۵ بهمن ۱۴۰۰ |۲۱ جمادی‌الثانی ۱۴۴۳ | Jan 25, 2022
مجمع علماء وواعظین پوروانچل

حوزہ/ شکیل احمد نے معذرت و معافی مانگنے کے بجائے مکتب تشیع پر مزید حملہ کرنے کی جرأت کی ہے جو عذر گناہ بد تر از گناہ کے مترادف ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مبارکپور ،اعظم گڑھ(اتر پردیش ) ہندوستان/ مشہور فارسی مقولہ ہے’’ عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ اور عربی میں ہے ’’العذر اقبح من الذنب‘‘ یعنی گناہ کا عذر پیش کرنا بعض اوقات گناہ سے بھی بد تر ہوتا ہے ۔ اولا ًوہ کون ادارہ یا وہ کون سا شیعی طبقہ ہے جسنے وسیم ملعون کی مخالفت نہ کی ہو اور اسکو خارج از اسلام نہ مانا ہو۔ علاوہ اس کے اگر ملت تشیع سے ہونے کی بدولت یہ جر م ساری ملت کا ہے تو توہین قرآن کے ارتکاب کی اور شان رسالت وعصمت کاجرم سرزدہونےکی بنا پر سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی وجہ سے آپ کا سارا سماج اس جرم میں ملوث مان لیا جائے ؟بلکہ اس گھناؤنی حرکت کا آغاز اسی طبقہ سے ہوا اور ایسی صورت میں سوپ کو چلنی پہ ہنسنے کا حق کہاں سے رہ جاتا ہے ۔جبکہ پوری دنیا شاہد ہے ایسے مجرم اور فسادی افراد کے خلاف جرات مندانہ اقدام دسیوں ممالک اسلامی کے رہتے ہوئے بھی امام خمینی ؒنے اپنے مستحکم فتوے کے ذریعہ کیا جو مسلم الثبوت شیعہ اثنا عشری ہیں۔

ان خیالات کا اظہار مجمع علماء وواعظین پوروانچل کے ارکان مولانا ابن حسن املوی واعظ بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املو،مبارکپور، مولانا ناظم علی واعظ سربراہ جامعہ حیدریہ خیرآباد مئو ،مولانا مظاہر حسین محمدی پرنسپل مدرسہ باب العلم مبارکپور، مولانا شمشیر علی مختاری پرنسپل مدرسہ جعفریہ کوپا گنج مئو، مولانا سید سلطان حسین پرنسپل جامعہ امام مھدی اعظم گڑھ،مولانا سید صفدر حسین زیدی پرنسپل جامعہ امام جعفر صادق ؑ جونپور،مولانا سید ضمیر الحسن ا ستاد جامعہ جوادیہ بنارس،مولانا سید محمد عقیل استاد جامعہ ایمانیہ بنارس، مولانا کاظم حسین منیجر مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی مئو،مولانا تنویر الحسن امام جمعہ و جماعت شہرو ضلع غازی پور،مولا نا جابر علی قمی زنگی پوری امام جمعہ و جماعت پارہ ضلع غازی پور،مولانا محمد مہدی حسینی استاد مدرسہ باب العلم مبارکپور،مولانا کرار حسین اظہری استاد مدرسہ باب العلم مبارکپور، مولانا عرفان عباس امام جمعہ و جماعت شاہ محمد پور مبارکپور،مولانا سید حسین جعفر وہب امام جمعہ و جماعت سیدواڑہ محمدآباد گوہنہ مئو،مولانا سید محمد مہدی استاد جامعہ امام مھدی اعظم گڑھ،مولانا ڈاکٹر مظفر سلطان ترابی صدر آل یاسین ویلفیر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ مبارکپور، مولانا عارف حسین مبارکپوری،مولانا جاوید حسین نجفی مبارکپوری،مولانا غلام پنجتن مبارکپوری،صدرو القلم ویلفیر اینڈ اجوکیشنل ٹرسٹ مبارکپور،مولانا محمد رضا ایلیا سرپرست ادارہ تحقیقی مشن مبارکپور،مولا شبیہ رضا قمی مبارکپوری، مولانا اکبر علی واعظ جلال پوری امام جمعہ و جماعت میران پور اکبر پور مو لانا مہدی حسن واعظ جلال پوری، ۔مولانا رئیس حیدر واعظ جلال پوری مدیر و پرنسپل حوزہ ٔ علمیہ جامعہ امام الصادق ؑ کریم پور جلال پور،مولانا ظفرالحسن فخرالافاضل جلال پوری جنرل سکریٹری آل انڈیا شیعہ سماج ،مولاناسید عترت حسین واعظ اعظمی استاد جامعہ ناظمیہ لکھنو نے گستاخ ِامام مہدی ؑ شکیل احمد حیدرآبادی کے ایک دوسرے تازہ ویڈیو جس میں عذر اور صفائی پیش کرنے کے بجائے مزید تہمت لگائی ہے کے جواب میں مختصر مشترکہ بیانیہ میں کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے شکیل احمد نے معذرت و معافی مانگنے کے بجائے مکتب تشیع پر مزید حملہ کرنے کی جرأت کی ہے جو عذر گناہ بد تر از گناہ کے مترادف ہے۔ جب کہ وہ خود زیر سوال ہیں کہ آپ نے اپنے مکتب فکر کی ان دونوں فرد(رشدی اور نسرین) کو ابتک سنی سماج سے خارج ہونے کا اعلان کہاں اور کب کیا ہے ؟علاوہ اسکےآپ نے جو فرمایا کہ شیعہ مکتب کی ایک فرد نے ایسا کیا ہے جو سچ پر مبنی بھی نہیں ہے اور ہم نے تو حق اور سچ بات کہی ہے ہم تمھارے امام کے بارے میں کہیں گے اور تمھاری کتاب سے ہی کہیں گے ۔تو اولا تو آپ اپنی جہالت کا سدّ باب فرمائیں اسم جس کتاب کا لے رہے ہیں اس کتاب میں جملہ برہنہ کا آفتاب یا اس قصرکی صفت ہے نہ کہ نعوذ باللہ امام کے برہنہ ظاہر ہونے کی۔ آپکی عادت ہے بے سمجھے ہوئےرٹ کے پڑھنے کی نہ کھلی آنکھوں سے آپ لوگ کتاب کبریا پڑھتے ہیں نہ مکتب تشیع کی کتب۔ دوسرے یہ کہ اگر کوئی گالی سے اپنی زبان گندہ کرے تو اسکا مطلب یہ کہاں سے نکلا کہ ہم بھی ا پنی زبان گندی کر لیں۔ رہی بات حق کی تو مجھکو یہ حر کتیں آپ کے مکتب میں بکثرت مشاہدہ میں آئی ہیں کہ آپ کے یہاں نبیؐ کا بظاہر احترام ہو بھی جاتا ہے مگر ذریتِ نبیؐ کا تو بالکل نہیں ۔لکھنے کو تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر جواب جاہلاں کے محاورے پر عمل کرتے ہوے آپ کے لئیے اتناہی کافی ہے۔

آخر میں اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جس طرح وسیم ملعون کے خلاف کوئی ٹھوس قانونی کارروائی نہیں ہو رہی ہے اسی طرح شکیل مردود کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔لہٰذا مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان فتنہ گروں کو جلد سے جلد گرفتار کرکے جیل مین بند کیا جائے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 1 =