۷ آذر ۱۴۰۰ |۲۲ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 28, 2021
مولانا سید عمار حیدر زیدی

حوزہ/ خواتین ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں انھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ خواتین جو گھر کے نظام کو بہتر بناتی ہیں ان کا کردار معاشرے کے نظام کو بہتر بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ہندوستان کے برجستہ عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید عمار حیدر زیدی مقیم قم المقدس نے کہا کہ امام زمانہ کا انقلاب عالمی انقلاب ہو گا لہذا امام ؑ کی حکومت پوری دنیا پر ہوگی اس کا احاطہ نہایت وصی پیمانے پر ہوگا تو اس لحاظ سے منتظر کی ذیمداریاں بھی زیادہ ہونگی لہذا ہمارا اس جہانی اور عالمی انقلاب میں کیا کردار ہو سکتا ہے اسکے لیے امام معصوم ؑ فرماتے ہیں ’’ یہ وہ انقلاب ہوگا جس سے اسلام اور اہل اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا‘‘ امام معصوم ؑ ایک منتظر کی ذمہ داریاں بیان فرما رہے ہیں کہ حکومت ِامام عصر میں نفاق و اہل نفاق کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

دعائے افتتاح میں امام فرماتے ہیں کہ:

پروردگارا ! ہمیں امام کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس انقلاب عصر اور حکومت عصر کی طرف دعوت دینے کی توفیق عطا فرما۔

مولانا موصوف نے کہا کہ ہماری ذمہ داری پھر کیا بنتی ہے جب ایک ایسی ہستی کے منتظر ہیں جو ہر چیز کو اسکے حاصل مقام دے گی تو ایسے میں ہماری کیا ذمہ داری ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم خود دیکھیں کے ہمارے وجود میں ہمارے اعمال میں، ہماری زندگیوں میں ہر چیز اسکے اصل مقام پر ہے یا نہیں؟ یعنی نماز ہے تو آیا وہ اس انداز سے ہے جیسی ہونی چاہیے ہماری زندگی کے دیگر اعمال ہم اس انداز میں انجام دے رہے ہیں جیسے دینے چاہیے لہذا سب سے پہلے ہمیں اپنی ذات میں اپنی زندگیوں میں ایک حقیقی منتظرامام بننا ہوگا اپنی زندگی میں تبدیلی لانا ہوگی۔لشکر امام میں خواتین بھی ہونگی اور ان کا کردار کیا ہوگا؟ 

مزید کہا کہ جیسے روایات میں ملتا ہے کہ جب کبھی پیغمبر میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم ان کے زخموں کو دھوتیں تھیں۔ اور جب علی علیہ السّلام خون  آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ زہرا السلام اللہ علیہا اسے دھو کر پاک کرتی تھیں۔

مولانا عمار حیدر زیدی نے کہا کہ خواتین ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہیں انھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ خواتین جو گھر کے نظام کو بہتر بناتی ہیں ان کا کردار معاشرے کے نظام کو بہتر بنانے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

مزید کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مردوں کہ مقابل خواتین روابط کو قائم رکھنے میں زیادہ فعال ہوتی ہیں لہذا عالمی انقلاب کو اور اسکے پیغام کو دوسرے مکتب فکر تک پہچانے میں اپنی مجالس،جشن کی محافل جو امام حجت عج سے متعلق ہوں تاکہ دوسروں کو بھی معلوم ہو کہ وہ ہیں اور ہم بے سہارا نہیں امام حجت صرف ہمارے نہیں بلکہ ان کے بھی امام ہیں تاکہ وہ بھی محسوس کر سکیں کہ وہ بھی بے سہارا نہیں انکا ولی و سرپرست موجود ہے تاکہ وہ بھی خود کو آمدہ کرسکیں اور امام حجت کے انقلاب کے لیے عقیدت انکے دلوں میں بھی موجود ہو جائے بس ہمارا کام اس محبت کو اس قدر عام کرنا ہے کے وہ نکھر کر سامنے آجائے، بس ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم جس جگہ بھی ہوں  کسی بھی  مقام و منصب پر ہوں   اپنے منتظر ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =

تبصرے

  • ghulam abbas PK 19:05 - 2021/09/12
    0 0
    the main hurdel for presence of imam mehdi are mujtahideen as they have not prepared the people for comming of imam mehdi while taliban have reestablished their khalafat bani umiyad and it is amazing for entire shias of the world that iran openly supported taliban who are army of yazeed