جمعہ 21 مارچ 2025 - 16:05
"فُزْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ" امام علیؑ کی کامیابی کا راز

حوزہ/ امام علیؑ کی شہادت کے وقت فرمایا گیا جملہ "فُزْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ" ان کی کامیابی کی گواہی دیتا ہے۔ یہ جملہ تقویٰ الٰہی اور بندگانِ خدا پر احسان جیسے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر کوئی حقیقی کامیابی چاہتا ہے تو اسے امام علیؑ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔

تحریر: مولانا مرزا محمد

حوزہ نیوز ایجنسی | الفضل ما شھدت بہ الاعداء اصل فضیلت وہ ہے جس کے قائل دشمن بھی ہوں ‘‘ یہ جملہ ایک ضرب مثل کی مانند مشھور ہوا جو کہ عمر وعاص کے اشعار کا ایک فقرہ تھا اس شعر کی حکایت کچھ یوں ہے کہ ایک روز مصر سے کچھ لوگ معاویہ کے لئے ایک نفیس قالین لائے ،معاویہ و عمرو عاص نے یہ شرط رکھی کہ جو کوئی علی بن ابی طالب کی فضیلت میں شعر کہے گا اس کو یہ قالین ھدیہ میں ملے گا پھر کیا تھا دربار معاویہ کی باطل زبانیں بول اٹھیں اور ہر کسی نے امام علی ؑ کے فضائل بیان کرنا شروع کر دئے معاویہ نے اس محفل کی شروعات کی اور کہا :

خیرُ الوری مِن بعدِ اَحمدَ حیدر و الناس اَرضٌ و الوصی سماءٌ

’’یعنی بہترین انسان بعد خدا و رسول، علی بن ابی طالب ہیں انکی مثال تمام انسانوں میں ایسی ہی ہے جیسی آسمان کی تمام زمین کے لئے‘‘ یعنی یہ کہ زمین کی تمام تر رنگینی و رعنائی آسمان کی بدولت ہے اگر آسمان سے آب رحمت نہ برسے تو زمین پژمردہ ہو جاتی ہے پس اگر علی ان خاکی بندوں میں نہ ہوتے تو تمام بشریت مردہ متحرک کی مانند زندگی گزارتی ۔اس شعر کا کہنا تھا کہ عمرو عاص نے اس شعر پر شعر کہا :

هذا الذی شَهِدَ العدوُّ بِفضلِهِ

والفضلُ ما شهدت بهِ الاعداءُ

یعنی علی وہ ہیں جس کی فضیلت ان کا سب بڑا دشمن (معاویہ) بھی اپنی زبان سے بیان کر رہا ہے اور اور کمال افخار یہ ہے کہ دشمن اس کی گواھی دے رہا ہے ۔ ایسی ھستی کے فضائل بیان کرنا ایک محب کے لئے نہایت دشوار ہے جو انکی محبت میں غوطہ زن ہو ایسی ذات جس کی مدح اس کا دشمن بھی کررہا ہو اس کے فضائل کا احاطہ ممکن نہیں ایسے حالات میں محب لاچار ہو کر بول اٹھتا ہے موالی لا احصی ثنائکم ’’اے ہمارے آقا و سردار ہم آپ کے فضائل کا احاطہ نہیں کر سکتے ‘‘ ایسی بافضیلت و با کمال ذات جس کے فضائل کی انتہا تک کسی کی رسائی نہیں اسکی زبان سے نکلے ہوئے ہر ہر جملہ میں انسانی زندگی کے بہرہ مند رمز نہاں ہیں جن کی اتباع انسان کو زمین پر رہتے ہوئے عرش کی سیر کرانے کی سکت رکھتی ہے۔ایسے نایاب جملات میں سے ایک جملہ یہ بھی ہے جو امام علی نے اپنے آخری ایام میں فرمایا جو تاریخی صفحات میں مرقوم ہے ’’فُزتُ و رب الکعبه‘‘ رب کعبہ کی قسم علی کامیاب ہو گیا‘‘ اہل سنت و شیعہ تاریخ نگاروں نےاس جملہ کو اپنی اپنی کتابوں میں مرقوم کیا جیسا کہ سید مرتضیٰ ،ابن قتیبہ دینوری ،ابن اثیر نے لکھا کہ جس وقت ابن ملجم مرادی نے لا حکم الا اللہ کا نارہ لگا کر پیشانی علی پر ضربت لگائی امام علی نے بے ساختہ کہا ’’فُزتُ و رب الکعبه‘‘ ۔

شھید مطھری فرماتے ہیں امام علیؑ کے اس فقرہ کو ادا کرنے کے بعد شھادت تک یعنی مکمل دو روز نے سب کو بتا دیا کے علی تمام انسانیت میں اکمل ذات ہیں خصوصا اس جملہ نے کیونکہ شھادت شھید کے لئے موفقیت کی کلید ہے نہ کہ شکست ۔آیۃ مکارم شیرازی فرماتے یہ جملہ شاھد ہے کہ علیؑ کی ذات اس مادی دنیا سے ماوراء تھی اور اس دنیا سے علیؑ کو کوئی ربط نہ تھا اسی لئے جیسے ہی زندگی کا وہ واحد پیوند جو علؑی کی ذات اور لقائے الٰہی میں بقدرہ حائل تھا، جب ابن ملجم کی ضربت سے ٹوٹ گیا تو علؑی نے بے ساختہ کہا؛فُزتُ و رب الکعبه ۔

بعد شب ضربت، امامؑ کےگھر میں چاہنے والوں کا تانتاں بندھ گیا ہر کوئی امام کی عیادت کے لئے آتا اور امام اس سے کچھ وعظ و نصیحت فرماتے انہیں چاہنے والوں میں سے ایک حبیب بن عمر بھی تھے جب یہ امام کی عیادت کے لئے آئے تو اس وقت طبیب امام کے زخم کوکھول کر اسے صاف کر رہا، حبیب نے امام کے زخم کے عمق کو دیکھا تو بولے مولٰی آپ پہ یہ کیسی مصیبت ڈھایئ ہے!! امام نے نحیف آواز میں فرمایا پس چند لمحوں میں ، میں تم لوگوں سے جدا ہو جاؤ گا ۔اتنا سننا تھا کہ پشت پردہ ام کلثوم کی گریہ کی آواز بلند ہو گئی امام نے بیٹی کی آواز سنی تو فرمایا بیٹی گریہ نہ کروں اگر تم وہ دیکھ رہی ہوتی جو میں دیکھ رہا ہوں تو گریہ نہ کرتیں ،حبیب نے پوچھا مولٰی آپ کیا دیکھ رہیں ؟فرمایا ملائکہ کی صفوں کو جو میرے استقبال میں منتظر ہیں اور رسول اکرم کو جو باہیں پھلائے مجھے بلا رہیں پھر امام نے سورہ نحل ۱۲۸ آیۃ کی تلاوۃ فرمائی ان الله مع الذین اتقوا و هم محسنون ’’ بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور احسان کرنے والے ہیں ‘‘ علی نے اس آیۃ میں مزکور دو حقیقتوں پر زندگی گزاری اور آخر وقت اپنے چاہنے والوں کو یہ تلقین کی کہ وہ بھی ان اصولوں پر زندگی گزاریں ۔

اس آیت کی تلاوت اور ان پر علی کی زندگی کا انحصار در واقع ریشہ و بنا تھی کہ علی موت سے روبرو ہو کر فرماتے ہیں فُزتُ و رب الکعبه رب کعبہ کی قسم علی کامیاب ہو گیا ۔

آیۃ کے ذیل میں زندگی کے دو اصول

امام علی نے حبیب کے سامنے جس آیۃ کی تلاوت کی اس میں زندگی کے دو اصول پنہاں ہیں ایک ارتباط و تقویٰ الٰہی اور دوسرے لوگوں پراحسان کی توفیق ، وہ شخص جس کی پوری زندگی ھدایت بشر میں گزری وہ یقینا اپنی زندگی کے ان آخری لمحات میں، مختصر و مفید کلمات کے ذریعہ ھدایت بشر ہی چاہتا ہے لہاذا علی نےایسی آیۃ کی تلاوت کی جس میں زندگی کے دو ایسے اصول ہیں بیان ہیں جن پر اگر کوئی شخص زندگی گزارے تو شاید وہ اپنی موت کو آسان اور کامیاب بنا سکتا ہے ۔نہج البلاغہ میں کئی مقام پر ان دو پہلوؤں کا ذکر ملتا ہے ۔

خدا سے محکم ارتباط یعنی تقویٰ الٰہی ۔۔۔

رسول اکرم ایک نایاب حدیث میں بیان فرماتے ہیں من التق اللہ عاش قویہ جس نے اللہ کا تقویٰ اختیار کیا ہو وہ قوت کی زندگی گزرتا ہے ‘‘ہمارے معاشرہ میں تقویٰ کو لے کر ایک غلط تصور پایا جاتا ہے وہ یہ کہ تقویٰ کے معنی خوف و حراس ہے جب کہ ایسا نہیں تقویٰ انسان کو قوی و مستحکم بناتا ہے ۔اور امام علی کی وصیت کی ابتدا ہی اصیکما بتقوی اللہ سے ہو رہی ہے ہمارے امام چاہتے ہیں کہ ان کے چاہنے والے قوت کے ساتھ زندگی گزاریں نہ کہ خوف و حراس میں۔! امام علی نےاسی اصول پر زندگی گزاری اور آخری وقت حبیب کو اس آیۃ کی تلقین کر کے تمام شیعیان کو یہ پیغام دیا کہ وہ بھی اگر اپنے اور اپنے خدا کے درمیانی تعلق کو محکم کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کہو کہ تقویٰ اختیار کریں کیونکہ خدا اسی کے ساتھ ہے جو متقی ہوگا اور جس کے ساتھ خدا ہے اسی کے پاس قوت ہے !!

بندگان خدا پر احسان کی شکلیں ؛

یہ دوسرا اصول زندگی ہے امام نے پوری زندگی معاشرہ و جامعہ کے ساتھ صمیمانہ تعلق رکھا لہاذا اپنے آخری ایام میں فرمایا: علَيْكُمْ بِالتَّواصُلِ وَ التَّباذُلِ، وَ اِيّاكُمْ وَ التَّدابُرَ و التَّقاطُعَ ’’تم ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد اور دوستی رکھو، اور ایک دوسرے کو مال و دولت دو، اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے اور ایک دوسرے کو کاٹنے سے بچو‘‘

دوسرے مقام پر فرمایا لاتَتْرُكُوا الاَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَ النَّهْىَ عَنِ الْمُنْكَرِ فيُوَلّى عَلَيْكُمْ اَشْرارُكُمْ، ثُمَّ تَدْعُونَ فَلا يُسْتَجابُ لَكُمْ کہیں ایس نہ ہوکہ تم ایک دوسرے سے قطع رحم کر لو۔ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ ایک فاسق تم پر غالب آجائیں گے اور پھر تم دعا کرو گے تو قبول نہیں ہوگی۔کہیں فرمایا وَ كُونا لِلظّالِمِ خَصْماً، وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً ’’ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی بنو‘‘۔ یہ تمام کلمات ایک بہترین معاشرہ کی تشکیل کے لئے نہایت مفیدہیں ایک بہترین معاشرہ کی پہچان یہ ہے کہ ان میں موجود ہر فرد ایک دوسرے پر احسان کرتا ہے احسان کی کئی صورتیں کبھی مال و متاع کے ذریعہ کبھی وعظ و نصیحت کے ذریعہ اور کبھی پریشان حالی میں ان کے ساتھ کھڑا ہوکر ان پر ظلم ڈھانے والے ظالموں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے ۔

گرچہ ہم نہ ہی امام علی سے مکمل طور پر آشنا ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے کلمات کی مکمل تشریح کر سکتے ہیں مگر یہ کہ قرآنی آیات سے مدد لیں یا خود ان کے دوسرے کلمات ہمیں حیرانی و پریشانی سے نجات دلائں امام نے اس آیۃ (نحل ۱۲۸)کے ذیل میں فزت و رب الکعبہ بقدرےشرح فرمائی اس طرح کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسکی موت یعنی اسکا انجام بھی کامیابی پر ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ان دو اصولوں پر زندگی گزارے خدا سے محکم ارتباط اور بندگان خدا پر احسان !!بحر حال و اللہ اعلم امام ؑکے اس جملہ کے اور کتنے پہلوں نکل سکتے اس کا علم کامل ہماری استعداد سے باہر ہے لسان اللہ کا خطاب پانے والی زبان صافات الٰہی کی تجلی گاہ ہے اور اس کی لا محدودیت، محدود زمان و مکاں کے ادراک باہر ہے خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان ھستیوں کے کلمات متمسک ہونے اور ان عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔!!!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha