۲۸ خرداد ۱۴۰۰ | Jun 18, 2021
علامہ مقصود ڈومکی

حوزہ/ نظام ولایت و امامت کو عصر غیبت کبریٰ میں نظام ولایت فقیہ اور اسلامی جمہوریہ کے قالب میں ڈھال کر امام خمینی نے عظیم کارنامہ انجام دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کوئٹہ/ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ رہبر کبیر حضرت امام خمینی نے قرآن وسنت کی روشنی میں جو اسلامی حکومت قائم کی وہ اسلامی جمہوریہ کے اصولوں پر استوار ہے۔ کیونکہ اسلامی نظام حکومت میں عوامی رائے عامہ کو اہمیت حاصل ہے اسی لیے امام خمینی نے قوم کی رائے کو میزان اور معیار قرار دیا جبکہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو ملت کے فضائل اور کمالات کا نچوڑ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے جو اسلامی اصولوں کی روشنی میں زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام حکومت تشکیل دینے کا متقاضی ہے۔ نظام ولایت و امامت کو عصر غیبت کبریٰ میں نظام ولایت فقیہ اور اسلامی جمہوریہ کے قالب میں ڈھال کر امام خمینی نے عظیم کارنامہ انجام دیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی 42 سالا تاریخ میں 42 الیکشنز کا منعقد ہونا اس کی جمہوریت کی بہترین دلیل ہے۔ اقوام عالم کے لئے یہ امر تعجب کا باعث ہے کہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران بھی صدارتی انتخابات ہوں یا پارلیمنٹ قومی اسمبلی یا ماہرین کونسل کے الیکشن یا بلدیاتی الیکشنز میں ھنگامی حالات میں بھی کبھی ایک دن کی تاخیر نہیں ہوئی۔ جو کہ اسلامی جمہوریہ کا اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ بوجوہ مغربی جمہوریت سے بہتر برتر اعلی و ارفع ہے جہاں حکمرانوں کے انتخاب کا معیار ان کا اعلی کردار ہوتا ہے جبکہ مغربی جمہوریت ایک سراب ہے جس نے انسانیت کو امریکہ برطانیہ اور اسرائیل جیسے انسان دشمن نظام دیئے جن کا نچوڑ اوباما ٹرمپ اور نتن یاہو جیسے پست فطرت اور قاتل انسانوں کی صورت میں سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو مغربی جمہوریت کے سراب سے نکل قرآن وسنت کی روشنی میں جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ اسلامی جمہوری نظام کی طرف آنا ہوگا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 6 =