۵ تیر ۱۴۰۳ |۱۸ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 25, 2024
علی اکبر نوایی، استاد سطوح عالی حوزه علمیه خراسان

حوزہ / حوزہ علمیہ خراسان کے استاد نے کہا: امام رضا علیہ السلام حوزاتِ علمیہ کا علمی سہارا ہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے مشہد مقدس کو سنجیدگی اور بھرپور طریقہ سے عالم اسلام میں ایک طاقتور علمی مرکز بنانا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں حوزہ علمیہ خراسان کے استاد حجت الاسلام والمسلمین علی اکبر نوائی نے امام رضا علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "یُقالُ لِلعابِدِ یَومَ القِیامَةِ : نِعمَ الرَّجُلُ کُنتَ، هَمَّتکَ ذاتُ نَفسِکَ و کَفَیتَ النّاسَ مَؤونَتَکَ فَادخُلِ الجَنَّةَ. ألا إنّ الفَقیهَ مَن أفاضَ عَلَی النّاسِ خَیرَهُ، و أنقَذَهُم مِن أعدائهِم ··· و یُقالُ لِلفَقیهِ : یا أیُّها الکافِلُ لأِیتامِ آلِ مُحَمَّدٍ، الهادی لِضُعَفاءِ مُحِبّیهِم و مَوالیهِم، قِفْ حَتّی تَشفَعَ لِکُلِّ مَن أخَذَ عَنکَ أو تَعَلَّمَ مِنکَ"۔ ان دنوں درحقیقت علماء کے وقار اور ان کے فرائض کے بارے میں بہت زیادہ بحث ہو رہی ہے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: آج عصر حاضر میں ایسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ دنیا کی مختلف قومیں انقلاب اسلامی کی روشنی میں قرار پا رہی ہیں اور دین اور اسلام کے کردار کو ایک خاص انداز میں اور شیعیت کو ایک خاص انداز میں سمجھنے کی طرف مائل ہیں۔

حوزہ علمیہ خراسان کے اس استاد نے کہا: فضلاء اور علمائے کرام کا فرض ہے کہ وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ راہِ تعلیم و تربیت پر گامزن رہیں اور سیرتِ ائمہ اور معارف اہلبیت علیہم السلام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔

حجت الاسلام والمسلمین علی اکبر نوائی نے کہا: طلباء کو حقیقت کو درک کرنے اور دینی علوم کے حصول میں حتی المقدور توانائیاں صرف کرنی چاہئیں اور اپنے الہی مشن اور ہدف کو بہتر انداز سے پورا کرنا چاہیے۔

حوزہ علمیہ خراسان کے استاد نے کہا: امام رضا (ع) حوزاتِ علمیہ کی علمی و معنوی حمایت کا مظہر ہیں۔ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے مشہد مقدس کو سنجیدگی اور بھرپور طریقہ سے عالم اسلام میں ایک طاقتور علمی مرکز بنانا چاہیے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .