۲۸ مهر ۱۴۰۰ |۱۳ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 20, 2021
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

حوزہ/ سربراہ وفاق المدارس شیعہ پاکستان نے خطبہ جمعہ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی جس مقصد کے لئے بنائی گئی اب اس کا کچھ نہیں پتہ۔غیر موثرہوچکی ہے، اب بھی یورپی یونین کے اصرار پر امریکی صدر جنگ بندی کے لئے مجبور ہوا۔ دیگر چند مسلمان ممالک نے کچھ آوازبلند کی۔ مسلمان اب بھی ہوش میں آئیں ، اللہ کی طرف رجوع کریں۔ سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جو قوم اللہ کو بھلا دیتی ہے تو اللہ بھی اسے بھلا دیتا ہے اور وہ مختلف عذابوں، بلاﺅں کا شکار ہوجا تی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاﺅن میں خُطبہ جمعہ میں کہا کہ ہر نبی نے اللہ کی عبادت کی تبلیغ کی۔ اپنی اطاعت کا حکم دیا کہ ہم بتائیں گے اللہ کیا چاہتا ہے۔حضور کریم نے یہودیوں اور نصرانیوں کو توحید کی دعوت دی۔ اسلام نے دعوتِ توحید کی بنا پر دنیابھر میں غلبہ حاصل کیا۔مسلمان دنیا پر حاکم رہے ۔جب توحید کا دامن ہاتھ سے چھوڑا تو اب اس جیسی بے چاری قوم کوئی نہیں۔اسلام کی بجائے فرقوں پر زیادہ زور دینے کی وجہ سے ا مت پر زوال آیا۔

انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے اہل سنت میں وہابیت اور شیعہ میں شیخیت کے نئے فرقے بنائے ۔شیخیت کے مطابق اللہ نے مولا علیؑ میں نعوذ باللہ حلول کیا ہے۔اس کے بعد اہل سنت میں مرزائیت اور شیعہ میں ایران میں بہائیت کو وجود میں لایا گیا۔

حافظ ریاض نجفی نے افسوس کا اظہار کیا کہ وہابیّت نے پہلے کربلا پر حملہ کر کے اینٹ سے اینٹ بجا دی البتہ نجف اشرف میں اسے کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔لیکن 21 اپریل 1925ءکو مدینہ منورہ کا قدیمی قبرستان جنت البقیع منہدم کیا گیا جہاں حضرت عبدالمطلبؑ ، رسول اکرم کے اہل بیتؑ، ازواجؓ مطہرات، اصحاب ؓ کی قبور کو مسمار کیا گیا۔معصومینؑ کے حرم گرائے گئے۔آل سعودسرور کائنات کے روضہ کو بھی گرانا چاہتے تھے لیکن عوامی احتجاج کے ڈر سے اس پرعمل نہ کیا۔وہابی نظریہ کا مقصد مسلمانوں کو دینی مراکز، بزرگانِ دین سے دور کرنا تھا۔ اسی طرح مسجد کو بھی محدود وقت کے لئے کھولا جاتا ہے۔امام بارگا ہ کے لئے بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عربوں نے تعصب کی وجہ سے 1967ءمیں اسرائیل سے شکست کھائی۔عرب خود کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ غلط ہے۔ قرآن اس لئے عربی میں نازل ہوا کہ کسی عجمی زبان میں ہوتا تو یہ لوگ قبول نہ کرتے۔اب مسلمانوں کی بے بسی کا یہ عالَم ہے کہ اکیلا اسرائیل 57 مسلمان ممالک پر بھاری ہے۔ فلسطین کو تباہ و برباد کر دیا۔ البتہ حماس کی ثابت قدمی سے اسرائیل کو بھی ذلت و شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اس کا کافی نُقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی جس مقصد کے لئے بنائی گئی اب اس کا کچھ نہیں پتہ۔غیر موثرہوچکی ہے، اب بھی یورپی یونین کے اصرار پر امریکی صدر جنگ بندی کے لئے مجبور ہوا۔ دیگر چند مسلمان ممالک نے کچھ آوازبلند کی۔ مسلمان اب بھی ہوش میں آئیں ، اللہ کی طرف رجوع کریں۔ سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جو قوم اللہ کو بھلا دیتی ہے تو اللہ بھی اسے بھلا دیتا ہے اور وہ مختلف عذابوں، بلاﺅں کا شکار ہوجا تی ہے۔

حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ تمام انبیاؑءنے یہی بات ہر اُمّت کو سمجھائی کہ فقط خُدا کی عبادت کریں۔ رسول اکرم نے بھی توحید کو بنیادی اہمیت دی ۔آپ نے حکمِ خدا سے اہلِ کتاب کو دعوت دی کہ ”اے اہلِ کتاب ! اس کلمے کی طرف آ جاﺅ جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے ، وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے سوا آپس میں ایک دوسرے کواپنا رب نہ بنائیں“ (سورہ آل عمران )

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 4 =