۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
عطر قرآن

حوزہ|حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ منسوب ہونے کا معیار ان کی پیروی ہے۔ حق کی طرف میلان اور اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنا ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی پیروی کی حقیقت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحـــمن الرحــــیم
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ﴿آل عمران، 68﴾

ترجمہ: بے شک تمام لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب اور زیادہ تعلق رکھنے والے وہ ہیں جنہوں نے اُن کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو (ان پر) ایمان لائے ہیں اور اللہ ایمان والوں کا ساتھی و سرپرست ہے.

تفســــــــیر قــــرآن:

1️⃣ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ منسوب ہونے کا معیار ان کی پیروی ہے.
2️⃣ حق کی طرف میلان اور اللہ تعالیٰ کے حضور سر تسلیم خم کرنا ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی پیروی کی حقیقت ہے.
3️⃣ یہود و نصاریٰ ہر ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دینی تعلق اور انتساب کے دعویدار.
4️⃣ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کا اللہ کے نزدیک بلند مقام و مرتبہ.
5️⃣ اللہ تعالیٰ، مومنین کا ولی اور سرپرست ہے.
6️⃣ انبیاء علیہم السلام کے سب سے زیادہ نزدیک وہ افراد ہیں جو ان کی رسالت کے زیادہ پابند ہوں.
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
تفسیر راھنما، سورہ آل عمران

تبصرہ ارسال

You are replying to: .