۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
مولانا تقی عباس رضوی

حوزہ/ ہمارے نوجوانوں کو شہدائے کربلا علیہم السلام کی سیرت میں اپنے لئے عملی نمونہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی،نائب صدر اہلِ بیت فاؤنڈیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مجلسیں آسمانی مخلوقات کے لیے باعث رشک ہیں، یہ رونقیں ارضی مخلوقات کے لیے باعث صد افتخار ہیں؛ کیوں کہ اس ذات گرامی کی سیرت کا تذکرہ ہورہا ہے جس نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہِ راست پر گام زن کیا، جس نے انسانیت ناشناس افراد کو گوش انسانیت کا معیار بنادیا، اس ذات بابرکت کے تذکرے کے باوجود زندگی میں تبدیلی کی لہر پیدا نہیں ہورہی ہےسیرت شہدائے کربلا سے اپنی عملی زندگی مزین کرنے کا عزم مستحکم لے کر اٹھیں۔

اپنی زندگی کو سیرت شہدائے کربلا سے مزین کرو

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیکیوں سے مزین ہوجانا اور برائیوں سے پرہیز کرنا ہی کربلا کی اصل پاسداری ہے،ہمارے پاس کربلا کی انقلاب آفریں آفاقی تعلیمات ایک عظیم دولت اور بے بہا سرمایہ ہے جس کے تقدس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان تعلیمات کربلا اور سیرت حسین  علیہ السلام کو اپنی عملی زندگی میں لانے کی کوشش کریں۔

مزید کہا کہ مجلسوں میں جاؤ تو یہ سوچ کر جاؤ اور فرش عزا پر بیٹھو تو یہ سوچ کر بیٹھو کہ یہ مجلسیں، یہ فرش عزا خداوندعالم کے مقرب بندوں کے آمد و رفت کی جگہیں ہیں، یہ فرشتوں اور آسمانی مخلوقات کے لیے باعث رشک ہیں، اس کی رونقیں، ارضی مخلوقات کے لیے باعث صد افتخار ہیں؛ کیوں کہ اس فرش مجلس پر ایسی عظیم المرتبت ہستیوں کا خاص کر اس ذات گرامی کی سیرت کا تذکرہ ہوتا ہے جس نے بھٹکتی اور سسکتی ہوئی انسانیت کو راہِ راست پر گامزن  کیا، جس نے انسانیت ناشناس افراد کو انسانیت کا معیار بنادیاجس نے اپنے خون سے حق و باطل میں واضح لکیر کھینچ کر دنیا والوں کو قیامت تک کے لئے یہ پیغام دے دیا کہ راہ خدا اور دین حق پر فنا ہوجانا بھی بقا ہے۔
ایسی ذات بابرکت کے تذکرے کے باوجود اگر ہماری زندگی میں تبدیلی کی لہر پیدا نہ ہورہی ہو تو پھر ہمیں اپنی مجالس و ماتم پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ تم کو خوش رکھے مجلس بپا کرو 
ہر ایک نیک کام کو تم بے ریا کرو

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .