۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
علامہ تقی الحیدری طاب ثراہ

حوزہ/ مولانا کی خطابت کے سلسلہ میں کچھ کہنا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے ان کی خطابت فیض آباد کے سامعین کے معیار سماعت کو بلند کردیا ہے جس کی وجہ سے سطحی اور غیر منطقی باتیں سامعین کی سماعت پر بار ہوتی ہیں۔

تحریر: مولانا محمد محسن پرنسپل وثیقہ عربی کالج فیض

حوزہ نیوز ایجنسی | جب سے یہ کائنات رنگ و بوسجائی گئی اور یہ جہان آب وگل معرض وجود میں آیا نہ معلوم کتنے افراد نے اس خاکدان عالم میں آنکھیں کھولیں اور اپنی مدت حیات پوری کر کے اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے ۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جنھوں نے اپنے آپ کو اپنی ذات ہی تک محدود رکھا ۔ اور بعض وہ تھے جنھوں نے اپنے آپ کو مذہب قوم کے لئے وقف کردیا۔ صحیح معنوں میں اس انسان کی زندگی بے فیض ہے جس کی ذات سے دوسرے مستفیض نہ ہوں ۔ قرآن کی نظر میں بھی اس حیات کو حیات نہیں کہا گیا ہے جس سے کوئی استفادہ نہ کر سکے ، اسی لئے اس زمین کو بھی مردہ کہا گیا جس سے کسی کو فائدہ نہ پہونچے چنانچہ اس حی و قیوم نے ارشاد فرمایا:
فاحیی به الارض بعد موتها اس نے زمین کو زندہ کیا اس کے مردہ ہونے کے بعد زمین کی موت کیا ہے اور اس کی حیات کیا ہے؟ ۔ جب زمین نا قابل زراعت ہو ،بنجر ہو، اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا ہو تو وہ مردہ ہے ۔ اور جب نزول رحمت ہوجائے، زمین قابل زراعت ہوجائے، لوگ اس سے فائدہ اٹھانے لگیں تو یہ اس کی حیات اور زندگی ہے۔
اصل حیات وہی ہے جس سے دوسروں کو فائدہ پہونچے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ایسا انسان اس بزم ہستی سے اٹھ جاتا ہے جس کا فیض ہر ایک کو پہونچتارہا ہوتو اس کا غم کسی ایک خانواده، ایک گھر اور ایک علاقہ انہیں رہتا بلکہ اس کا غم آفاقی ہو جاتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ استاذ علام تقی الحیدری طاب ثراہ کے سانحال ارتحال کا غم کسی ایک ادارہ ، ایک خانواده، اور ایک شہر کا غم نہیں رہا۔ اعزاء، اقرباء و دوست وا حباب و شہر ملک کے علاوہ سات سمندر پار بیرون ملک میں بھی بیرون ملک منایا گیا کیوں کہ ان کی فیض رسائی کسی ایک فرد یا جگہ کے لئے نہ تھی۔
استاذی العلام ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے عالم خطیب ، دانشور، مفکر، مربی معلم خودار۔ صابر ، صائب الرائے اور کثرت سے صلہ بھی کرنے والے تھے، وثیقه عربی کالج کی ایک سو آٹھ (۱۰۸) سالہ تاریخ میں نصف صدی سے زائد عرصہ تک متعلم معلم اور عمید کی حیثیت سے وابستہ رہے جس میں سب سے زیادہ مدت زعامت و سر براہی کی رہبی تقریبا ۳۳ برس تک آپ نے عمید جامعہ کے فرائض انجام دیئے۔
حقیر کا تعلق ان کی ذات سے بحیثیت متعلم و معلم تقریبا چالیس (۴۰) برس رہا ہے اس دوران میں نے ان کو بہت قریب سے دیکھا وہ بڑے خصوصیات کے حامل تھے۔ بحثیت مدرس ان کا انداز تفہیم بہت اچھا تھا مطالب کو بہت ہی اچھے انداز میں طلاب کے ذہن میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے حقیر نے ان سے معالم الاصول بشرائع الاسلام کا درس لیا۔ میرے نزدیک اگر کوئی ایسا بزرگ، مربی، رہنما تھا جس سے ہر قسم کی رہنمائی لی جاسکتی تھی تو وہ علامہ حیدری طاب ثراہ کی ذات تھی ان کے جیسے معاملہ فہم کم ہی ہوتے ہیں معاملہ فہمی کی ان کے اندر خداداد صلاحیت تھی مجھے کسی معاملہ میں کوئی دشواری یا الجھن ہوتی تھی تو ان کے پاس جاتا تھا اور وہ پلک جھپکتے ہی اس مسئلے کو حل کردیتے تھے میں ہی نہیں بلکہ عہد حاضر کے اکابر کیا اور سر براہان اداره ان سے اپنے مسائل کے سلسلہ میں رجوع
کرتے تھے اور ان کے مشوروں پرعمل کرتے تھے جس کا اعتراف اکثر حضرات نے ان کے انتقال کے بعد کیا تری بروية رایه الآراء یعنی ان کی رائے اور مشورہ کو دیکھ کر لوگ خود صاحب راے ہو جاتے ہیں۔

علامہ حیدری طاب ثراہ مرحوم سے میری قربت کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ہمارے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ میرے دادا مولانا ابرار حسین اعلی اللہ مقامہ اور والد مولانا احمد فہیم طاب ثراہ کے شاگرد تھے اور وہ بھی اسی بناء پر مجھے عزیز رکھتے تھے والد مرحوم کے انتقال کے بعد میں نے ہمیشہ ان کو اپنا مربی و سرپرست سمجھا اور انہوں نے بھی سر پرستی کے حق کو ادا کیا۔
ان کی ذات گرامی اسی صفات حمیدہ سے متصف تھی میں نے ان کے جیسا خاموشی سے صلہ بھی کرنے والا نہیں دیکھا نا معلوم کتنے افراد تھے جن کی وہ اس طرح مدد کرتے تھے ہاتھ کو ہاتھ کی خبر بھی نہیں ہوتی تھی یقینا ان کی وفات يموت لموته خلق کثیر کی مصداق تھی۔ استاذ محترم صبر و استقلال کے کوہ گراں تھے مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمیشہ ثابت قدم رہے اور بھی کبھی دینی معاملات میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا حالات اور زمان کو دیکھتے ہوئے اپنی روش کو تبدیل نہیں کیا اور کہا کرتے تھے کہ جو ان کو دیکھ کر اپنے انداز کو بدل دیتے ہیں وہ ابن الوقت ہوتے ہیں۔
غیرت دار، اور خود دار ایسے تھے کہ کبھی بھی صاحبان اقتدار کی چوکھٹ پر نہ کبھی حاضری دی اور نہ ہی ان سے کسی منفعت کی امید رکھی، جب کہ ایسے لوگ منتظر ہے کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان سے کچھ فرمائش کریں انہوں نے اپنی خودداری کو ہمیشہ عزیز رکھا اور وہ اس شعر کے مصداق تھے۔
اذا قيل لي هذا منهل قلت قد ارئ

ولكن نفس الحر تحتمل الظماء

جب مجھ سے کہا جاتا ہے کہ یہ گھاٹ ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہاں میں دیکھ رہا ہوں لیکن شریف انسان کا نفس پیاس کو برداشت کرتا ہے (عزت نفس کا سودا نہیں کرتا)
وثیقه عربی کالج کے سلسلہ میں ان کی کارکردگی اظہر من الشمس ہے استاذ علام سرکار ضیاء الملت مولانا وصی محمد صاحب طاب ثراہ کے ہر دل عزیز شاگرد تھے اور انہوں نے علامہ تقی الحیدری طاب ثراہ کی بے پناہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے مدرسہ کی تمام تر ذمہ داریاں ان کے سپرد کر دیں ۔ جس وقت انھوں نے مدرسہ کی ذمہ داری سنبھالی مدرسہ کی عمارت انتہائی بوسیده و خستہ تھی کوئی حصہ صحیح و سالم نہ تھا آپ نے اپنے عہد میں پوری عمارت کی تعمیر نو کی ، مدرسہ کی عالیشان مسجد کی مرمت کراکے اس کے فرش کو پھر سے مزین کرایا ۔ شہر فیض آباد کے مومنین مذہبی رہنمائی فرمائی علمائے فیض آباد میں اتحاد واتفاق کو باقی رکھا۔ استاذ العلام کے زیر نظر ہمارے معاصرین مولانا محمد حجت صاحب ، مولانا وصی حسن خان صاحب ، مولانا ندیم رضا زیدی صاحب، اور دیگر علمائے شہر حقیقی بھائیوں کی طرح رہے۔ جس کو دیکھ کر لوگ رشک کرتے ہیں۔
مولانا کی خطابت کے سلسلہ میں کچھ کہنا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے ان کی خطابت فیض آباد کے سامعین کے معیار سماعت کو بلند کردیا ہے جس کی وجہ سے سطحی اور غیر منطقی باتیں سامعین کی سماعت پر بار ہوتی ہیں ان کی خطابت کا معیار بہت بلند تھا قرآنی استدلال کے ساتھ فلسفیانہ فکر ہوتی تھی وہ اپنے انداز کے منفرد ذاکر و خطیب تھے۔ اہل بیت کی محبت کے جذبہ سے سرشار تھے جس کا اظہار ان کی تقاریر سے ہوتا ہے عظمت اہل بیت کے منافی کوئی بات برداشت نہیں کرتے تھے وہ عالم ربانی تھے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .