۱۳ اسفند ۱۴۰۲ |۲۲ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 3, 2024
225 ویں ہفتہ وار شعری و تنقیدی نشست

حوزہ / بزم استعارہ (قم المقدسہ) قم المقدسہ میں مقیم پاکستانی اور ہندوستانی اردو شعراء کی بزم ہے جو انجمن ادبی اقبالؒ لاہوری کے اشتراک سے ہر ہفتے باقاعدگی سے ایک شعری نشست منعقد کرنے کا اعزاز رکھتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بزم استعارہ (قم المقدسہ)، قم المقدسہ میں مقیم پاکستانی اور ہندوستانی اردو شعراء کی بزم ہے جو انجمن ادبی اقبالؒ لاہوری کے اشتراک سے ہر ہفتے باقاعدگی سے ایک شعری نشست منعقد کرنے کا اعزاز رکھتی ہے۔ اس ہفتے کی شعری و تنقیدی نشست جمعۃ المبارک، 7 اپریل 2023ء کو بزم کے معزز رکن اور شاعر جناب صائب جعفری کے دولت کدے پر منعقد ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اس ہفتے کی نشست جہاں ولادتِ امام حسن مجتبیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے بابرکت موقع پر شعرا کی طرف سے پیش کیے گئے مناقب سے پُرنور رہی وہیں خاص طور پر اردو و فارسی شاعری کی توانا اور نمائندہ آواز اور بزم کے انتہائی معزز رکن برادر احمد شہریار ؔ کے اعزاز میں بھی اس کا اہتمام کیا گیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ برادر احمد شہریارؔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای مدظلہ العالی کے بیت الشرف پر ہونے والے سالانہ مشاعرے میں سات دفعہ شرکت اور تین دفعہ اپنا فارسی کلام پیش کر کے پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ اس سال بھی پاکستان کی نمائندگی کا یہ شرف انہیں حاصل ہوا اور انہوں نے 5؍ اپریل 2023؁ء کو ہونے والے اس مشاعرے میں شرکت کی جہاں پاکستان کے عوام اور قم المقدسہ میں موجود تمام طلاب کرام کا سلام رہبر معظم کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد اپنے فارسی کلام سے مشاعرے کی رونق بڑھائی۔ بزم استعارہ اور انجمن ادبی اقبالؒ لاہوری کی اس ہفتے کی نشست میں انہیں اس اعزاز کے حصول پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔

شریک شعراء کرام:

اس ہفتے بزم میں شریک شعرائے کرام کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:

جناب صائبؔ جعفری، جناب احمد شہریارؔ، جناب ابراہیم نوریؔ، جناب حیدرؔ جعفری، جناب کاچو یوسف دانشؔ، جناب کاچو اظہرؔ، جناب ممتاز عاطفؔ، جناب زین العابدین خوئیؔ، جناب علی مرتضیٰ، جناب عنایتؔ شریفی، جناب ذیشانؔ جوادی، جناب عباس ثاقبؔ۔

منتخب اشعار:

جناب صائبؔ جعفری:

ملتا ہے مدحِ احمدؐ کا ذائقہ زباں کو

یعنی حسنؑ کی مدحت ، نعتِ محمدیؐ ہے

صلحِ نبیؐ نے فتحِ مکّہ کی راہ کھولی

صلحِ حسنؑ میں فتحِ کرب و بلا چھپی ہے

جناب احمد شہریارؔ:

طوفاں بنا رہا مری کشتی کا بادباں

میں نے لکھا تھا: میرا سفینہ حسنؑ کے نام

بارہ قدم کی دوری پہ ہے اوجِ بندگی

پہلا علیؑ کے ، دوسرا زینہ حسنؑ کے نام

جناب ابراہیم نوریؔ:

یہ صلح نامہ جو تحریر کر رہے ہیں حسنؑ

نبیؐ کی صلح کی تفسیر کر رہے ہیں حسنؑ

قیامِ صلح میں بھی تیغ کی ضرورت ہے

قلم کو اس لیے شمشیر کر رہے ہیں حسنؑ

جناب کاچو یوسف دانشؔ:

معدنِ عزت امامِ دوسرا

شمسِ رحمت کی کرن مولا حسنؑ

آپ کی تلوار ہے نوکِ قلم

وارثِ خیبر شکن مولا حسنؑ

جناب کاچو اظہرؔ:

کسی بھی حال میں مدحِ شہِ زمنؑ کر کے

بحال رکھتا ہوں سانسیں حسنؑ حسنؑ کر کے

وہ ابنِ صاحبِ صلحِ حدیبیہ تھے تبھی

عدو کو باندھ دیا صلح کو رسَن کر کے

جناب ممتاز عاطفؔ:

ہیں زمانے میں کتنے سخی اور بھی

تیرے جود و کرم کی الگ بات ہے

اس کو در در پہ جانے کی حاجت نہیں

پائی جس نے ترے در سے خیرات ہے

جناب حیدرؔ جعفری:

عشقِ شبّرؑ میں زندگی ہوئی ہے

بس اسی بات کی خوشی ہوئی ہے

اپنے مولا کو میں پکارتا ہوں

موت بھی با ادب کھڑی ہوئی ہے

جناب زین العابدین خوئیؔ:

خالق نے خلق کی ہے یہ دنیا حسنؑ کے نام

پھر کیوں نہ ہو ہر ایک نظارہ حسنؑ کے نام

یوں تو صفاتِ حق کے مظاہر ہیں سب امام

لیکن کریمِ آلؑ کا تمغہ حسنؑ کے نام

جناب عنایتؔ شریفی:

تیرے مقام کے لیے کافی ہے بس یہی

تُو پیشوائے دین ہے خیبر شکن کے بعد

جناب ذیشانؔ جوادی:

اے آفتابِ آلِ عبا ، اَیُّھا الحسنؑ!

اے آسمانِ جود و سخا ، اَیُّھا الحسنؑ!

دورِ فتن میں آپ نے شمشیرِ صلح سے

باطل کو جڑ سے کاٹ دیا ، اَیُّھا الحسنؑ!

جناب عباس ثاقبؔ:

حسنؑ کی منقبت لکھی تو آگہی اُتار دی

خدا نے میرے دل پہ سبز روشنی اُتار دی

لبوں سے ’’یا حسنؑ‘‘ کہا تو یوں نجات پا گئے

کسی نے جیسے قیدیوں کی ہتھکڑی اُتار دی

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .