۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
مولانا تقی عباس رضوی

حوزہ/ اگر سوال کے طور پر یہ اپنے آپ سے پوچھا جائے کہ دینی مدارس، ہمارے سماج اور معاشرے کو کیادے رہے ہیں؟ تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں قدیم زمانے سے اب تک جو بھی دینی، تعلیمی، مذہبی ، تہذیبی وسماجی کام ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں اس کا محرک ہمارے علمائے کرام، مدارس علمیہ اور دینی ادارے ہیں

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی

حوزہ نیوز ایجنسی | اگر سوال کے طور پر یہ اپنے آپ سے پوچھا جائے کہ : دینی مدارس، ہمارے سماج اور معاشرے کو کیادے رہے ہیں؟

تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں قدیم زمانے سے اب تک جو بھی دینی، تعلیمی، مذہبی ، تہذیبی وسماجی کام ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں اس کا محرک ہمارے علمائے کرام، مدارس علمیہ اور دینی ادارے ہیں۔

دینی مدارس کے تحفظ اور ان کے استحکام کے ذریعہ ہی آئندہ نسلوں کو دین و ایمان کے صحيح راستے پر باقی رکھا جاسکتا ہے۔اس سے چشم پوشی کرنا اور اسلامی تعلیم و تربیت میں تغافل برتنا دونوں ناقابل معافی جرم ہے.

انھیں مدارس کا فیض ہے کہ ہمارے معاشرے میں اللہ و رسول کا چرچا ہے، حق و باطل کا امتیاز قائم ہے، دینی اقدار و شعائر کا احترام و تصور عوام میں موجود ہے... کبھی یہ مدارس علمیہ قوم اور مؤمنین کے رضاکارانہ عطیات و امداد سے چلا کرتے تھے مگر! اب یہ اس سرپرستی سے محروم ہے. افسوس اس بات کا ہے کہ قوم کے لوگ اب اس سے مجرمانہ بے اعتنائی برت رہے ہیں۔ حالانکہ مدارس میں قوم کے بچوں (طلبہ و طالبات) کو بلا معاوضہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو رہائش و خوراک اور مفت طبی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔کم از کم انہی چیزوں کے پیش نظر قوم کو آگے آنا چاہئے اور جو مدارس معاشرے اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں ان کی دامے درمے سخنے مدد کرنی چاہئے مگر حالت کچھ اور ہے جسے :

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

موجودہ دور خرافات اور تباہ کن برائی، بدعنوانی بداخلاقی، دینی اقدار سے بے اعتنائی اور بیگانگی کے امنڈتے سیلاب میں اپنے اور اپنی نسلوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کا سروسامان کرنے کے لئے سب سے پہلے دینی مدارس کے قیام کی کوشش کریں تاکہ اس کی شعاعوں سے گھر و خاندان اور معاشرے میں پھیلی جہالتوں اور برائیوں کی تاریکی دور ہوسکے۔

قابل قدر اور لائق احترام ہیں وہ لوگ جو دینی امور میں کھلے دل سے کام کرتے ہیں اور معاشرے میں دینی، فکری، سیاسی، سماجی بیداری کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =