۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
امام علی نقی الہادی ؑ

حوزہ/ حضرت امام علی نقی الہادی ؑ نے انفرادی اور ذاتی زندگی میںجہاں انسانوں کی رہنمائی فرمائی وہاں اجتماعی طرز زندگی اور حکمرانی جیسے معاملات میں بھی لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اسی لئے آپ کی سیرت آج بھی دنیا کے ہر انسان اور ہر معاشرے کے لئے مشعل راہ ہے اور نمونہ عمل ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امام علی نقی علیہ السلام کے یوم ولادت 15ذی الحجہ کے موقع پراہل اسلام کو تبریک پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ جب ہم کسی بھی امام کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ طاہرین نے پیغام رسالت کی پیروی اور لوگوں کواس سے روشناس کرانے کے لئے تمام تر مشکلات اور مصائب برداشت کرکے اپنی زندگیوں کو خدمت کے لئے وقف کیا اور اس راستے میں اپنی جان تک کے نذرانے پیش کئے۔ امام علی نقی الہادی ؑ نے انفرادی اور ذاتی زندگی میںجہاں انسانوں کی رہنمائی فرمائی وہاں اجتماعی طرز زندگی اور حکمرانی جیسے معاملات میں بھی لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اسی لئے آپ کی سیرت آج بھی دنیا کے ہر انسان اور ہر معاشرے کے لئے مشعل راہ ہے اور نمونہ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے منصب امامت پر فائز ہوکر قرآن کریم کے ساتھ ساتھ سنت و سیرت رسول اکرم اور امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سمیت اپنے اجداد سے ودیعت ہونے والے علم‘ مرتبے‘ منزلت‘ روحانیت اور عمل کے ذریعے اپنے وقت کے عام انسان‘ عام مسلمان اور حکمران کو رشد و ہدایت فراہم کی جس کے اثرات امام ہادی ؑ کے دور میںان کے معاشرے اور ماحول میں واضح انداز میں مرتب ہوئے اور لوگوں کی کثیر تعداد راہ حق اور سچائی کی طرف متوجہ ہوئی۔انہوں نے دین حق کی سربلندی اور انسانیت کی فلاح و نجات کے لئے قید و بند کی سختیاں برداشت کیں لیکن اپنے پاکیزہ ہدف و مشن سے پیچھے نہ ہٹے©۔اپنے جد امجد پیغمبر اکرم کی ایک حدیث ”ایمان دل میں ہوتا ہے اور اعمال اس کی تصدیق کرتے ہیں‘ جبکہ اسلام زبان سے اقرار کا نام ہے“ دین اسلام کی باریکیوں کو سب پر آشکار کرکے اصلاح نفس کی تعلیم عام کی۔

علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عالم انسانیت اور عالم اسلام کی ہدایت و رہنمائی اور احترام آدمیت کی بنیاد پر ایک انسانی معاشرہ کے قیام کی خاطر ہمیں چاہیے کہ حضرت امام علی نقی ؑ کی سیرت کا مطالعہ کرکے دکھی انسانیت کو مسائل سے نجات دلائیں اور حقیقی اسلامی و فلاحی سسٹم رائج کرکے عدل و انصاف سے مزین معاشرے تشکیل دیں اور اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کریں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .