۲۸ خرداد ۱۴۰۰ | Jun 18, 2021
News Code: 369439
11 جون 2021 - 20:50
مولانا علی اختر اصفہانی ہندی

حوزہ/ حضرت فاطمہ معصومہ (س) اپنی جدہ حضرت  فاطمہ زہرا (س) کی طرح برجستہ مقام اور بہت سی خصوصیات کی مالک تھیں اگر پیامبر عظیم الشان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےاپنی نیک دختر حضرت  فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کو "فداها ابوها"کہ کر خطاب فرمایا تو وہیں دوسری طرف آپ کے والد محترم حضرت موسی بن جعفر علیہم السلام نے بھی آپ کو متعدد مرتبہ مختلف مقامات پر " فداها ابوها فداها ابوها فداها ابوها" کہہ کر یاد فرمایا ہے۔

تحریر: مولانا علی اختر اصفہانی ہندی

حوزہ نیوز ایجنسیحضرت فاطمہ معصومہ (س) اپنی جدہ حضرت  فاطمہ زہرا (س) کی طرح برجستہ مقام اور بہت سی خصوصیات کی مالک تھیں اگر پیامبر عظیم الشان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےاپنی نیک دختر حضرت  فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  کو "فداها ابوها"کہ کر خطاب فرمایا تو وہیں دوسری طرف آپ کے والد محترم حضرت موسی بن جعفر علیہم السلام نے بھی آپ کو متعدد مرتبہ مختلف مقامات پر " فداها ابوها فداها ابوها فداها ابوها" کہہ کر یاد فرمایا ہے۔

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا فضائل، مراتب و مقامات عالیہ کا مظہر ہیں۔
ہم اپنی اس تحریر میں بطور نمونہ آپ کے برجستہ فضائل کو ذیل میں قارئین کی خدمت میں بیان کررہے ہیں۔
1۔ مقام عصمت و طہارت حضرت معصومہ
حق شفاعت اور مقام عظمی تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ خداوند  متعال  ہی حق شفاعت خود خداوند کریم کی طرف سے دیاہوا عطیہ ہے۔ ارشاد رب العزت ہے: یومئذ لا تنفع الشفاعة الا من اذن له الرحمن(سورہ طہ آیت 105) اس روز کسی کی بھی شفاعت   قبول نہیں کی جائے گی مگر جسے خدا کی ذات نے شفاعت کا حق دیا ہوگا وہ ہی شفاعت کرسکتا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ  یہ اذن شفاعت صرف ان لوگوں کو ہی دیا جاتا ہے جو سب سے مخلص اور قرب الہی کے  بالا درجہ تک پہنچ  جاتے ہیں۔ ان افراد میں جن کو حق شفاعت حاصل ہے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔
جیسا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام آپ کی شان میں ارشاد فرماتے ہیں:
"مَنْ زَارَ الْمَعصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنى"(ناسخ التواریخ،ج2،ص  68)   جس  کسی نے بھی شہر قم میں معصومہ کی زیارت کی تو گویا اس نے میری زیارت کی۔

امام معصوم کی جانب سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو  یہ شان و منزلت حاصل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ مقام عصمت پر  بھی  فائز تھیں کیوں کہ  معصوم   کبھی بھی غیر منطقی کلام نہیں کرتا ہے اور معصوم کا  کلا م  ہمیشہ  پتھر کی لکیر ہوتا ہے۔
2-پیشنگویی امام صادق ؑ قبل از ولادت معصومہ
حضرت معصومہ کی منزلت  کا  اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ  امام صادق علیہ السلام نے  آپ کی آمد کی  خوشخبری اپنے  فرزند عزیز موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت سے پہلے ہی بیان کردیا تھی۔
جیسا کہ کتاب منہاج الدموع میں بیان ہوا ہے کہ  امام صادق علیہ السلام کا ایک خاص جاننے والا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے دیکھا کہ آپؑ گہوارہ میں کسی بچہ   سے کلام ارشاد فرما رہے ہیں تو اس کو بہت  ہی زیادہ تعجب ہوا اور کہنے لگا:
کیا  آپ اس نوزاد سے کلام کر رہے ہیں؟
تو   امام صادق ؑ نے اس شخص سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا :
ہاں! اگر تم بھی اس نوزاد سے باتیں کرنا چاہتے ہو  تو  اس بچہ کے قریب  جاؤ  اور جو کچھ بھی پوچھنا چاہتے ہو  پوچھ سکتے ہو۔
اس شخص کا بیان ہے کہ میں گہوارے کے قریب گیا اور سلام کیا   تو  اس بچہ نے سلام کا جواب دیا 
تو امام صادق علیہ السلام نے اس شخص سے ارشاد فرمایا:
تعجب مت کرو یہ بچہ جو ابھی تم   دیکھ رہے ہو  فرزند  موسی کاظم ہے اور اس کے بچہ کو ایک دن قم  میں   دفن کیا  جائے گا اور اس کی شفاعت سے تمام شیعہ بہشت میں داخل ہوں گے۔(منہاج الدموع،ص 441)
3۔دختر پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
وہ معروف ترین زیارت جو زیارت معصومہ  (س) کے نام سے منقول ہے :
السَّلامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ رَسُولِ اللّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ فاطِمَةَ وَخَدِيجَةَ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ الخ...
اس زیارت میں اور دوسری منفقول زیارتوں میں بھی آپ کو دختر رسول خدا صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم ،دختر فاطمہ(س)، دختر خدیجہ(س)ہ، دختر امیر المؤمنین(ع) اور دختر حسن و حسین(ع) کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
اس طرح کی نسبت دینا صرف   خاندانی فضیلت کی وجہ سے نہیں ہے  بلکہ  آپؑ خود تمام  کمالات معنوی و روحانی کا سرچشمہ تھیں یہ تمام دلایل اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خدا وند متعال  کے نزدیک  آپ کا مقام سب سے اعلی و ارفع ہے اور آپ بافضیلت خاتون ہیں۔
4-  اسوہ کاملہ
آپ  روحانی کمالات کے لحاظ سے   اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں میں علی بن موسی الرضا ؑ کے بعد دوسرے درجے پر فائز تھیں  یعنی آپ  کا   مقام و منزلت امام رضاؑ کے بعد دوسروں سے بلند و بالا تھا۔
روایت میں  صریحا بیان ہوا ہے کہ امام موسی بن جعفر علیہم السلام کی 18 بیٹیاں تھی اور  آپ  سب کی سرور  ہونے کے ساتھ ساتھ بھائیوں میں بھی امام رضا علیہ السلام کے بعد کوئی بھی آپ کا ہم پلہ نہیں تھا۔ 
محدث بزرگوار شیخ عباس قمی (رہ) دختران امام  موسی کاظم کے بارے میں لکھتے ہیں:
آج تک جو بھی روایات ہم تک پہونچی ہیں ان تمام روایتوں سے   یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ سب سے افضل و برتر سیدہ حضرت فاطمہ معصومہ تھیں جو معصومہ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔ 
اسی طرح سے شیخ محمد تقی تُستری، قاموس الرجال میں لکھتے ہیں کہ امام موسی کاظم ؑ  کی کثیر اولاد میں کوئی بھی  امام علی رضا علیہ السلام کو چھوڑ کر کوئی بھی  فضیلت اور کرامت میں حضرت معصومہ کا ہم پلہ نہیں تھا۔
اس مبارک موقع پر میں تمام مومنین کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتاہوں اور پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا گو ہوں پالنے واے آخری حجت کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہم سب کو ان کے اعوان و انصار میں شمار فرما آمین والحمدللہ رب العالمین۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 13 =