۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
عطر قرآن

حوزہ|کائنات کے واقعات میں صرف طبعی عوامل علّت نہیں ہیں۔طبعی اسباب و عوامل پر اللہ تعالیٰ کی مشیّت کی حکمرانی۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحـــمن الرحــــیم
قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ اللَّـهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ﴿آل عمران، 47﴾

ترجمہ: (یہ بشارت سن کر) مریم نے کہا: اے میرے پروردگار! میرے یہاں بچہ کہاں سے ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی انسان (مرد) نے ہاتھ تک نہیں لگایا؟ ارشاد ہوا: بات اسی طرح ہے مگر خدا جو چاہتا ہے (بلا اسباب بھی) پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہو جا تو بس وہ ہو جاتا ہے.

تفســــــــیر قــــرآن:

1️⃣ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلقت معجزاتی تھی.
2️⃣ حضرت مریم علیہا السلام کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا احساس.
3️⃣ اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیوں کا بلند مقام و مرتبہ اور خداوند عالم کے افعال کے بارے میں ان کے سوال و حیرانگی، کوئی منافات نہیں ہے.
4️⃣ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو میں حضرت مریم علیہا السلام کا ادب کی رعایت کرنا.
5️⃣ اللہ تعالیٰ مادی اسباب و وسائل پر بھروسہ کئے بغیر اور ان کی محتاجی کے بغیر جو چاہے خلق کرتا ہے.
6️⃣ کائنات کے واقعات میں صرف طبعی عوامل علّت نہیں ہیں.
7️⃣ طبعی اسباب و عوامل پر اللہ تعالیٰ کی مشیّت کی حکمرانی.
8️⃣ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتا ہو تو وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے.
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
تفسیر راھنما، سورہ آل عمران

تبصرہ ارسال

You are replying to: .