۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
علامہ جواد نقوی

حوزہ/ سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کا خطاب: پاکستان کی آج کی صورتحال کو ایک جملے میں بیان کریں تو یہ ترکیب بنتی ہے؛ "اندھی قوم, گندی سیاست اور ننگی شخصیات"

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اس وقت پورا ملک اقتدار کی ہوس میں مست لوگوں کی مٹھی میں یرغمال بنا ہوا ہے جو مفادات کے حصول کے لئے باقاعدہ منصوبے رکھتے ہیں۔ ان منصوبوں میں دہشت گردوں کو فرقہ واریت ، تشدد اورقتل و غارت کی نئی لہر ایجاد کرنے کی باقاعدہ دعوت بھی شامل ہے۔ ملک کے اندر موجود حکومتی عناصر ، سیاستدان، مذہبی طبقات، ریاستی ادارے اور بیرونی و غیر ملکی عناصر اس خیانت کا حصہ ہیں ۔دہشت گردی کے سلیپنگ سیل دوبارہ فعال کئے جا رہے ہیں جنہوں نے اپنی منتشر طاقت دوبارہ اکٹھی کر لی ہے ۔ملک کے اندر نہ تھمنے والے سیاسی فتنے نے یہ ماحول فراہم کیا ہے کہ ایک طرف سیاسی دہشت گرد و سیاسی نفرت و تشدد ابھارنے والے اور دوسری طرف سے مذہبی انتہا پسند و متشددین دونوں آپس میں مل کے پاکستان کی تباہی اور بربادی پر اکٹھے ہو گئے ہیں ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی آج کی صورتحال کو ایک جملے میں بیان کریں تو یہ ترکیب بنتی ہے: اندھی قوم, گندی سیاست اور ننگی شخصیات۔ شخصیات خواہ وہ سیکولر ہوں یا مذہبی، سیاست کے گند نے ان سب کو ننگا کر دیا ہے۔ اب یہ تیاریاں کریں گے اور یہ اندھی قوم اگلے الیکشن میں اسی گندی سیاست کے لیے اپنے لئے نئے ننگ خریدیں گے۔ یہی لوگ جو چور، کرپٹ و جھوٹے ثابت ہو چکے پھر انہی کے درمیان اقتدار چھنتا اور چلتا رہے گا اور اداروں کے اندر بیٹھے مفاد پرست لوگ اس سیاسی گندگی سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ ان گھٹیا مقاصد کی خاطر پاکستان، قوم، افواج، اداروں اور ہر چیز کو قربان کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے متوجہ کیا کہ یہی مفاد پرست ہیں جو اپنے مفادات کے لیے یہ فتنہ آگے بڑھا کے ابھی بھی اس کے حل کی طرف نہیں جا رہے اور گندے پانی میں مچھلی پکڑنے کے مصداق یہ اس طرف بڑھیں گے بھی نہیں چونکہ صاف پانی کی مچھلی شکاری ،اسکی ڈور، کنڈی اور جال کو دیکھ لیتی ہے۔ انکا منصوبہ یہ ہے جان بوجھ کر پانی گندہ رکھا جائے تاکہ مچھلی پکڑی جا سکے یہی حال ہماری سیاست کا ہے۔ سیاست کیوں اتنی گندی ہو گئی؟ اسلئے کہ اس گند میں کچھ نے مچھلیاں پکڑنی ہیں جو وہ صاف پانی میں نہیں پکڑ سکتے.اسی گند سے ہی انکا مفاد وابستہ ہےاس لیے وہ اس گند کو بیٹھنے اور تھمنے نہیں دیتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے نکلنے کا واحد راستہ عوام کا شعور ہے اور بیداری ہے۔ اندھی قوم کو چاہیے کہ اپنی آنکھیں کھولے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .