۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں جشن ولادت حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کا انعقاد

حوزہ/ عدل و انصاف پر مبنی حکومت کا تقاضا فطری ہے اور اس کے بارے میں ہر ایک میں تڑپ اور طلب موجود ہے، یہ نظام الہیٰ ہے کہ پیاس لگتی ہے تو پانی بھی خلق فرمایا ہے بھوک لگتی ہے تو کھانا بھی خلق فرمایا ہے ، تو اسی طرح اس عدل وانصاف پر مبنی حکومت کی طلب بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کی حکومت کے ذریعہ پوری کی جائے گی ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے المصطفی آڈیٹوریم میں ایسوسی ایشن آف مشتاقان نور کے اشتراک سے ایک عظیم الشان جشن میلاد کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی پر نور ساعتوں کا آغاز مشتاقان نور کے اراکین نے تلاوت قرآن مع ترجمہ و تفسیر سے کیا۔

جس کے بعد طلاب جامعۃ الکوثر کی پیش کردہ پر اثر تواشیح نے ایک سماں باندھ دیا۔ایسے میں معرفت حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کے موضوع پر ایک دستاویزی فلم پیش کی گئی۔دور حاضر میں عدل و انصاف کے فقدان سے بنی نوع انسان جس قدر پریشان ہے جامعۃ الکوثر کے ہونہار طالب علم عمار یاسر نے اپنے مقالے میں چہار سو سلگتی ہوئی اسی کیفیت کو مقالے کے قالب میں ڈھال کر نہایت عمدگی سے پیش کیا۔

جامعۃ اہلبیت کی پیش کردہ تواشیح سے بھی حاضرین کے قلب و نظر معطر ہوئے۔اس نورانی تقریب میں شیخ الجامعۃ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ نے خصوصی شرکت فرمائی۔آپ نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر الکوثر میں بھی عدالت کو انسانی فطرت کا خاصہ قرار دیتے ہوئے اس موضوع پر نئے نئے زاویوں سے سیر حاصل بحث فرمائی، جبکہ اس پروقار تقریب کو بھی اپنے خطاب مستطاب سے نوازتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا۔

شیخ الجامعہ مفسر قرآن علامہ شیخ محسن نجفی نے اپنی گفتگو کا آغاز سورہ نور آیت نمبر 55 سے فرمایا کہ زمین پر اچھے اعمال بجا لانے والوں کو ضرور خلافت عطا فرمائے گا، اور خوف کے بعد امن میں بدلے گا ، اور زمین پر صرف خدا کی بندگی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ یہ آیت امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کی عالمگیر حکومت کو بیان کرتی ہے کہ زمین پر ایک دن عدل وانصاف پر مبنی حکومت ہوگی، آخری نجات دہندہ کا تصور کم وبیش تمام ادیان عالم میں پایا جاتا ہے لیکن یہ مکتب اہلبیت علیهم السلام کا طرہ امتیاز ہے کہ اس میں تصور کے ساتھ حقیقی معنوں میں منجی بھی موجود ہے۔

چونکہ عدل و انصاف پر مبنی حکومت کا تقاضا فطری ہے اور اس کے بارے میں ہر ایک میں تڑپ اور طلب موجود ہے، یہ نظام الہیٰ ہے کہ پیاس لگتی ہے تو پانی بھی خلق فرمایا ہے بھوک لگتی ہے تو کھانا بھی خلق فرمایا ہے ، تو اسی طرح اس عدل وانصاف پر مبنی حکومت کی طلب بھی امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کی حکومت کے ذریعہ پوری کی جائے گی ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .