ اور قید رکھنا غیر آئینی ،غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل ہے،بڑھتی ہوئی لاقانونیت سے لگتا ہے پاکستان خود مختار ملک نہیں، بیرونی اداروں کی کالونی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ کسی بھی انسان کو بغیر کسی مقدمہ کے جبری طور پر لاپتہ اور قید رکھنا غیر آئینی ،غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل ہے۔جبری گمشدگی کے کیسوں میں اضافہ ریاست پاکستان اور عوام کے لئے تشویشناک ہے۔

علامہ موصوف نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اگر کوئی شخص قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے کو کسی بھی مقدمے میں مطلوب ہے، تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے ٹرائل کیا جائے۔لیکن سالہا سال سے جبری طور پر پر لوگوں کو حراست میں رکھنا، ان کی فیملی کے افراد سے ملاقات نہ کروانا، ان کی زندگی کے بارے میں شکوک و شبہات کہ وہ زندہ ہیں بھی یا قتل کر دیئے گئے ہیں، یہ ملک میں ریاست کے اندر ریاست کی بدترین مثال ہے۔ 

جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے احتجاجی دھرنے کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، حکمرانوں اور جمہوریت کے منہ پرطمانچہ ہے۔ اور بڑھتی ہوئی لاقانونیت سے لگتا ہے کہ پاکستان آزاد اور خود مختار ملک نہیں ،بیرونی اداروں کی کالونی ہے۔ ہمارا سوال ہے ریاستی اداروں سے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے تو کس بنیاد پر قومی خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں ۔ افسوسناک بات تو یہ بھی ہے کہ ابھی تک عدالتیں بھی جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن نہیں بنا سکیں۔ جس سے لگتا ہے کہ اغوا کرنے والے عدالتوں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 3 =