۱۰ مهر ۱۴۰۱ |۶ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 2, 2022
ویبنار

حوزہ/ ایران اور برصغیر کے درمیان تاریخی تعلقات کے مطالعہ کے موضوع پر بین الاقوامی وبینار میں ان دونوں علاقون کے درمیان پانچ ہزار سالہ پرانے تعلقات پر تبادلہ خیال اور تاریخی ثقافتی تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی اسلام کی تاریخ کی انجمن اور قومی ادارہ برائے تاریخ ثقافت پاکستان نے ایران اور برصغیر کے درمیان تاریخی تعلقات (ماضی، حال اور مستقبل) پر ایک بین الاقوامی ویبینار کا انعقاد کیا۔

ایرانی اسلام کی تاریخ کی انجمن کے سربراہ ڈاکٹر سید احمد رضا خضری نے ایران اور برصغیر کے درمیان وسیع اور طویل تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی اسلام کی تاریخ کی انجمن اور قومی ادارہ برائے تاریخ ثقافت پاکستان کے درمیان دستخط کئے گئے معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔

قومی ادارہ برائے تاریخ ثقافت پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ساجد محمود اعوان نے اسلامی جمہوریہ ایران اور برصغیر کے درمیان پرانے پانچ ہزار سالہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں فارسی الفاظ اس دعوے کا بہترین ثبوت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فارسی ادب کے مختلف اسلوب اردو زبان میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں اور برصغیر کے لوگوں نے فارسی میں شاعری کی ہے جس کا بہترین مظہر علامہ اقبال کی نظموں میں دیکھا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ ان کا (اسرار خودی) مجموعہ نے برصغیر پر ایرانی ثقافت کے اثرات کو ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے ایران میں مغول، ترکوں اور دیگر خاندانوں کے دور حکومت سمیت مختلف ادوار میں ایران کے تاریخی تشخص کے تحفظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی اپنی تاریخی شناخت کو کھویا نہیں جو کہ ایک مضبوط نقطہ ہے۔

اس بین الاقوامی ویبینار کے ایک اور حصے میں لاہور کی جی سی یونیورسٹی کے صدر شعبہ فارسی ڈاکٹر محمد اقبال شاہد نے کہا کہ 1968 میں اس یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ہی اس یونیورسٹی اور برصغیر میں پہلی بار کے لئے فارسی زبان کا شعبہ قائم ہوا۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے شعبہ فارسی اور ایشائی اسٹڈیز کے سنٹر کے پروفیسر ڈاکٹر اخلاق احمد آہن نے برصغیر میں فارسی صحافت کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اردو میں اسی عنوان سے ایک کتاب کو لکھا ہے اور اس کا فارسی میں ترجمہ ہوچکا ہے اور شائع ہونے کا انتظار ہے۔

اس بین الاقوامی ٹیم کی انچارچ ڈاکٹر وفا یزدان منش نے اس ورچوئل فورم کے آخر میں کہا کہ جب رشتوں کی بات آتی ہے تو زیادہ تر ماضی کے رشتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور حال اور مستقبل پر کم ہی کہا جاتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ تعلقات ماضی میں بہتر رہے ہیں، اس لیے درحقیقت ہمارے پاس دو فرض ہیں: ان تاریخی ثقافتی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے زندہ رکھنا، اور اس پوشیدہ ورثے کو زندہ کرنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں جامعات، تحقیقی مراکز اور یونیورسٹی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 6 =