۴ مهر ۱۴۰۱ |۲۹ صفر ۱۴۴۴ | Sep 26, 2022
خانه کعبه

حوزہ / رہبر انقلاب اسلامی نے "حج سے منصرف ہو جانے" کے متعلق پوچھے گئے استفتاء کا جواب دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے "حج سے منصرف ہو جانے" کے حکم کے متعلق اپنی نظر کو بیان کیا ہے۔ جسے ہم یہاں شرعی مسائل میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ذکر کر رہے ہیں۔

سوال: کیا حج کے اخراجات اچانک اضافہ ہو جانے اور حکومت سعودی عرب کی جانب سے اضافی چارجز کے مطالبے پر اس سال حج کے لئے رجسٹریشن کرنے والے شخص کو اضافی اخراجات بھی ادا کرنے چاہئیں یا وہ حج سے انصراف دے سکتا ہے؟

جواب: اگر اس شخص پر پہلے سے حج واجب ہو چکا ہے تو اسے ہر صورت میں اخراجات فراہم کرنے اور انہیں ادا کرنا چاہئے اور اگر وہ شخص اسی سال حج کے لئے مستطیع ہوا ہو اور اگر اس کے پاس ضروریاتِ زندگی کے علاوہ (اور جو کچھ اس کی شان کے مطابق اس کی معیشت کے لئے لازم ہے) اضافی اخراجات کے لئے رقم موجود ہو تو وہ مستطیع ہے ورنہ مستطیع نہیں ہے اور اس پر حج واجب نہیں ہوا ہے لہذا وہ حج سے انصراف دے سکتا ہے۔ ہاں اگر وہ قرض لے سکتا ہے اور آسانی سے قرض ادا بھی کر سکتا ہے (اگرچہ اس پر واجب نہیں ہے کہ وہ قرض لے کر اپنے آپ کو مستطیع کرے) اگر وہ قرض لے لے تو اس پر حج واجب ہو جائے گا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 12 =