۱۴ اسفند ۱۴۰۲ |۲۳ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 4, 2024
سید حسن رضوی

حوزہ/ مکتب تشیع کے مطابق فلسطین مسلمانوں کی مقدس زمین، بیت المقدس جہاں سے امام مہدیؑ باطل کے مقابل قیام کریں گے، جہاں صیہونی سوچ نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ضروری ہے کہ دین اسلام کے غلبہ اور مقدس مقامات کے تحفظ کی خاطر اجتماعی کوشش کرنی چاہئے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ/ مدرسہ امام المتقین تحت اشراف جامعہ المصطفی کی جانب سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور وحشی جنایت کار اسرائیلی درندوں کے خلاف، "حماس کی حمایت کی بنیادی وجہ اور شبہات کے جوابات" کے عنوان سے علمی نشست سے حجۃ الاسلام و المسلمین سید حسن رضوی نے طلاب اور مدرسہ کے مسولین سے خطاب کیا اور کہا کہ حماس کے متعلق مختلف زبانوں میں مختلف قسم کے شبہات جنم دیئے جا رہے ہیں جس سے مقصود حماس کی مقاومت ِ آزادی کو کچلنا اور عالمی سطح پر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت توڑنا ہے۔ اسرائیل نے معصوم نہتّے بچوں اور خواتین پر ظلم و بربریت کی جو تاریخ رقم کی ہے اس نے فرعون و نمرود کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت فلسطین اور حماس کی مخلصانہ حمایت اور بھر پور تسلیحاتی اور مالی مدد ایران، قوت مقاومت تشیع اور مختلف خطوں میں بسنے والے مسلمان بالخصوص مکتب تشیع کی جانب سے ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جہاں سفارتی و مالی و تسلیحاتی وسیع پیمانے پر مدد حماس کو کئی برسوں سے جاری ہے وہاں موجودہ حالات میں عالمی سطح پر امریکی برطانوی بلاک کے دباؤ کو ایران نے واضح موقف اور بیداری کی روش سے بڑی سطح تک ناکام بنایا ہے۔ حزب اللہ کے مسلسل راکٹ حملے اور جنوب لبنان سے جنگ کو بیروت تک منتقل نہ ہونے دینا اسرائیل کی اس شکست میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح یمن کی جانب سے اعلانِ جنگ اور اسرائیل بحری جہاز کو گرفت میں لینے نے اسرائیل کی عالمی سطح پر قوت کو توڑ دیا ہے۔ اگرچہ ان حالات میں بعض ممالک جیسے اردن، ترکی، سعودیہ ، ترکی و عرب امارات کا کردار انتہائی منفی رہا ہے اور اسرائیل کو تمام عسکری ، تسلیحاتی، غذائی و ایندھن کی فراہمی کے وسائل ترکی اور بعض دیگر اسلامی ممالک سے فراہم کیے جا رہے ہیں جوکہ منافقانہ ضربہ ہے کہ جب عالم اسلام کو یہ ضرب لگی ہے کفر سینہ تان پر حاکم بنا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ مکتب تشیع کی بھر پور اور پُر زور حمایت توڑنے کے لیے اردو، عربی اور فارسی میں ایسے بے ضمیر لوگوں کی مدد لی گئی ہے جو فرقہ واریت کی دلدل میں خود بھی دھنسے ہوئے ہیں اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر صیہونی عزائم کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ شیعہ عوام میں حماس کے حوالے سے یہ ذہنیت بنائی جا رہی ہے کہ حماس ایک ناصبی، دہشت گرد اور صیہونی ہاتھوں میں فروخت جماعت ہے اور حماس کے اس حملے سے مقصود حقیقت میں اسرائیل کے قبضے کی راہ ہموار کرنا تھا !! اگرچے یہ شبہ بنصرت الہٰی کامیاب نہیں ہوا لیکن اس شبہ کے ردّ میں چند نکات عرضِ خدمت ہیں:

۱۔ آئمہ اہل بیتؑ نے ناصبی اور مخالف رائے رکھنے والے میں واضح فرق کیا ہے۔ آئمہ اطہارؑ کی ہر دور میں وحدت کا قیام اور اسلامی معاشرہ کی امن و سلامتی کی کوشش رہی ہے۔ معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ ولایت سے اختلاف رکھنے والے خلافت کے معتقد حضرات کے جنازوں میں شرکت کرو، ان کی امانتوں کو ادا کرو، ان کے لیے گواہی دو، ان کے مریضوں کی عیادت کرو جیساکہ معاویہ بن وہب کی معتبر حدیث میں امام صادقؑ سے راوی کے سوال کے جواب میں وارد ہوا ہے۔ راوی نے یہی سوال پوچھا کہ ہم امامت میں اختلاف رکھنے والوں سے کیسا میل جول رکھیں تو امامؑ نے جواب میں معاشرتی زندگی آباد کرنے والے امور کی رہنمائی فرمائی۔ .1

اسی طرح معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ مساجد میں تم لوگ نماز پڑھا کرو اور اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو اور ان کے لیے گواہی دو اور ان کے جنازوں میں شرکت کرو،.2 جیساکہ اس حدیث میں امام صادقؑ سے وارد ہوا ہے۔ اس حدیث میں مساجد میں نماز پڑھنے کی تاکید ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ امام صادقؑ جس معاشرے میں زندگی بسر کرتے تھے وہ معاشرہ اہل سنت کی مساجد سے پُر تھا۔ گویا امام صادقؑ انہی اہل سنت مساجد میں آمد و رفت کا حکم دے رہے ہیں۔ روضۃ الکافی کی پہلی حدیث جو تین سندوں سے آئی ہے اس میں امام صادقؑ تکرار اور تاکید کے ساتھ فرماتے ہیں کہ جب اپنے مخالف طبقے میں زندگی بسر کرتے ہو تو اپنی زبان سنبھال کر رکھو اور اختلافی امور میں تقیہ کرو جبکہ وہ دین ظاہر کرو جو تمہارے اور دوسروں کے درمیان مشترک ہے۔ .3

۲۔ حماس کسی صورت سے ناصبی جماعت نہیں بلکہ اہل بیتؑ سے محبت کرنے والی جماعت ہے۔ فلسطین میں اگرچہ اہل حدیث مسلک زیادہ اور چند فیصد تشیع موجود ہے لیکن اس یہ اہل حدیث محبِ اہل بیتؑ اور آئمہ اہل بیتؑ کا احترام کرنے والے ہیں۔ غزہ اور فلسطین میں کئی مساجد، اسکولوں اور گلیوں کے نام جناب فاطمہؑ ، امام حسنؑ و حسینؑ اور امام علیؑ کے نام پر ہیں۔ ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کے اپنے نام اہل بیتؑ کے نام پر ہیں۔ پس حماس پر ناصبیت کا فتوی لگانا باطل عمل ہے۔ اسی طرح بعض ایسے افراد جو ہماری بزم میں شامل ہوجاتے ہیں اور روایات سے کھیلتے ہوئے علمی خیانت سے کام لیتے ہیں، مثلا ناصبیوں کے بارے میں آنے والی احادیث کے آغاز سے ناصبی کا لفظ ہٹا کر یا حدیث کا سیاق نظر انداز کر کے وسط اور آخر حدیث کا حصہ پڑھ کر حماس پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو ابھارتے ہیں کہ شہداء غزہ و فلسطین کے لیے دعا نہ کی جائے !! امام معصومؑ معتبر احادیث میں جنازوں میں شرکت اور عیادت کا حکم دیتے ہیں جو کہ سراپا دعا ہے اور یہ نام نہاد فرقہ باز مظلوم کے حق میں دعا کرنے سے منع کر رہے ہیں !

۳۔ حماس کی حمایت کی بنیادی وجہ أئمہ اہل بیتؑ کی تعلیمات اور سیرت امام علیؑ ہے۔ امام علیؑ نہج البلاغہ میں امام حسن ؑ و حسینؑ کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مظلوم کے حامی اور ظالم کے دشمن بن کر جینا۔ اسی طرح امام علیؑ نے اسلامی معاشرہ میں امنیت و سلامتی کے لیے اپنے حق کے چھننے کو قبول کیا لیکن مقابلے میں کوئی گروہ بنانے کو قبول نہیں کیا۔ پس مظلوم کی حمایت چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس کی بنیادی وجہ قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات ہیں۔ اسی طرح حماس اور فلسطینی اپنے موقف میں حق پر ہیں اور مکتب تشیع کی تمام تعلیمات کا دارومدار حق کو قبول کرنا اور حق کا ساتھ دینا ہے۔ پس حق کا ساتھ دینے والی آیات و احادیث ہمیں ابھارتی ہیں کہ اسرائیل کے مسئلہ میں حماس کی بھرپور حمایت کی جائے۔

۴۔ مکتب تشیع کے مطابق فلسطین مسلمانوں کی مقدس زمین، بیت المقدس جہاں سے امام مہدیؑ باطل کے مقابل قیام کریں گے، جہاں صیہونی سوچ نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ضروری ہے کہ دین اسلام کے غلبہ اور مقدس مقامات کے تحفظ کی خاطر اجتماعی کوشش کرنی چاہئے۔

۵۔ صیہونی یہودی اور دیگر یہودیوں میں فرق کرنا ضروری ہے ۔ اسرائیل صیہونی سازشی یہودی عناصر کی ناجائز مملکت ہے جو اسلام اور مسلمان کو تباہ کرنے کی عالمی سطح پر سازش ہے۔ یہودی سے اہل اسلام کا اختلاف ہے لیکن جنگ نہیں لیکن صیہونی کے ساتھ اسلام و مسلمان بالخصوص مکتب تشیع کی جنگ ہے۔ اسی وجہ سے مراجع عظام رہبر معظم و آیت اللہ سیستانی نے اسرائیل کی مدد کرنے والی کمپنیوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔

۶۔ الکافی میں معتبر احادیث میں وارد ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اسے مسلمانوں کے امور کا کوئی خیال نہ ہو تو وہ شخص مجھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ .4 اسی طرح معتبر حدیث میں ہے کہ کسی شخص کے کانوں تک کسی مسلم کی مدد کی پکار پہنچے اور وہ اس کی مدد کے لیے حرکت نہ کرے اور کوئی جواب نہ دے وہ شخص مسلمان نہیں۔. 5 آئمہ اہل بیتؑ کی یہ تعلیمات واضح طور پر ہمیں یہ نظریہ دیتی ہیں کہ ہم مسلمان کے پشت پناہ بنیں اور اس کی مشکل کو حل کریں اور ایک امت اسلامیہ کی نگاہ سے اہل اسلام کو دیکھیں اگرچے خلافت و امامت کے مسئلہ پر اختلافی رائے دلائل کے ساتھ رکھ سکتے ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم امت اسلامیہ کا شیرازہ بکھرنے دیں، کفر کو غالب آنے دیں اور عالم اسلام پر صیہونی ابلیسی عناصر کو حاکم ہونے دیں !! بلکہ اہل بیتؑ باطل کے خاتمہ ، ظلم کی سرکوبی اور طاعوت سے اجتناب کا عملی و فکری درس طول زندگی دیتے رہے ہیں پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کا پیرو فرقہ واریت کی سازش کا شکار ہو کر آئمہ اہل بیتؑ کی راہ و طریق کو ترک کر بیٹھے !!

منابع

1. الکافی ج ۲، ص ۶۳۵ ، حدیث ۲

2.الکافی میں ج ۲، ص ۶۳۵، حدیث ۱
3. الکافی، ج ۸، ص ۲، حدیث ۱
4. الکافی، ج ۲، ص ۱۶۳، حدیث ۱
5. الکافی، ج ۲، ص ۱۶۴، حدیث ۵

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .