۲۶ فروردین ۱۴۰۳ |۵ شوال ۱۴۴۵ | Apr 14, 2024
علامہ حافظ ریاض حسین نجفی

حوزہ/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر نے درس قرآن میں بیان کیا کہ جاہلوں سے بحث سے اعراض کرنا،رات کا کچھ حصہ اللہ کی عبادت میں گزارنا،خرچ میں اعتدال اللہ کے بندوں کی نشانیاں ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے علی مسجد جامعتہ المنتظر میں درس قرآن دیتے ہوئے کہا کہ عقل عظیم نعمت اور ثواب و عقاب کا معیار ہے۔عقل مند پر دینی احکام لاگو ہوتے ہیں، پاگل پر نہیں لیکن انسانی ہدایت کے لئے عقل کو کافی نہیں سمجھا گیا بلکہ انبیا علیہم السلام ا ور دیگر ہادیان حق بھی بھیجے گئے۔سورہ مبارکہ فرقان نزول کی ترتیب کے لحاظ سے42واں سورہ ہے جس کے آخری حصے میں ” عِباد الرحمن “ یعنی اللہ کے حقیقی بندوں کی دس صفات بیان کی گئی ہیں۔جن میں تکبّر کا نہ ہونا،جاہلوں سے بحث سے اعراض کرنا،رات کا کچھ حصہ اللہ کی عبادت میں گزارنا،جہنم کے عذاب سے بچنے کی دعا کرتے رہنا،خرچ میں اعتدال و میانہ روی،خُدا کے مقابلہ میں کسی کو نہ لانا۔حضرت ابراہیم ؑ اور ذکریا ؑنے بڑھاپے میں بھی اللہ سے اولاد طلب کی،کسی کو ناحق قتل نہ کرنا،زِنا سے دُوری، جھوٹ، غنا وغیرہ جیسی محفلوں سے اجتناب، خرافات کی محفلوں سے کنارہ کشی،آیاتِ الٰہی سن کر دل سے قبول کر کے سجدے میں گرنا۔یہ دعا کرتے رہنا کہ ایسی بیوی، بچے دے جوسیرت و کردار میں سب کے لئے قابلِ تقلید نمونہ ہوں۔ایسے لوگوں کے لئے جنت میں جگہ ملے گی۔

علی مسجد جامعتہ المنتظر میں درس قرآن دیتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ توبہ، دعا اور تضرع و زاری سے گناہوں کی وجہ سے آنے والے عذاب بھی ٹل جاتے ہیں۔ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گناہ کی معافی کا طریقہ پوچھا ۔ آپ نے توبہ و استغفار کی تاکید فرمائی لیکن وہ کہتا رہا کہ اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔آپ نے پوچھا کیا کوہِ احد سے بھی بڑا ہے تو اس نے کہا اس سے بھی بڑا ہے۔ جب گناہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا یہاں سے اٹھ جاﺅ ، کہیں مسجد کی چھت نہ گر جائے۔ وہ مایوس اور خائف ہو کر جنگل کی طرف چلا گیا اور تین دن تک بھوک، پیاس کے عالَم میں روتا رہا اور گناہوں کی توبہ کرتا رہا جس کے بعد حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ہوا کہ میرے بندے کو شہر میں لے آو۔حضور جب وہاں گئے تو دیکھا وہی شخص ہے۔حقیقی توبہ سے سب گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .