۲۸ خرداد ۱۴۰۳ |۱۰ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 17, 2024
علامہ سبطین سبزواری

حوزہ/ علامہ سبطین سبزواری، صوبائی صدر کی زیر صدارت اجلاس میں کہنا تھا کہ متفقہ نصاب نافذ کیا جائے،جو کتابیں چھاپی جارہی ہیں اسلام کی صحیح عکاسی نہیں کر تیں،متنازع کتب کو قوم پر مسلط کیا گیا تو تسلیم نہیں کریں گے،تمام مکاتب فکر کے مشترکات شامل کئے جائیں، وفاق المدارس الشیعہ کی مجلس عاملہ بھی نصابی کتب پر تشویش کا اظہارکر چکی ہے،ایسا نصاب تعلیم جس میں شیعہ نقطہ نظر شامل نہیں، مسترد کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور/ شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے یکساں نصاب کے نام پر حکومتی من مانی سے متنازع سلیبس مسلط کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ تعصب،مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے انتہائی خطرناک کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ مکتب تشیع کو یکساں نصاب کے نام پرتیار کی گئی کتب پر شدید تحفظات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ متفقہ طور پر یکساں نصاب نافذ کیا جائے،جو کتابیں چھاپی جارہی ہیں وہ اسلام کی صحیح عکاسی اور ترجمانی نہیں کر رہے ہیں ۔

متنازع کتب کو قوم پر مسلط کیا گیا تو تسلیم نہیں کریں گے۔ فرقہ واریت سے پہلے بھی بہت نقصان ہوچکا ،یک طرفہ اور متنازع نصاب سے ملکی سلامتی اور استحکام کو شدید نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسا نصاب تعلیم جس میں شیعہ نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کیا اسے مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام مکاتب فکر کے مشترکات کو متفقہ طور پر نصاب میں شامل کیا جائے اور ایسی کمیٹی بنائی جائے جس میں اہل تشیع کے مقتدر اور ذمہ دار علماءشامل ہوں۔ 

صوبائی کابینہ کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ 23 مارچ کو وفاق المدارس الشیعہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی مکتب اہل بیت کی سفارشات کو نظر انداز کرکے تیار کی جانے والی نصابی کتب پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں رائج کی جانے والی متنازع کتابیں ناقابل قبول ہیں اور تشویشناک حالت یہ ہے کہ اتفاق رائے پیدا کیے بغیر کتابیں چھاپی جارہی ہیں ۔ قابل مذمت رویہ قبول نہیں ہے ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .