۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
ضیاء زیدی

حوزہ/ کسی بھی بیماری کے علاج کے لئے پہلے  symptoms  کو دیکھا جاتا ہے تاکہ بیماری کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔ اس کے بعد علاج کے لئے دوائیں تلاش کی جاتی ہیں۔ مدح خوانی کی محفلوں کے معیار کا گرنا symptom ہے۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جنھیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان محفلوں کا معیار کتنا گر چکا ہے۔

تحریر: ضیاء زیدی، خادم امامیہ یوتھ آرگنائزیشن کانپور

حوزہ نیوز ایجنسی | عنوان دیکھ کر شائد آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ مدح خوانی کی محفلوں کا معیار کہاں گر رہا ہے۔ اتنے معیاری پروگرام تو ہر جگہ منعقد ہو رہے ہیں۔ شعرا کو ہوائی جہاز کا ٹکٹ دیا جا رہا ہے، موٹے لفافے پیش کئے جا رہے ہیں، شرکا کے لئے اعلیٰ درجے کی ضیافت کا انتظام رہتا ہے، پہلے سے کہیں بہتر تبرک تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ سجاوٹ میں بھی کوئی کمی نہیں کی جاتی تو پھر معیار گر کہاں رہا ہے؟ لیکن بات یہ ہے کہ مدح خوانی کی محفلوں کا معیار صرف ان چیزوں سے بلند نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ان محفلوں کا ماحول کتنا مقدس اور پاکیزہ ہے۔ یہاں اہلبیت کی محبت اور معرفت میں اضافہ کرنے کی کتنی کوشش ہو رہی ہے۔ ان پروگراموں میں تعلیماتِ اہلبیت کو نشرکرنے پر کتنی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن سے ان محفلوں کا معیارسمجھ میں آتا ہے۔ ان چیزوں پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوگا کہ ان محفلوں کا معیار روز بہ روز کتنا گرتا جا رہا ہے جو کہ تشویش ناک ہے۔ اور اسی لئے ایک عرصے سے ہر سنجیدہ شخص اس دور میں مدح خوانی کی محفلوں کے گرتے ہوئے معیار سے فکرمند نظرآرہا ہے۔ اہل نظر،اہل علم اور دانشور حضرات جب کہیں بیٹھتے ہیں تو اس مسئلے پر بھی ایک دوسرے سے دردِ دل بیان کرکے اپنا دل ہلکا کر لیتے ہیں۔ اور پھر وہیں بات ختم ہو جاتی ہے۔ وہ کریں بھی تو کیا کریں۔ اس مسئلے کا کوئی آسان سا حل بھی تو دکھائی نہیں دیتا۔ بہر حال خاموش بیٹھے رہنا بھی تو کوئی حل نہیں ہے۔ کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔ آسمان سے کوئی فرشتہ تو آئے گا نہیں کہ سب کچھ ٹھیک کر دے۔ جو بھی کرنا ہے وہ آپ کو اور ہم کو ہی کرنا ہے۔ تو پھر آیئے اس مسئلے پر بات شروع کریں۔

کسی بھی بیماری کے علاج کے لئے پہلے symptoms کو دیکھا جاتا ہے تاکہ بیماری کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔ اس کے بعد علاج کے لئے دوائیں تلاش کی جاتی ہیں۔ مدح خوانی کی محفلوں کے معیار کا گرنا symptom ہے۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جنھیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان محفلوں کا معیار کتنا گر چکا ہے۔ مثال کے طور پر؛

(1) شعرا کا داد طلب کرنے کے لئے طرح طرح کے طریقے اپنانا۔ کوئی ہاتھ جوڑ کے داد طلب کرتا کے توکوئی ڈانٹ پھٹکارکر۔ کوئی مولا سے محبت کی دہائی دیتا ہوا نظرآتا ہے تو کوئی یہ کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ 'لعنت ہو ایسے شخص پہ جو واہ نہ کرے'۔ بات یہاں تک پہونچ چکی ہے کہ بعض شعرا یہ اعلان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ دونوں ہاتھ اُٹھا کر داد دینا حلالی ہونے کا ثبوت ہے۔ معلوم نہیں ایسے شعرا کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ میں آتی ہے کہ اگر شعر اچھا ہو اور لوگوں کے سمجھ میں آجائے تو داد طلب کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ یوں بھی مداحیِ اہلبیت میں داد طلبی اخلاص کو ختم کر دیتی ہے۔

(2) ایک رسم اب مدح خوانی کی محفلوں میں بھی شروع ہوچکی ہے وہ یہ کہ اگرکسی شاعرکا کوئی شعر پسند آ جائے تو سامعین میں سے لوگ اٹھ اٹھ کرشاعر کی خدمت میں نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ اچھےکلام پرشاعرکی حوصلہ افزائی کرنا اورنذرانہ پیش کرنا اچھی بات ہے لیکن طریقہ شائستہ ہونا چاہئے۔ یہ طریقہ مجرے اور قوالی کی محفلوں میں رائج تھا۔ اسے ان مقدس محفلوں میں رائج کرنا معیوب معلوم ہوتا ہے۔ ان مقدس محفلوں کو غیر شائستہ رسم و رواج سے پاک رکھنا چاہئے۔

(3) ترنم سے اشعار پڑھنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ اچھی آواز اورشائستہ اندازمیں اشعارپڑھنا اچھی بات ہے۔ لیکن سارا زور آواز اور گلوکاری اور اداکاری پر ہو تو سوچنا پڑتا ہے۔ معمولی بلکہ معیار سے گرے ہوئے اشعار پر داد و تحسین سے چھتیں اُڑتے ہوئے دیکھ کراندازہ ہوتا ہے کہ ان محافل کا معیار کہاں جا رہا ہے۔

(4) کسی پروگرام کو نظم و ضبط کے ساتھ انجام دینا اچھی بات ہے۔ اور نظم و ضبط کے لئے ایک ناظم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ناظم کا کام یہ ہے کہ محفل اس طرح سے سجائے کہ اعتدال قائم رہے۔ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے شاعر کا انتخاب کرے اور اسے دعوت سخن دے۔ شاعر کو آواز دینے اوراس کے مائک تک پہونچنے کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے اس خلا کو پر کرنے کے لئے ناظم ایک دو خوبصورت اشعار سنا کرمحفل میں ایک نکھار پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن آج دیکھا یہ جا رہا ہے کہ ہر شاعر کے بعد اچھا خاصا وقت ناظم لے لیتا ہے۔ جس کا کام اعتدال قائم کرنا تھا وہی آدھے سے زیادہ وقت خود ہی لے کربےاعتدالی پر اتر آتا ہے۔ یہی نہیں اکثر ناظم حضرات لفاظی، چاپلوسی، اداکاری اور چیخ پکار سے محفل کو کامیاب بنانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو باطل نظریہ اور فاسد عقیدہ رکھنے والے شعرا کی حوصلہ افزائی کرکے اور انہیںpromote کر کے محفلوں کے معیار کو گرانے میں ایسے ناظم حضرات کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

یہ تو محفلوں کا ظاہری رنگ ہے جو تشویشناک ہے اب آیئے شاعری کا معیار دیکھتے ہیں۔

(5) پہلے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ کوئی مبتدی اپنا کلام بغیراستاد کو دکھائے کہیں پڑھ نہیں سکتا تھا۔ اگراتفاقاً کوئی شاعر کہیں غلط شعر پڑھ جاتا تھا تو اساتذہ بہت خوبصورتی کے ساتھ شاعر کو متوجہ کر دیا کرتے تھے۔ لیکن آج زیادہ تر یہ ہو رہا ہے شاعری شروع کرتے ہی شاعر صاحب پہلے ہی دن سے خود کو استاد سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر بعد محفل کسی غلطی کی طرف ان کو متوجہ کرنے کی جسارت کی جائے تو وہ برا مان جاتے ہیں۔

(6) ایک اچھا شعر کہنے کے لئے شاعرکوچارباتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ شعر اردو گرامر کے اعتبار سے درست ہو۔ یعنی الفاظ کے معنی اور جملہ سازی میں کوئی غلطی نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ فنِ شاعری کے اعتبار سے صحیح ہو۔ یعنی بحر میں ہو اور فنی عیوب سے پاک ہو۔ تیسری بات ہے مضمون طے کرنا۔ عام شاعروں کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جو چاہے نظم کردیں۔ خیالات اچھے ہوں یا برے، افکارپاکیزہ ہوں یا بیہودہ ، بات حق ہو یا باطل کوئی مشکل نہیں۔ جو چاہئے کہئے اور یہی ہو رہا ہے۔ لیکن شعرائے اہلبیت کی ذمہ داری عام شعرا کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ ان کی نظراسلامی عقائد، احکام، اخلاق اورتاریخ پررہنا ضروری ہے۔ انہیں اشعار کہتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں کوئی شعراسلامی تعلیمات کے خلاف تو نہیں جا رہا ہے۔ پھر چوتھی بات یہ ہے کہ شعر میں شعریت ہو۔ مثال کے طور پر " ہاتھی کو دیکھو کھڑا ہے - ڈنڈے کو دیکھو پڑا ہے" یہ ایک شعر ہو گیا۔ یہ گرامر کے اعتبار سے بھی ٹھیک ہے، بحر میں بھی ہے، مضمون بھی مکمل ہے لیکن اس میں کوئی شعریت نہیں ہے۔ ایسی شاعری کا کیا فائدہ اگراشعار میں نہ کوئی شعریت پائی جائے اور نہ کوئی حسن ؟ پھر تو نثرمیں اپنے خیالات پیش کریں زیادہ اچھا ہوگا۔

آج محفلوں میں بہت سے ایسے شعرا کو داد و تحسین سے نوازا جا رہا ہے جن کے یہاں نہ صرف اردو کی غلطیاں اور فنِ شاعری کے عیوب دکھائی دیتے ہیں بلکہ اسلامی عقائد کے مقابلے میں بہت دلیری کے ساتھ "اپنا عقیدہ" پیش کررہے ہیں۔ اب بتائیے کہ محفلوں کا معیار کیا ہوگا؟ اور آپ ان محفلوں میں کیا سننے جائیں گے؟

(7) جو سنجیدہ اور معیاری شعرا ہیں ان کی مشکل یہ ہے کہ سامعین کی اکثریت کا علمی اور ادبی معیار اتنا بلند نہیں ہے کہ ان کا کلام سمجھ سکے۔ ایسے شعرا میں سے بعض کا کہنا یہ ہے کہ ہم اپنا معیار کیوں گرائیں سامعین کو اپنا معیار بلند کرنا چاہئے۔ ظاہر ہے سامعین کا معیار بلند کرنا آسان تو ہے نہیں۔ نتیجتاً ان کے لئے گوشہ نشینی کا راستہ ہی رہ جاتا ہے۔ اور ایسے شعرا کو محفلوں میں بلایا نہیں جاتا۔ لھٰذا محفلوں کا معیار گرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔

(8) سامعین میں علم کی کمی اور اردو سے نا واقفیت ایک اہم اور بڑی وجہ ہے جس سے محفلوں کا معیار گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

(9) محفلوں کے معیار کو گرانے میں جو لوگ سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں وہ ہیں بانیان محفل۔ شعرا کے انتخاب کا معیار یہ رہ گیا ہے کہ اب انھیں بلایا جاتا ہے جن کے نام سے مجمع زیادہ اکٹھا ہو۔ اگر یہ لوگ معیاری شعرا کو بلاتے اور سنجیدہ لوگوں سے نظامت کرواتے تو محفلوں کا یہ حال نہ ہوتا۔

(10) آخر میں اس احتمال کو بھی نظراندازنہیں کیا جا سکتا کہ ان مقدس محفلوں کا تقدس پامال کرنے اور ان کا معیار گرانے میں کچھ لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پراسلام دشمن عناصر کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

بہر حال یہ سب تو تنزلی کے اسباب ہیں۔ اب غور یہ کرنا ہے کہ ان تمام بیماریوں کی جڑ کیا ہے اور پھر ان کا علاج کیسے ہو؟
بیماری کی جڑ صرف دو لفظوں میں بیان کریں توکافی ہوگا۔ وہ یہ ہے کہ دینی تعلیمات سے دوری اور اردو سے نا واقفیت۔

ایک شاعرممدوح کی شان میں قصیدہ کیسے کہے اگر مطالعہ نہیں ہے۔ اور اگر بالفرض مطالعہ کر بھی لے اور اشعار کہہ بھی لے تو سامعین کے سمجھ میں کیا آئے گا جب تک وہ بھی مطالعہ نہ کریں۔ علم کی کمی کی وجہ سے شاعر غلط عقائد پیش کرتا ہے اورعلم ہی کی کمی کی وجہ سے سامعین ایسے شعرا کو داد و تحسین سے نوازتے ہیں۔

ظاہر ہے اس کا علاج دو چاردن میں تو نہیں ہو سکتا۔ اگر75 سال میں گرتے گرتے یہاں تک پہونچے ہیں تو تقریباً اتنا ہی وقت اٹھنے میں بھی لگے گا وہ بھی اگرہم جاگ جائیں اور منظم طریقے سے کام کرنا شروع کر دیں۔

ہمیں کئی محاذوں پر الگ الگ ٹیم بنا کر کام کرنا ہوگا۔ مثئلاً؛

(1) ہندوستان میں تقریباً ساڑھے چارسے پانچ کروڑ شیعہ ہیں۔ انکی دینی تعلیم کا ہمارے یہاں کیا انتظام ہے۔ ہمارے یہاں تمام اداروں کو ملا کر زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی ہزار مکاتب ہوں گے۔ یعنی صرف لاکھ سوا لاکھ بچوں کی تعلیم کا انتظام ہے۔ وہ بھی درجہ پنجم تک۔ باقی لاکھوں بچوں کے لئے کیا ہے؟ درجہ پنجم کے آگے تواتنا بھی نہیں ہے۔

ہمیں چاہئے کہ جہاں مکاتب قائم نہیں ہو سکتے وہاں ہفتہ وار کلاسز قائم کرنے کی تحریک چلائیں۔ ہر شہر اور ہر گاؤں میں کلاسز قائم کی جائیں۔

(2) منبراورمحراب زبردست پلیٹ فارم ہے جہاں سے اگرنظم و ضبط کے ساتھ منصوبہ بند طریقے سے کام کیا جائے توبڑے پیمانے پرلوگوں کی علمی اور فکری سطح کو بلند کیا جا سکتا ہے۔

(3) سوشل میڈیا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جس پر الحمد للہ کئی چینل کام کر رہے ہیں لیکن اب بھی بہت کمیاں ہیں- اس میدان میں منظم طریقے سے اور بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

(4) تعلیم کے لئے کتابوں کا ایک اپنا مقام ہے۔ کتابوں کے بغیرعلمی معیار بلند نہیں ہوسکتا۔ لیکن ہمارے پاس نہ تو قرآن و نہج البلاغہ کا ایسا ترجمہ ہے جسے آج کے نوجوان آسانی سے سمجھ سکیں، نہ معصومین کی سیرت اورحالات زندگی پر ایسی کتابیں ہیں جنھیں ہم نوجوانوں کو پڑھنے کے لئے دے سکیں۔ نہ بچوں کے لئے دلچسپ کتابیں ہیں۔ اگرہم نوجوانوں اور بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا چاہیں تو انہیں پڑھنے کے لئے کیا دیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ زمانے کی ضرورتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے موضوعات کا انتخاب کیا جائے اور آسان زبان میں نوجوانوں اوربچوں کی سطح پراترکر اور ان کی نفسیات کو سمجھ کر کتابیں لکھی جائیں۔ اس نہج پر امامیہ یوتھ آرگنائیزیشن نامی ادارہ ایک عرصے سے کام کر رہا ہے لیکن ایسے ایک دو ادارے کافی نہیں ہے یہ کام بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے جو کہ بغیر ٹیم ورک کے ممکن نہیں ہے۔

(5) صرف کتابوں کی اشاعت سے کام نہیں چلے گا بلکہ نوجوانوں اور بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا ہوگا۔ اس کے لئے انعامی مقابلوں کا انعقاد اچھا طریقہ ہو سکتا ہے۔

(6) دینی تعلیمی نصاب میں اساتذہ کے معیاری کلام بھی شامل کئے جائیں تاکہ نوجوانوں میں اشعار کو سمجھنے کا شعور پیدا ہو۔

(7) آٹھ دس شعرا اور دو ایک اساتذہ اورعلما کی ماہانہ نشستیں رکھی جائیں جن میں ایک دوسرے کے اشعار پر کھل کر تبصرہ ہو۔ اس طرح کی نشستیں شعرا کا معیار بلند کرنے میں بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔

خلاصہ یہ کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے اور فوری طور پر اقدام کی ضرورت ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری توفیقات میں اضافہ کرے۔ اور حوصلہ دے کہ ہم سب مل جل کر نظم و ضبط کے ساتھ قوم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کھڑے ہوسکیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .