۱۰ مرداد ۱۴۰۰ | Aug 1, 2021
جموں و کشمیر میں فلسطینیوں سے ہمدردی جتانے پر 21 افراد گرفتار

حوزہ/ غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں ۔ان حملوں میں140 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنمیں درجنوں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ دنیا بھر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اظہار یک جہتی کیا جارہا ہے لیکن کشمیر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کی لوگوں کو اجازت نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں ۔ان حملوں میں140 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنمیں درجنوں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ دنیا بھر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اظہار یک جہتی کیا جارہا ہے لیکن کشمیر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کی لوگوں کو اجازت نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر پولیس نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے جرم میں اب تک 21 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ ایک سیبنئر پولیس افسر نے گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ اس دوران پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق عناصر کو فلسطین کی صورتحال کا فائدہ علاقے میں امن کو برباد کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جائےگا۔ گرفتار شدگان میں سرینگر کا مدثر گل نامی ایک جوان آرٹسٹ بھی ہے جس نے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک کتبہ تیار کیا تھا۔ اس کتبے کی تصاویر آن لائن عام ہونے کے بعد اس کتبے پر رنگ و روغن کرکے اسے ڈھک دیا گیا ۔ حکام کے مطابق ایک شخص کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں سے گرفتر کیا گیا۔

جموں و کشمیر میں فلسطینیوں سے ہمدردی جتانے پر 21 افراد گرفتار
اسرائیلی حملوں سے غزہ میں بھاری تباہی

واضح رہے کہ کشمیر میں فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی کا پرانا سلسلہ ہے۔2014 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران بھی وادی میں اسرائیل کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ سنیچر کو جاری بیان میں پولیس نے کہا ہیکہ فلسطینی حالات سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔ کشمر یونیورسٹی کے سوشل سائنس شعبہ سے جڑے ممبر کا کہنا ہیکہ فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 0 =