۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
مولانا علی حیدر فرشتہ

حوزہ/ ہم مجمع علماء خطباء حیدرآباد دکن حکومت کرناٹک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام مخالف اقدامات سے باز آجائے اور حجاب پر عملی پابندی کو فوری طور سے ہٹائے کیوں کہ مسلمان حجاب کو ترک نہیں کرسکتے ۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام مولانا علی حیدر فرشتہ سرپرست مجمع علماء خطباء حیدرآباد دکن نے کہا کہ ہندوستان کے صوبہ کرناٹک کی موجودہ حکومت حجاب کے تعلق سے اپنی اسلام مخالف سرگرمیوں کی جارحانہ طریقے سے نافذ کرنے میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے ۔اور قرآن اللہ کی کتاب ہے جوتمام بنی نوع انسان کے لئے رشد وہدایت کا سرچشمہ ہے ۔ اسلام میں حجاب کی بہت اہمیت ہے اور قرآن مجیدمیں پردہ کا سختی سے حکم دیا گیا ہے اور اس پر عمل کرنا ہرمسلمان عورت کا فرض ہے، حجاب انسان کو بری نظر اور فتنہ سے محفوظ بنادیتا ہے، حجاب عورت کوشیطان کے شر سے محفوظ بنادیاتا ہے، حجاب خدائی تقویٰ کی علامت ہے، حجاب تقوائے الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اس کے باوجود ہندوستان کے صوبہ کرناٹک کی موجودہ بی جے پی حکومت حجاب کے تعلق سے اپنی اسلام مخالف سرگرمیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جو جارحانہ طریقے اختیار کررہی ہے وہ حددرجہ قابل مذمت ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک کی بی جے پی حکومت مسلم طالبات کے حجاب کو آئینی حق کے خلاف مزید معاندانہ اقدام کرتےہوئے اس کو امن و قانون سے جوڑدیاہے جس کی عالمی میڈیا میں بھی سخت مذمت کی جارہی ہےکیوں کہ یہ حجاب مخالف راہ و روش نہ صرف اسلام و انسانیت کے خلاف ہے بلکہ ہندوستان کے دستور وآئین کے بھی سراسر خلاف ہے جس میں ہندوستان کے ہر شہری کو اس کے مذہب پر عمل کرنے کی ضمانت دی گئی ہے ۔

مولانا علی حیدر فرشتہ نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے ابھی تک اس مسئلہ پر کوئی مستقل حل نہیں پیش کیا تاہم اگلی سماعت تک کسی بھی قسم کے مذہبی لباس پرپابندی عائد کررکھی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلہ پر فوری طور پر جواب دینے سے انکارکردیا ہے ۔

ہم مجمع علماء خطباء حیدرآباد دکن حکومت کرناٹک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام مخالف اقدامات سے باز آجائے اور حجاب پر عملی پابندی کو فوری طور سے ہٹائے کیوں کہ مسلمان حجاب کو ترک نہیں کرسکتے ۔

جب کبھی غیرت انساں کا خیال آتا ہے
بنت زہراؐتیرے پردہ کا خیال آتا ہے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .