۲۸ اردیبهشت ۱۴۰۱ |۱۶ شوال ۱۴۴۳ | May 18, 2022
حجت الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین صدیقی نے کہا: ازل سے لے کر آج تک خدا ہی قادر مطلق ہے اور ہماری امید اور بھروسہ خدائے بزرگ و برتر پر ہے اور انقلابِ اسلامی ان شاء اللہ حضرت مہدی (عج) کے انقلاب سے متصل ہو گا لہٰذا امید سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے اور خدا کی رحمت سے مایوسی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی اصفہان کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے اصفہان کی "انجمن فدائیان حسین (ع)" کے ہفتہ وار اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال نے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ بالِغُ أَمْرِهِ" یعنی خداوند اپنے کام میں کسی کا محتاج نہیں ہے اور نہ ہی اسے کبھی بھی ان آبادیوں کی کوئی ضرورت ہے۔ جیسا کہ سب نے دیکھا کہ خداوند متعال نے اصحابِ فیل یا صحرائے طبس میں امریکی کرائے کے فوجیوں کے ساتھ کیا کیا۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ "جو بھی ان سورتوں (جن کے شروع میں "سبّح یا یسبّح" آتا ہے) کی تلاوت کرے گا اپنے مرنے سے پہلے اسے امام زمان (عج) کی زیارت نصیب ہو گی۔ اب ایک انسان مومن اس سے بڑھ کر اور کیا چاہتا ہے کہ وہ اپنی جان دے کر اپنے امامِ کریم کی زیارت کر سکے۔ ان سوروں کی تلاوت کی دوسری خصوصیات میں یہ بھی آیا ہے کہ "اسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت بھی نصیب ہو گی۔

تہران کے اس امام جمعہ نے تسبیح الہی کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے مزید کہا: خداوند عالم نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایک ایسے قید خانے میں قید کیا کہ اس پیغمبر سے پہلے اور اس کے بعد کسی نے بھی ایسا قیدی نہیں دیکھا کیونکہ جب عذابِ خداوندی آنے والا تھا تو آپ نے لوگوں سے فاصلہ اختیار کرنا چاہا تاکہ کہیں وہ بھی غضبِ الہی کا شکار نہ ہو جائیں لیکن خدا کو یوں حضرت یونس کا بغیر اجازت کے جانا پسند نہ آیا۔

حجۃ الاسلام و المسلمین صدیقی نے کہا: آیت اللہ بہجت (رح) نے شیعوں اور حضرت زہرا (ع) کے درمیان تعلق کے بارے میں کہاہے کہ "تمام شیعہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد ہیں لیکن ان میں سے بعض "ناخلف" ہیں اور ایسی باعظمت ماں کی قدر و عزت نہیں کرتے"۔

انہوں نے آیہ شریفہ " وَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِینَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِینَ" کی تلاوت کرتے ہوئے کہا: اس آیت میں ہدایت کا مفہوم بیان کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا کہہ رہا ہے کہ "ہم راستہ دکھاتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ "خدا خود انسان کو ہاتھ سے پکڑتا ہے اور اسے ہدایت و نجات کی طرف لے جاتا ہے"۔

انہوں نے سورہ یوسف کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے اس سورہ کو "امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی سورہ" قرار دیا اور کہا: امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی غیبت اس وجہ سے ہے کہ کہیں ہمارے اندر امید کا چراغ خاموش ہونے نہ پائے کیونکہ ہمیں یہی معلوم ہونا کہ "ہمارا کوئی ہے"،اس سے ہمیں بہت تسلی ملتی ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 2 =