۱۵ اسفند ۱۴۰۲ |۲۴ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 5, 2024
علامہ احمد اقبال رضوی

حوزہ/ کراچی میں احتجاجی دھرنے کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے نوجوانوں کو سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا، یہ ہمارا آئینی و قانونی مطالبہ ہے، ہم اپنے اصولی مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملت تشیع کے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا دھرنا مزار قائد کے سامنے تیسرے روز بھی جاری رہا۔ دھرنے میں ملت تشیع کی مختلف مذہبی و سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ ملک کی معروف مذہبی،سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات کی طرف سے دھرنے کے شرکاء کے ساتھ  اظہار یکجہتی کیا گیا۔ دھرنے کے شرکاء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنما علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ ناظر عباس تقوی، مولانا حیدر عباس عابدی، مولانا ڈاکٹر عقیل موسیٰ، علامہ صادق جعفری، علامہ کامران عابدی، علامہ نثار قلندری، علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن، نمائندہ آئی ایس او کا اپنی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ جب تک ہمارے نوجوانوں کو سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا، یہ ہمارا آئینی و قانونی مطالبہ ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اصولی مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی ہمارے رگ و جاں میں بسی ہوئی ہے، ہمارے اجتماعات میں آج بھی پاکستان سے محبت کا اظہار حب الوطنی سے بھرپور نعروں کے ذریعے کیا جاتا ہے، ریاستی اداروں کا غیرمنصفانہ کردار ہمیں ریاست سے جدا نہیں کرسکتا، لاپتہ افراد میں کوئی 6 سال سے لاپتہ تو کوئی دس سال سے لاپتہ ہے، وہ شیعہ نوجوان بھی شامل ہیں جن کے چھ ماہ کے چھوٹے بچے شامل ہیں اور ان افراد کے اہل خانہ سخت گرمی میں ہمارے ساتھ اس دھرنے میں موجود ہیں، کیا یہ ہے عمران خان کی ریاست مدینہ جس میں محب وطن افراد کو جبری لاپتہ کیا جاتا ہو۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکاء کی بڑھتی ہوئی تعداد ہمارے مطالبات کی حمایت کا اظہار ہے، اگر جبری لاپتہ افراد کو فوری رہا نہیں کیا گیا تو پر ملک بھر میں علامتی دھرنوں کو مستقل دھرنوں میں تبدیل کردیا جائے گا۔

دریں اثناء لاپتا افراد کی بازیابی کے لئے اتوار کے روز ملک کے مختلف شہروں میں علامتی دھرنے دیئے گئے، جن کا مقصد کراچی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے جاری دھرنے کی حمایت کا اعلان تھا۔ اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور کوئٹہ، حیدر آباد، جیکب آباد، ماتلی، نوابشاہ، دادو، لاڑکانہ، شکارپور، ٹنڈو الہ یار سمیت کراچی کے مختلف حصوں میں ہونے والے دھرنوں میں ضلعی شیعہ رہنماؤں، عمائدین، نوحہ خواں تنظیموں اور ملت تشیع کے نوجوانوں نے شرکت کی۔ مقررین نے نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو علامتی دھرنوں کو مستقل احتجاج کی صورت میں بدلنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .