۱۸ آذر ۱۴۰۱ |۱۵ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 9, 2022
News Code: 377396
15 فروری 2022 - 00:47
سویرا بتول 

حوزہ/ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے مسلمان بھاٸی کا بے دردی سے قتل اسلامی معاشرہ کی تعلیمات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیاہمارے مدارس(چاہے وہ عصری ہوں یا دینی) مذہبی انتہا پسندی اور معتصبانہ ردعمل کو فروغ تو نہیں دے رہے؟

تحریر: سویرا بتول

حوزہ نیوز ایجنسی افتخار عارف صاحب کا یہ شعر رحمتِ سیدِ لولاکﷺ پہ کامل ایمان،امت سید لولاک سے خوف آتا ہے،زمانہ طالبِ علمی میں آٸینہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے مخصوص ادبی اندازمیں دہرایا کرتے تھے مگر اس شعر کا اصل مفہوم سانحہ میاں چنوں (تلمبہ) کے بعد سمجھ میں آیا جہاں ایک مقامی مدرسے میں توہینِ مذہب کے الزام میں ملزم کورسیوں سے باندھ کر تشددکا نشانہ بناگیا،نہایت سفاکی سے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹی گٸیں اور مرنے کے بعد بھی لاش کو کوبے دردی سے مارنے کا عمل جاری رہامزید یہ کہ لاش کو درخت سے لٹکا کر عبرت کا نشان بنایا گیا۔کہا جارہا ہے کہ ملزم ذہنی طور پر مفلوج تھا مگر ہمارا ذاتی خیال ہے کہ تشدد کرنے والے نہ صرف ذہنی معذور بلکہ مذہبی جنونیت کا شکار تھے۔توہینِ مذہب کی آڑ میں جان سے مار دینے والی تاریخ سے شیعان ِ علی سے زیادہ کون آشناہوگا۔ہمارے ہزاروں جوان جھوٹے مقدمات کی بنإ پر نہ صرف سولی پر چڑھاٸے گٸے بلکہ ہزاروں ایسے ہیں جو مذھبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گٸے۔چند عرصہ قبل ایک ایسی کتاب مرتب کرنے کا خیال آیا جس میں مکتبِ اہل بیت کے اُن شہدا کو شامل کیا جاٸے جو مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں جان سے مارے گٸے۔باخدا جب ہم نے اس کام پر تحقيق کرنے کا سوچا تو ایک لمبی فہرست تیار تھی جس میں فقط پنجاب کے شہرِ لاہور کے ہزاروں شہدا شامل تھے۔ ہمارے پاس آج بھی ایسے لاکھوں لوگوں کا ریکارڈ موجود ہے جو مذہبی انتہا پسندوں کی نظر ہوٸے اور جن میں ہزاروں ایسے ہیں جو آج بھی سالوں سے توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات کی مد میں زندان کی کال کوٹھڑیوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

سانحہ میاں چنوں کے بعد کافی دیر تک ہم میں کچھ کلام کرنے کی ہمت پیدا نہیں ہوٸی، ظلم اور بربریت کی ایسی مثال ،وہ بھی اپنے مسلمان بھاٸیوں کے ہاتھوں یقیناانسانیت کے منہ پر گہراطمانچہ ہے۔کافی دیر تک یہی سوچتے رہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی روایت کہاں سے چلی؟ یاد رہے کہ مذہبی جنونیت کی تاریخ نٸی نہیں ہے (بالخصوص تاریخِ اسلام میں)۔ صدرِ اسلام سے پہلے بھی لوگوں کے دلوں میں بنو ہاشم کے لیے کینہ وکدورت موجود تھی۔بعد ازرحلت رسول خداﷺ،یہ بغض و کینہ مزید نکل کر سامنے آیایہاں تک کہ میدانِ کربلا میں جب امام عالی مقام علیہ السلام نے فوجِ اشقیہ سے سوال کیا کیا میں نے تم پر کوٸی ظلم کیا ہے جو یوں مجھے دشتِ بیاباں میں مع اہل و عیال قتل کر رہے تو جواب آتا ہے کہ اے حسین علیہ السلام ہمیں علی سے دشمنی تھی جس کی ذولفقار نے بدرو حنین میں ہمارے اسلاف کومارا گویاکربلا میں دشمنی علی علیہ السلام سے تھی اور بدلے اولاد علی سے لیے گٸے۔کاش کہ ایسا ہوتا کہ تاریخ یہی پر خاموش ہوجاتی مگر بعداز کربلا بنو امیہ اور بنو عباس نے محبانِ علی پر زمین تنگ کر دی،مورخ خریدے گٸے، اپنی مرضی کی تاریخ وضع کی گٸی، آلِ رسول پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گٸے جس سے تاریخِ اسلام بھی شرماگٸی۔محبانِ آلِ رسول کو دیواروں میں چنوایا گیا، علی کا نام لینے پر موت کے گھاٹ اتاراگیا۔ گویا ثابت ہوا یہ سانحات صدیوں سے پیش آتے رہیں ہیں اور مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کی تاریخ نٸی نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے مسلمان بھاٸی کا بے دردی سے قتل اسلامی معاشرہ کی تعلیمات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیاہمارے مدارس(چاہے وہ عصری ہوں یا دینی) مذہبی انتہا پسندی اور معتصبانہ ردعمل کو فروغ تو نہیں دے رہے؟معاشرے میں ایسے سانحات چند ایک ہوں تو صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے مگر آٸے روز ایسے سانحات معاشرتی نفسیات کی عکاسی کرتے ہیں اور بالخصوص اسلامی معاشرے میں ایسے واقعات زیادہ تشویش ناک ہیں۔وہ مذہب جو امن وسلامتی، محبت، بھاٸی چارہ،اخوت ، عفوو درگزر، صلہ رحمی کا پیغام دیتا ہے اُس کے ماننے والے اس قدر انتہا پسند کیسے ہوسکتے ہیں؟وہ اسلام جس میں نہ صرف اقلیتوں بلکہ جانوروں کے حقوق بھی بیان کیے گٸے ہیں اُسی اسلام کے نام لیوا اپنے مسلمان بھاٸی کو اس سفاکیت سے قتل کیسے کر سکتے؟کیا معاشرے میں ایسے عناصر کو پنپنے کا موقع فراہم تو نہیں کیا جارہا جو عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں؟ ہم جو کل تک اپنے پڑوسی ملک کےہندو انتہا پسندوں پر جملے کس رہے تھے اس سانحہ پر کیا کہیں گے؟کیا ہمارے ملک کے جوان سالوں سے مذہبی جنونیت کی بھینٹ نہیں چڑھ رہے؟ کیا تکفیری فکر نے لاکھوں کی تعداد میں شیعہ مسلمانوں کا قتلِ عام نہیں کیا؟ اگر اربابِ اختیار نے اِس انتہا پسندانہ فکر کو نہ روکا تو مستقبل قریب میں فرقہ واریت اور معتصب روش جلد ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا دے گی۔

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے

شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہے
نئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے

وقت نے ایسے گھمائے افق آفاق کہ بس
محور گردش سفاک سے خوف آتا ہے

کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھے
ان دنوں عالم افلاک سے خوف آتا ہے

رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان
امت سید لولاک سے خوف آتا ہے

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 0 =