۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
علی اصغر

حوزہ/ پاکستان کے سرگودھا پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھنے والے اسلامک رائیٹر جناب علی اصغر ایک مستبصر جوان کے ساتھ ساتھ متعدد کتابوں جیسے "زادہ نجات" و "متولی کعبہ" اور "آغوش رحمت" کے مصنف بھی ہیں، موصوف نے اپنے ایران کے سفر کے دوران حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی دفتر کا دورہ کرتے یوئے ایک انٹرویو دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پاکستان کے سرگودھا پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھنے والے اسلامک رائیٹر جناب علی اصغر ایک مستبصر جوان کے ساتھ ساتھ متعدد کتابوں جیسے "زادہ نجات" و "متولی کعبہ" اور "آغوش رحمت" کے مصنف بھی ہیں، موصوف نے اپنے ایران کے سفر کے دوران حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی دفتر کا دورہ کرتے یوئے ایک انٹرویو دیا جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

میری زندگی شبِ عاشور کے ایک خواب نے بدلی

حوزہ: سب سے پہلے ہم آپ کے شکر گزار ہیں جو آپنے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا ہم چاہتے ہیں کہ اپنا مختصر تعارف ہمارے قارئین کے لئے پیش کریں۔

جناب علی اصغر: میرا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا کی تحصیل ساہیوال سے ہے، تعلیم کے بعد کچھ سال روزگار کے سلسلہ میں سعودی عرب مقیم رہا ہوں، اب سرگودھا میں ہی ٹریول ایجنسی چلا رہا ہوں،اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد سوشل میڈیا پر معاشرتی مسائل اور خصوصاً اہل بیتِ رسولؐ کی مدح سرائی میں آرٹیکلز لکھتا رہتا ہوں۔ سوشل میڈیا پہ ہزاروں میں فالورز کی وجہ سے محبتِ اہل بیتؑ کا پیام پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔

حوزہ: آپ نے مذہب تشیع کیسے قبول کیا، اسکے حوالے سے کچھ ہمیں بتائیں؟

جناب علی اصغر: میں نے مذہب تشیع کسی قسم کی تحقیق کے بعد قبول نہیں کیا بلکہ میری زندگی شبِ عاشور ایک خواب کے بعد بدلی جس کے بارے تفصیل سے اپنی کتاب " زادِ نجات " میں لکھ چکا ہوں۔ آسان اور مختصر الفاظ میں یہ کہ خواب میں زیارت امام حسینؑ کے بعد جسم اور روح محبتِ حسینؑ کی اسیر ہوگئی۔

میری زندگی شبِ عاشور کے ایک خواب نے بدلی

حوزہ: سفرِ زیارت ایران کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟

جناب علی اصغر: میرا یہ دوسرا سفرِ زیارت ہے اس سے قبل 2010 میں آئمہ اطہارؑ کی بارگاہ میں حاضر ہوچکا ہوں، مگر اس وقت حالات اور تھے اب حالات اور ہیں اس لِئے اس بار میں نے زیارت کے ساتھ ساتھ ایران کو ایک الگ نظر سے بھی پرکھنے کی کوشش کی ہے، جیسا کہ ہمارے یہاں ایران کے بارے مختلف منفی باتیں پھیلائی جاتی ہیں جب کہ اب خود جب آنکھوں سے دیکھا تو حقیقت یکسر مختلف ہے۔

ایرانی قوم واقعی ایک غیرت مند قوم ہے جس نے یہود و نصاریٰ کے سامنے سر نہیں جھکایا!

ایرانی قوم واقعی ایک غیرت مند قوم ہے جس نے یہود و نصاریٰ کے سامنے سر نہیں جھکایا، مشکلات کا سامنا کر لیا مگر ذلت کو گلے نہیں لگایا، عالمی پابندیوں کے باوجود محدود وسائل میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، شہر گاوں قصبوں میں صاف ستھرا ماحول، تہذیب و تمدن واضح نظر آیا، رہی مذہبی رجحانات کی بات تو ہم اہلِ برصغیر کی طرح ایرانی لوگ صرف محبتِ اہل بیتؑ کا دعویٰ ہی نہیں کرتے بلکہ عمل اور محبت ساتھ ساتھ لے کر زندگی گزار رہے ہیں، قرآن و اہل بیتؑ سے متمسک رہ کر دنیا و آخرت سنوارنے کی کوشش میں ہیں۔ علومِ اسلامی کے ساتھ ساتھ جدید علوم سیکھ کر اپنے ملک کو ترقی کی راہوں پہ گامزن کر رہے ہیں۔

حوزہ: آج کے نوجوانوں کے بارے میں آپ کا کیا اظہار خیال ہے؟

جناب علی اصغر: جیسا کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای نوجوانوں سے فرماتے ہیں کہ خود کو اپڈیٹ رکھیں یعنی حالاتِ حاضرہ سے اپڈیٹ رکھیں، میں بھی رہبر کی اس نصیحت کی تائید کروں گا کہ آج کے نوجوان کو جدید علوم سیکھنے چاہئے، شیعہ نوجوانوں کو علمی میدان میں آنا چاہیے، خصوصا آئی ٹی کے شعبہ میں، کیوں کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اور اب وقت کی ضرورت ہے کہ ہم روایتی علمی طریقہ کار کو بدل کر جدید طرز اپنائیں، ہمارے نوجوانوں کو اللہ نے بہت ساری خوبیوں سے نوازا ہے ان خوبیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کریں۔ میڈیا کا دور ہے شیطانی قوتیں اپنے عروج پہ ہیں وہیں رحمانی قوتیں بھی اپنے جوش و جذبہ کے ساتھ مقابلہ کے لئے کھڑی ہیں، ہمارے نوجوانوں کو مختلف شکلوں میں شیطانی قوتیں ورغلانے کے در پے ہیں مگر چونکہ ہمارے پاس کربلاء موجود ہے تو یہ نعمتِ عظمیٰ ہمیں کبھی ذلت کے گڑھوں میں گرنے نہیں دیتی۔

میری زندگی شبِ عاشور کے ایک خواب نے بدلی

حوزہ: ملک ایران کے حوالے سے آج جو دنیا بھر میں پروپیگنڈا ہورہا ہے خاص کر مسئلہ حجاب اور احتیاجات کے تعلق سے اپ اس سفر میں کیسا تجربہ رہا ہے؟

جناب علی اصغر: چند ماہ پہلے ایران میں ایک خاتون کی وفات کے بعد ایک فتنے نے سر اٹھایا، پوری دنیا کی شیطانی قوتوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ٹھانی، ایرانی اسلامی حکومت اور خاص طور پہ مسلمانوں خواتین کے حجاب کو نشانہ بنایا گیا، خصوصاً پاکستانی لبرل رائٹرس نے اس میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا اور عام سادہ عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ ایرانی علماء عوام پہ ظلم کر رہے ہیں اور خواتین کو زبردستی حجاب کروائے جارہے ہیں اور جو اس سے انکار کرتی ہیں یہ لوگ اسے قتل کردیتے ہیں، مجھے ایران میں دوسرا ہفتہ ہے میں نے یہاں مختلف دکانوں، دفتروں، مارکیٹس، بازار اور ریستوران پہ کام کرتی خواتین دیکھی ہیں، جو اپنے پورے حجاب کے ساتھ اپنی مرضی سے آزادانہ ملازمت کر رہی ہیں، نہ ہی کوئی احتجاج دیکھا، نہ کسی کو حجاب اتارتے دیکھا اور نہ ہی کسی عورت کو زبردستی حجاب کرواتے دیکھا، بغیر حجاب کے انگریزی لباس میں کئی خواتین بھی دیکھی ہیں وہ مارکیٹس میں آزاد گھوم رہی ہیں میں نے اب تک ایسا کچھ نہیں دیکھا جس سے یہ محسوس ہو کہ یہاں زبردستی اسلام نافذ کروایا جارہا ہے۔

میری زندگی شبِ عاشور کے ایک خواب نے بدلی

حوزہ: اپنی گذشتہ کتب اور آئیندہ کتب کے بارے میں ہمیں زرا بتائیں

جناب علی اصغر: میری سب سے پہلی کتاب "زادِ نجات" تھی جو اہل بیتؑ اطہار پہ لکھی ہوئی میری تحاریر کا مجموعہ تھی، اس کے بعد میں نے رسولِ اعظمؐ کے دادا جنابِ عبدالمطلبؑ اور چچا جنابِ ابوطالبؑ کی ولادت سے وفات پہ دوسری کتاب "متولیِ کعبہ" تصنیف کی، اس کتاب کو بہت پذیرائی ملی میرے لئے یہ سب سے بڑا اعزاز ہے کہ یہ حرمِ امام حسینؑ کی لائبریری میں رکھی گئی اور مجھے اعزازی سند سے نوازا گیا،

میری زندگی شبِ عاشور کے ایک خواب نے بدلی

"متولیِ کعبہ" کے بعد میں نے آقا کریمؐ کی والدہ جنابِ آمنہؑ اور مولا علیؑ کی والدہ جنابِ فاطمہ بنت اسدؑ کی ولادت سے وفات تک "آغوشِ رحمت" لکھی، ایک سفر نامہ "ترکی سے ترکی تک" بھی لکھا ہے، اب میں ایک ناول "روحوں کے طبیب" لکھ رہا ہوں جو تکمیل کے مراحل میں ہے, یہ ناول بھی کربلاء سے متصل ہے ان شاءاللہ قارئین کرام اسے پڑھنے کے بعد اپنی روح کو اکسٹھ ہجری کربلاء کی فضاوں میں محسوس کریں گے۔

میری زندگی شبِ عاشور کے ایک خواب نے بدلی

میری زندگی شبِ عاشور کے ایک خواب نے بدلی

حوزہ: جیسا کہ رہبرِ معظم کی مدبرانہ سوچ کے نتیجے میں پوری دنیا میں اتحاد بین المسلمین میں اضافہ ہو رہا ہے آپ خود مسئلہ اتحاد کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جناب علی اصغر: انقلابِ اسلامی کے بعد آغا خمینی رح نے فرمایا تھا کہ مسلمان آپس میں ہاتھ باندھنے اور کھولنے پہ جھگڑ رہے ہیں جب کہ دشمن ان کے ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے، اسی طرح رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے بھی فرمایا کہ ہمارا خدا ایک ہے، رسولؐ ایک ہے، قبلہ ایک ہے، قرآن ایک ہے تو ہم کیوں ایک نہیں ہوسکتے، ایران و پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے لئے الحمد اللہ بہت کام ہورہا ہے، ایران میں ربیع الاول میں بارہ سے سترہ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت منایا جاتا ہے، پاکستان سے کئی اہل سنت علماء ایران وحدت ملی کانفرنس میں شمولیت کرتے ہیں، اسی طرح ہم پاکستان میں ربیع الاول کے جلوسوں میں اہل سنت بھائیوں کا استقبال کرتے ہیں، پھولوں کے ہار پہناتے ہیں، اسی طرح اہل سنت بھائی شیعہ مجالس و جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں، پاکستان میں شیعہ سنی آپس میں رشتے کرتے ہیں، ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے ہیں، خوشی غمی میں سب برابر شریک ہوتے ہیں۔

ایک خاص گروہ اتحاد بین المسلمین کو برداشت نہیں کرپا رہا ہے اور وہ ٹولہ چاہتا ہے کہ پاکستان کا امن تباہ ہوجائے مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

اس وقت بھی ہمارے اس زیارتی سفر میں تین اہل سنت بھائی ہمارے ساتھ ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک خاص گروہ اس اتحاد بین المسلمین کو برداشت نہیں کرپاتا اور وہ ٹولہ چاہتا ہے کہ پاکستان کا امن تباہ ہوجائے مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا ہم سب بھائی ہیں، ہمیں اپنا دین، اپنا ملک اور اپنے ملک کی حفاظت کرنے والے ادارے سب سے زیادہ عزیز ہیں، ہم اپنے ملک میں کسی قیمت پہ بدامنی کی فضاء قائم نہیں ہونے دیں گے۔ ان شاءاللہ

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .

تبصرے

  • اقدس رضوی PK 09:23 - 2023/01/24
    0 0
    ماشاءاللہ بہت خوبصورت گفتگو پڑھنے کو ملی