۲۷ فروردین ۱۴۰۳ |۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 15, 2024
علامہ ساجد نقوی

حوزہ / قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: شہدا کے ورثا کے مطالبے کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ جب حکمران عوام کے تحفظ کے ضامن نہ بنیں اور قاتلوں سے چشم پوشی کریں تو عوام کو انصاف کون دے گا،وسری برسی پر اظہار تعزیت

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سانحہ 4 مارچ 2022ء کو پشاور مسجد میں دھماکے کے دوبرس گزرنے کے باوجود قاتلوں کی عدم گرفتاری اور تاحال بعض شہدا کے ورثا کو معاوضہ میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے ورثا کے مطالبے کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ واقعہ کے اصل محرکات منظرعام پر لا کر واقعہ میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے شہدائے پشاور کی دوسری برسی کے موقع پر اپنے بیان میں کہا: انصاف کا تقاضا تھا کہ حکمران عوام کی پہلے ہی داد رسی کرتے اور ورثا کے مطالبات سے پہلے ہی واقعے کے محرکات سے پردہ ہٹا کر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے تاکہ آئندہ وطن عزیز میں اے پی ایس کے طالب علم، پولیس لائن اور دیگر سیکورٹی اداروں سمیت مساجد ، مدارس اور شخصیات کو دہشت گردی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتالیکن تاحال دہشت گردی کا شکار بعض شہدا کے خانوادوں، زخمیوں کو معاوضہ تک نہ ملنا اور سانحہ 4 مارچ 2022 کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے عدم قیام سے ثابت ہوتا کہ جب حکمران عوام کے تحفظ کے ضامن نہ بنیں اور قاتلوں سے چشم پوشی کریں تو عوام کو انصاف کون دے گا۔

انہوں نے ورثاءِ شہدا کے مطالبات کی تائید کرتے ہوئے حکمرانوں سے اس ضمن میں فوری اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے شہدا پشاور کے خانوادوں سے ان کے عزیزوں کی دوسری برسی پر تعزیت کی اور شہدا کی درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .