۳ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 25, 2021
News Code: 367443
10 اپریل 2021 - 03:14
مولانا ارشد حسین آرمو

حوزہ/ اسلامی قانون میں ایک بی شعور انسان کبھی بھی سرپرست نہیں بن سکتا مگر جب کسی سماج میں ایسا شخص سرپرست بن جاتا ہے تو اس سماج میں جہالت، فساد، فتنہ کی فتح ہوتی ہے۔ 

تحریر: مولانا ارشد حسین آرمو

امیر،فقیر، مرد وزن، پیر و جوان ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں جس کا نام بی شعوری ہے۔ صاحبان علم ہو یا کسی فیکٹری میں کام کرنے والا سادہ ملازم، ملک کا صدر ہو یا باشندہ سب اس بیماری کے چنگل میں آتے ہیں۔ ان کی شناخت کے لئے، ہمیشہ ان کی زبانوں پر ایک جملہ ہوتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں میں جانتا ہوں باقی سب بی عقل و فہم ہیں۔ یہی وجہ ہے یہ لوگ دوسروں سے متکبرانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور جھوٹی عزت اور اقتدار کے حصول کے چکر میں سادہ لوح انسانوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ جسطرح نشہ آور چیزیں انسان کی ذہن سے حلال و حرام، عفت و حیا کو ختم کر دیتی ہیں اسی طرح بی شعوری بھی انسان کو انسانیت سے نکال کر حیوان صفت بنا دیتی ہے۔ چونکہ ایک بی شعور انسان سب کو جاہل اور نادان سمجھ بیٹھتا ہے جبکہ یہ خود بی شعوری جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہوا ہوتا ہے۔ 

اسلامی قانون میں ایک بی شعور انسان کبھی بھی سرپرست نہیں بن سکتا مگر جب کسی سماج میں ایسا شخص سرپرست بن جاتا ہے تو اس سماج میں جہالت، فساد، فتنہ کی فتح ہوتی ہے۔ 

نتیجہ جامعہ مفسد و جہالت اور فتنہ سے بھر جاتا ہے ایسی حالت میں چین و سکون ختم ہوجاتاہے۔ کس پہ کیا گزر رہی ہے کسی کو کوئی پرواہ نہیں ۔ مظلوم اور ظالم میں فرق نظر نہیں آتا۔عالم و جاہل میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اور یہ بی شعوری کی سب سے بڑی مصیبت ہے۔ اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطاء فرمائے۔ آمین

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 4 =