۱۵ اسفند ۱۴۰۲ |۲۴ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 5, 2024
News ID: 367317
5 اپریل 2021 - 20:23
حکومت پاکستان میں شہری حقوق

حوزہ/ اگر حقوق کی جد و جہد کرنا جرم ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام استعمال کرنا چھوڑ دو، آئین و قانون کی بات کرنا چھوڑ دو، سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکو، حکومت وقت کے خلاف بغاوت کے نام نہاد جرم میں گرفتار کرو اور قتل کردو۔

تحریر: مولانا شاہد عباس ہادی 

حوزہ نیوز ایجنسی شہری حقوق کا تذکرہ جب بھی ہوتا ہے تو ایک آزاد اور امن پسند معاشرہ ذہن میں آتا ہے، جس میں بسنے والوں کو حکومت یا ریاستی طاقت کی جانب سے کسی بھی حق تلفی، زیادتی و ظلم سے پناہ حاصل ہوتی ہے، معاشرے کے ہرفرد کو اپنی زندگی میں سیاسی و غیر سیاسی کردار ادا کرنے کی قانونی آزادی ہوتی ہے، اجتماعات اور رائے دینے کی مکمل آزادی اور صنفی، مذہبی، نسلی، امیر، غریب، جاہل و تعلیم یافتہ سمیت تمام اقسام کے امتیازی سلوک کی نفی ہوتی ہے اور ریاست ہر فرد کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ 

جبری طور پر لاپتہ کردینا اور چوبیس گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش نہ کرنا آئین پاکستان میں درج عوام کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے، آرٹیکل 10 کے تحت ہر اس شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو اور نظر بند رکھا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری سے چوبیس گھنٹے کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہوگا۔ اس غیرقانونی کاروائی کا ارتکاب کرنے والے ادارے مجرم ہیں، وہ قانون کی بالادستی کے محافظ نہیں لٹیرے ہیں۔ آئین پاکستان کے مطابق اجتماعات کرنے، اظہار رائے کرنے اور حقوق کی جد و جہد کرنے کی مکمل آزادی ہے مگر ہمارے ملک کا آئین و قانون اندھا ہوچکا ہے، انسانی حقوق پیروں تلے روند دیے جاتے ہیں، آزادی اظہار رائے کو سلب کرلیا جاتا ہے، عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا جاتا ہے، پرامن اور محب وطن شہری کو مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ اگر لاپتہ ہونے والوں کا جرم یہ ہے کہ شام گئے تھے یا جانے والے ہیں؟ تو آنکھوں سے پٹی ہٹائی جائے اور بتایا جائے کہ کیا یہ ہمارا اعتقادی حق نہیں ہے؟ کیا مذہبی حق نہیں کہ حرم سیدہ زینب کی حفاظت کیلئے قدم اٹھایا جائے؟ کیا ہمارا آئینی حق نہیں کہ داعشی دہشتگردوں کو پاکستان آنے سے پہلے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے؟ تم لوگ کس قانون کے تحت محب وطن شہریوں کو مجرم بنا رہے ہو؟ کس منہ سے محافظ کہلاتے ہو جبکہ ایک شہری کے حقوق کا تحفظ نہیں کرسکتے؟ کس منہ سے امن کا نعرہ بلند کرتے ہو جبکہ ایک شہری کے گھر کی دیواریں پھلانگ کر آرٹیکل 14 کو ہوا میں اڑا دیتے ہو؟ 

یہ ظلم ہے کہ کہتا ہوں ظلم کو صاف ظلم 
کیا ظلم کررہا ہوں!!! مجھے مار دیجیے

اگر حقوق کی جد و جہد کرنا جرم ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام استعمال کرنا چھوڑ دو، آئین و قانون کی بات کرنا چھوڑ دو، سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکو، حکومت وقت کے خلاف بغاوت کے نام نہاد جرم میں گرفتار کرو اور قتل کردو۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .