۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

حوزہ/ چیئرمین ایم ڈبلیو ایم پاکستان: ملک سنگین ترین دور سے گزر رہا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال اور سماجی سرگرمیوں میں انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھنا ہو گا۔ ملک و قوم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پوسٹوں سے دور رہا جائے جو مذہبی منافرت یاقومی انتشار کا باعث ہوں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اسلام آباد/ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ایم ڈبلیو ایم کے نو منتخب چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گی۔جس میں علامہ غلام حر شبیری ،سید ناصر عباس شیرازی،علامہ عبدالخالق اسدی علامہ نیئر عباس مصطفوی ،نثار علی فیضی ،ملک اقرار حسین ،علامہ اقبال بہشتی ، علامہ شیر علی انصاری ، علامہ عیسی امینی،علامہ ڈاکٹر یونس حیدری،علامہ علی اکبر کاظمی،آصف رضا ایڈوکیٹ سمیت راولپنڈی اسلام آباد کے ضلعی عہدیداروں اور کارکنان نے شرکت کی۔

شرکاء نے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو مجلس وحدت مسلمین کا چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور اسے ملت تشیع کے حقوق کے تحفظ اور قومی وحدت کے لیے اہم قراردیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تقریب کے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت کی طرف سے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے اس کو کبھی ٹھیس نہیں لگنے دی جائے گی۔انہوں نےکہاکہ مجلس وحدت مسلمین کے قیام کا مقصد قوم کے حقوق کا تحفظ، تکفیریت کا خاتمہ، وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور وحدت بین المسلمین کے لیے میدان عمل میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا ہے جس پر ہر حال میں قائم رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک سنگین ترین دور سے گزر رہا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال اور سماجی سرگرمیوں میں انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھنا ہو گا۔ ملک و قوم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پوسٹوں سے دور رہا جائے جو مذہبی منافرت یاقومی انتشار کا باعث ہوں۔مجلس وحدت مسلمین محض ایک شیعہ نمائندہ جماعت نہیں بلکہ ملک کی ایک ایسی ذمہ دار سیاسی و مذہبی جماعت ہے جس نے اپنی دانش و حکمت سے وطن عزیز کے ان دشمنوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنایا ہے جو مذہب و مسلک کے نام پر ملک کے گلی محلے میں نفرت کی آگ سلگانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اصولوں پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔وطن عزیز کے استحکام کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔حکمرانوں کی اقتدار پرستی نے ملکی معیشت کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا۔اگر معاشی بحران سے نکلنے کے لیے فوری اور مثبت اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو درپیش خطرات سنگین تر ہوتے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک ملک گیر کانفرنس کا انعقاد زیر غور ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 9 =