منگل 18 مارچ 2025 - 21:10
قتلِ عثمان: حقیقت یا سازش؟

حوزہ/ اسلام کی تاریخ میں قتلِ عثمان ایک ایسا واقعہ ہے جو نہ صرف امت کے اندر فتنہ و فساد کا سبب بنا، بلکہ حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کر گیا۔ بدقسمتی سے تاریخ کو بگاڑ کر بنو امیہ کے مفاد میں ڈھال دیا گیا اور اصل مجرموں کو بچانے  کے لیے حضرت علی پر قتل عثمان کا بہتان نہ صرف معاویہ نے لگایا، بلکہ حضرت عائشہ نے بھی لگایا اور دونوں علی کو قتل کرنے ایک بڑا لشکر لے کر جنگ صفین اور جنگ جمل میں آئے مگر علی کو قتل  کر نے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

تحریر: شوکت بھارتی

حوزہ نیوز ایجنسی | اسلام کی تاریخ میں قتلِ عثمان ایسا واقعہ ہے جو نہ صرف امت میں فتنہ و فساد کا سبب بنا بلکہ اس نے حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی۔ افسوس کہ تاریخ کو مسخ کر کے اسے بنو امیہ کے مفاد میں ڈھال دیا گیا۔ اصل مجرموں کو بچانے کے لیے حضرت علی پر قتلِ عثمان کا جھوٹا الزام نہ صرف معاویہ نے لگایا، بلکہ حضرت عائشہ نے بھی اسی پروپیگنڈے کا حصہ بنیں۔ دونوں نے علی کے خلاف لشکر کشی کی اور جنگِ جمل و صفین میں علی کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔

یہ تحریر ان تاریخی حقائق کو واضح کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ آج کے مسلمان اس وقت کی فتنہ پرور سیاست اور اس کے اصل کرداروں کو پہچان سکیں۔

1. عثمان کی خلافت اور بنو امیہ کی اجارہ داری

اگرچہ ابوبکر اور عمر کے دور میں بھی بنو امیہ کے افراد حکومت میں داخل ہو چکے تھے، مگر ان کی اجارہ داری عثمان کے دور میں عروج پر پہنچ گئی۔

ابوسفیان نے اپنے بیٹے یزید اور پھر معاویہ کو شام کا گورنر بنوا لیا تھا، جہاں وہ من مانی حکومت کرتے رہے۔

عثمان نے نہ صرف معاویہ بلکہ دیگر بنو امیہ کے افراد کو بھی اہم عہدوں پر فائز کیا، جن میں سب سے نمایاں مروان بن حکم تھا، جس پر رسول اللہ (ﷺ) لعنت فرما چکے تھے اور اسے مدینہ میں داخل ہونے سے منع کر دیا تھا۔

ابوبکر اور عمر نے بھی رسول اللہ (ﷺ) کی اس پابندی کا احترام کیا، مگر عثمان نے خلافت سنبھالنے کے بعد مروان کو مدینہ بلا کر نہ صرف اسے قریبی مشیر بنایا بلکہ اپنی بیٹی کا شوہر بھی بنا دیا۔

خلافت کے تمام اختیارات مروان کے ہاتھ میں دے دیے گئے، اور عثمان محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئے۔

2. بنو امیہ کے گورنر اور ان کے مظالم

سوال: کیا اسلام ایسے ظالم حکمرانوں کو حکومت دینے کی اجازت دیتا ہے؟

جواب: بالکل نہیں! یہ رسول اللہ (ﷺ) اور قرآن کی صریح نافرمانی تھی۔

مختلف علاقوں میں بنو امیہ کے گورنر بدترین ظلم و ستم کرتے رہے۔

جب عوام نے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائی تو عثمان نے ان کرپٹ گورنروں کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔

صحابہ اور تابعین نے مطالبہ کیا کہ ان ظالم حکمرانوں کو معزول کیا جائے، عثمان نے زبانی وعدہ کیا مگر عمل نہ کیا۔

3. مروان کی سازش اور سازشی خط

عوام کے شدید احتجاج کے بعد عثمان نے مصر کے گورنر کو ہٹا کر محمد بن ابی بکر کو نیا گورنر مقرر کیا۔

لیکن مروان نے خفیہ طور پر ایک خط عثمان کی مہر کے ساتھ مصر کے پرانے گورنر کو بھجوایا، جس میں محمد بن ابی بکر کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ خط راستے میں پکڑا گیا، جس میں درج تھا:

"محمد بن ابی بکر اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دو!"

خط عثمان کی مہر کے ساتھ تھا، اسے عثمان کے غلام نے لے جا رہا تھا، اور وہی اونٹ استعمال ہوا جو عثمان کے قافلوں کے لیے مخصوص تھا۔

جب عوام نے احتجاج کیا تو عثمان نے مروان کو سزا دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد بغاوت شدت اختیار کر گئی۔

جب عوام نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا تو عثمان نے مروان کو سزا دینے کے بجائے اپنے محل میں پناہ دی، جس کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ گئے اور آخرکار عثمان قتل کر دیے گئے۔

حقیقت: عثمان اللہ کی راہ میں نہیں، بلکہ مروان جیسے لعنتی کو بچانے میں قتل ہوئے۔

4. ابن سبا کا جھوٹا فسانہ

بنو امیہ نے ایک فرضی کردار "عبد اللہ ابن سبا" گھڑ کر قتلِ عثمان کی ذمہ داری اس پر ڈال دی، تاکہ اصل مجرموں کو بچایا جا سکے۔

مگر طبری، بلاذری اور ابن اثیر جیسے مؤرخین کی کتابوں میں ابن سبا کے قتل عثمان میں شامل ہونے کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عثمان کو ان کے اپنے کرپٹ گورنروں کی حمایت، مروان کی سازش اور عوامی احتجاج کو دبانے کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔

5. جنگِ جمل و صفین: عثمان کے قتل کا بدلہ یا فتنہ؟

(الف) جنگِ جمل:

حضرت عائشہ، طلحہ اور زبیر نے علی کے خلاف جنگ چھیڑی۔

بہانہ: "عثمان کے قتل کا بدلہ لینا"۔

اصل مقصد: مروان اور بنو امیہ کی حفاظت۔

جنگ میں طلحہ اور زبیر مارے گئے، اور علیؑ نے فتنہ ختم کر دیا۔

(ب) جنگِ صفین:

معاویہ نے حضرت علی کی خلافت قبول کرنے سے انکار کیا۔

بہتان: "علی عثمان کے قاتل ہیں اور قاتلوں کو پناہ دے رہے ہیں"۔

علی کا مؤقف: "پہلے بیعت کرو، پھر عدل کے مطابق فیصلہ ہو گا"۔

معاویہ نے علی کے خلاف جنگ مسلط کر دی۔

6. حضرت علی کی حقانیت

رسول اللہ (ﷺ) کے ارشادات:

1. "علیؓ حق پر ہے اور حق علیؓ کے ساتھ ہے۔" (ترمذی، نسائی)

2. "علیؓ سے محبت صرف مؤمن رکھے گا، بغض صرف منافق۔" (مسلم، احمد)

نتیجہ:

حضرت علی کے خلاف لڑنے والا رسول اللہ (ﷺ) کا نافرمان اور فتنہ پرور تھا۔

معاویہ، مروان اور بنو امیہ نے علی کے خلاف جنگیں لڑیں، پس وہی منافق ثابت ہوتے ہیں۔

7. نتیجہ: حق و باطل کی پہچان

عثمان کے قتل کا اصل سبب مروان اور بنو امیہ کی سازشیں تھیں۔

"ابن سبا" ایک جھوٹا افسانہ تھا، تاکہ حقائق کو چھپایا جا سکے۔

حضرت علی حق پر تھے، ان کے دشمن (معاویہ، مروان) فتنہ پرور اور منافق تھے۔

بنو امیہ نے خلافت کو ملوکیت میں بدل کر امت میں فتنہ کھڑا کیا۔

امت کو آج سچ جاننے کی ضرورت ہے: جو علیؑ کا دشمن ہے، وہ رسول اللہ (ﷺ) کا دشمن ہے، اور ایسا شخص پکا منافق ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha