۱۴ اسفند ۱۴۰۲ |۲۳ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 4, 2024
بعثت

حوزہ/ بعثت سے مراد جبریلؑ کی حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے قرآن مجید کی نازل ہونے والی پہلی آیت کا تلاوت کرنا ہے۔ جب آپ کی عمر چالیس برس ہوئی(کہا جاتا ہے کہ یہی پیغمبروں کی بعثت کی عمر ہے) اس وقت جبرئیل علیہ السلام سب سے پہلی وحی لیکر نازل ہوئے:اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ…۔

تحریر: محمد صادق معروفی

حوزہ نیوز ایجنسی l

مقدمہ

اللہ کا دین دین اسلام ہے(آل عمران،۱۹)اس دین کو پہونچانے کے لئے اللہ نے وسیلے بنائے ہیں ،جن کو عقائد کی زبان میں انبیاءؑ،مرسلینؑ یا ائمہ اور معصومین علیہم السلام کہا جاتا ہے۔اس نے سب سے پہلے نبوت کے ذریعہ ہدایت کاسلسلہ جاری کیا جو سلسلہ تمام ہوتا ہے خاتم المرسلین ،سید النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکت پر، اللہ نے ان کو ایک عظیم مرتبہ پر فائز کیا اور تمام ذمہ داریوں کے ساتھ مبعوث کیا۔

بعثت کیا ہے؟

بعثت سے مراد جبریلؑ کی حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے قرآن مجید کی نازل ہونے والی پہلی آیت کا تلاوت کرنا ہے۔ جب آپ کی عمر چالیس برس ہوئی(کہا جاتا ہے کہ یہی پیغمبروں کی بعثت کی عمر ہے) اس وقت جبرئیل علیہ السلام سب سے پہلی وحی لیکر نازل ہوئے:اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ .......الخ (سورۃ العلق ۱تا۵)۔

مقاصد بعثت قرآن کی روشنی میں :

قرآن مجید میں اکثرمقامات پرمقصد بعثت بیان کیا گیا ہے۔ اور یہ بیان دو طرح سے آیا ہے:

(۱)وہ مقام جہاں رسولؐ یا نبیؐ کہہ کر خطاب ہوا ہےاور پھر مقصد بیان کیا گیا ہے۔

(۲) جہاں لفظ نبی ؐ یا رسولؐ(عہدہ)کا استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ وہاں ان صفات کا تذکرہ کیا ہےجو صفات ذات پیغمبر ﷺ سے مخصوص ہیں ۔

پہلی قسم

(۱) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ‎...اس خدا نےامیین میں ایک رسول بھیجا جو انھیں میں سے تھا ،تاکہ وہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے ،ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اگرچہ یہ لوگ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔

﴿سورۃالجمعۃ٢﴾

(۲) يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا. وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا...اے پیغمبرؐ ہم نے آپ کو گواہ، بشارت دینے والا، عذاب الہٰی سے ڈرانے والا، خدا کی طرف اس کے اذن سے دعوت دینے والا اور روشن چراغ بناکر بھیجا ہے ۔‎﴿سورۃ الاحزاب۴۵.٤٦﴾‏

(۳)هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ... وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو ۔‎﴿سورۃالتوبۃ٣٣﴾

(۴) إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا بیشک ہم نے تم لوگوں کی طرف تمہارا گواہ بناکر ایسارسولؐ بھیجا ہے جیسے فرعون کی طرف(موسیٰؑکو) رسول بناکر بھیجا تھا۔‎﴿سورۃ المزمل١٥﴾

(۵)لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ... یقیناً خدا نے صاحبانِ ایمان پر احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ان پر آیات الٰہیہ کی تلاوت کرتا ہے، ان کے نفسوں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ پہلے سے کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔﴿سورۃ آل عمران١٦٤﴾

دوسری قسم

(۶) اس آیت میں نبیؐ یا رسول ؐ کہہ کر خطاب نہیں ہوا ہے بلکہ نعمت الٰہی کے عنوان سے آپ کا تعارف کرایا گیا ہے: وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاكَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ...اوراللہ کی اس نعمت کو اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔ (سورۃآل عمران،۱۰۳)

مندرجہ بالاآیات قرآن سے ذیل مقاصد بعثت سامنے آتے ہیں :

۱.تلاوت قرآن کرنا۔

۲.تزکیہ ٔ نفس کرنا۔

۳. تعلیم (کتاب و حکمت)دینا۔

۴.شہادت وگواہی دینا۔

۵.نیک لوگوں کو جزا کی بشارت دینا۔

۶. برے افراد کو عذاب الٰہی سے ڈرانا۔

۷. خدا کے اذن سے اس کی طرف دعوت دینا۔

۸.گمراہی سے نکالنا ۔

۹.سیدھے راستہ کی ہدایت کرنا۔

۱۰. تمام ادیان عالم سے دین اسلام کو جدا کرنا۔

۱۱. دشمنی کو دوستی سے بدلنا۔

۱۲. ایک کو دوسرے کا بھائی بنانا۔

۱۳. آگ(جہنم) سے بچانا۔

مقصد بعثت احادیث کی روشنی میں

احادیث معصومین ؑ میں مقصد بعثت پیغمبرﷺ کو یوں بیان کیا گیا ہے:

(۱) پیغمبر اسلامﷺ خود ہی اپنے مقصد بعثت کو لوگوں کے سامنے ان الفاظ میں بیان کیا ہےاس حدیث کو علماء عامہ اور علماء تشیع نے اپنی معتبر کتب میں نقل کیاہے کہ آپؐ نے فرمایا:إنَّما بُعثتُ لأتمِّمَ مكارمَ الأخلاقِ...مجھے مکارم اخلاق کو مکمل کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے ۔

(۲)مولائے کائنات امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے بیانات میں ،خصوصاً نہج البلاغہ میں متعدد مقامات پر آپ نے مقصد بعثت کواس طرح بیان فرمایا ہےجس کے چند نمونے مندرجہ ذیل ہیں :

(ا)إِلَى أَنْ بَعَثَ اللَّه سُبْحَانَه مُحَمَّداً، رَسُولَ اللَّہ صلى‌الله‌عليه‌وآله لإِنْجَازِ عِدَتِه وإِتْمَامِ نُبُوَّتِه، مَأْخُوذاً عَلَى النَّبِيِّينَ مِيثَاقُه، مَشْهُورَةً سِمَاتُه كَرِيماً مِيلَادُه، وأَهْلُ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَةٌ، وأَهْوَاءٌ مُنْتَشِرَةٌ وطَرَائِقُ مُتَشَتِّتَةٌ، بَيْنَ مُشَبِّه لِلَّه بِخَلْقِه أَوْ مُلْحِدٍ فِي اسْمِه، أَوْ مُشِيرٍ إِلَى غَيْرِه، فَهَدَاهُمْ بِه مِنَ الضَّلَالَةِ وأَنْقَذَهُمْ بِمَكَانِه مِنَ الْجَهَالَةِ، ثُمَّ اخْتَارَ سُبْحَانَه لِمُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله لِقَاءَه، ورَضِيَ لَه مَا عِنْدَه وأَكْرَمَه عَنْ دَارِ الدُّنْيَا...

یہاں تک کہ اللہ نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے، اپنےسلسلۂ نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمدﷺکو بھیج دیا جن کے بارے میں انبیاء ؑسے عہد لیا جا چکا تھا، جن کی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود و مبارک تھی۔اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب،منتشر خواہشات اورمختلف راستوں پر گامزن تھے،کوئی خدا کو مخلوقات کی شبیہ بتا رہا تھا،کوئی اس کے ناموں کوبگاڑ رہا تھااور کوئی دوسرے خدا کا اشارہ دے رہا تھا،اللہ نے آپ کے ذریعہ سب کو گمراہی سے ہدایت دی اورجہالت سے باہر نکال لیا،اس کے بعد اس نے آپ کی ملاقات کو پسند کیا اور انعامات سے نوازنے کے لئے اس دار دنیا سے بلند کرلیا۔(نہج البلاغہ ۔خطبہ، ۱)

(ب) إِنَّ اَللَّهَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ وَ أَمِيناً عَلَى اَلتَّنْزِيلِ وَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ اَلْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وَ فِي شَرِّ دَارٍ مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وَ حَيَّاتٍ صُمٍّ تَشْرَبُونَ اَلْكَدِرَ وَ تَأْكُلُونَ اَلْجَشِبَ وَ تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَ تَقْطَعُونَ أَرْحَامَكُمْ اَلْأَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ وَ اَلْآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَةٌ

بے شک اللہ نے محمد ﷺ کو عالمین کے لئے نذیر(ڈرانے والا بناکر بھیجااوراپنی نازل کردہ(شریعت) کا امین بنا کر بھیجااور تم عرب کے لوگ برے دین پر قائم تھے، اور بد ترین علاقہ کے رہنے والے تھے۔نا ہموار پتھروں او زہریلے سانپوں کے درمیان زندگی گذار رہے تھے۔گندہ پانی پیتے تھے ، غلیظ غذا استعمال کرتے تھے،آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے اور قرابتداروں سے بے تعلقی رکھتے تھے، تمہارے درمیان بت نصب تھے اورتم گناہوں میں آلودہ تھے۔(نہج البلاغہ ۔خطبہ،۲۶)

(ج)إِنَّ اللَّه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ولَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ يَقْرَأُ كِتَاباً ولَا يَدَّعِي نُبُوَّةً فَسَاقَ النَّاسَ حَتَّى بَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ وبَلَّغَهُمْ مَنْجَاتَهُمْ فَاسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ واطْمَأَنَّتْ صَفَاتُهُمْ...

اللہ نے حضرت محمد ﷺکواس وقت مبعوث کیا جب عربوں میں نہ کوئی آسمانی کتاب پڑھنا جانتا تھا اور نہ کوئی نبوت کا دعویدار تھا۔آپ نے لوگوں کو کھینچ کران کے مقام تک پہنچادیا اور انہیں منزل نجات سے آشنا کرادیا،یہاں تک کہ ان کی کجی درست ہوگئی اوران کے حالات استوار ہوگئے۔(نہج البلاغہ خطبہ ۳۲)

(د)عن امیر المومنین علیہ السلام:ان اللّه تبارك و تعالى ارسل رسوله (صلّى اللّه عليه و آله) الى كافة الناس، و عليه ان يدعوهم و يهدي المؤمنين منهم الى صراط مستقيم... امیر المومنین ؑ سے روایت ہےکہ :بے شک اللہ نے اپنے رسولﷺ کو بھیجاتمام لوگوں کی طرف ،اس رسول کی یہ ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو (حق کی) دعوت دے،اور مومنین کی صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرے۔(عیون المعجزات ج۱ ص۳۷)

قرآن نے جو بعثت کے مقاصد بیان کئے ہیں زیادہ تر انھیں مقاصد کو معصومین علیہم السلام نےاپنی زبانی ا بیان فرمایا ہے،گویا قرآن صامت کی تصدیق کی ہے قرآن ناطق کی زبانوں نے۔

مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں مندرجہ ذیل مقاصد بعثت سامنے آتے ہیں :

۱.اخلاق کو مکمل کرنا۔

۲.وعدہ الٰہی کو مکمل کرنا۔

۳. نبوت کو اختتام تک پہونچانا۔

۴. جہالت سے نکالنا۔

۵. ضلالت وگمراہی سے نکالنا۔

۶. باطل کی پیروی سے روکنا۔

۷. متعددخداؤں کے ماننے والوں کوایک خدا کی عبادت پر مامور کرنا۔

۸.بھٹکے ہوؤں کو راہ نجات پر گامزان کرانا(نجات تک پہونچانا)۔

۹.صراط مستقم کی طرف ہدایت کرنا۔

نتیجہ: مختصر یہ کہ پیغمبر اسلام ﷺکواللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے دنیاو آخرت میں کامیاب بنانے کا وسیلہ و ذریعہ بنا کر بھیجا ہے، اگر انسان ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرلے تو زندگی بھی خوشگوار اور آخرت میں یقیناً اجر عظیم کا مستحق قرار پائے گا۔

وما توفیقی الاباللہ ...

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .