حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کے معصوم سوالات، خاص طور پر خدا کے بارے میں، جواب دینے سے پہلے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سمجھ بوجھ اور مکالمے کی فضا قائم کی جائے۔ یہ سوالات حجت الاسلام غلامرضا حیدری ابهری کی کتاب «خداشناسی قرآنی کودکان» سے ماخوذ ہیں، جو سادہ مگر گہرے سوالات کے ذریعے بچوں کو خدا کے بارے میں سوچنے کا واضح راستہ دکھاتی ہے۔
خدا کیسا ہے؟ وہ کس جیسا ہے؟
کچھ بچے پوچھتے ہیں:
خدا کیسا ہے؟
وہ کس جیسا ہے؟
کچھ بچے خیال کرتے ہیں کہ خدا کسی پرندے جیسا ہے جو ستاروں کے پار اُڑتا رہتا ہے۔
کچھ سمجھتے ہیں کہ خدا سورج کی طرح ہے اور بہت دُور، دنیا کے اُس پار رہتا ہے۔
اور بعض بچے خدا کو ایک سفید داڑھی والے بزرگ کی طرح تصور کرتے ہیں جو آسمان میں ایک بڑے سے گھر میں رہتا ہے۔
لیکن پیارے بچوں! یہ بات یاد رکھو کہ ان میں سے کوئی بھی تصور درست نہیں۔
خدا کسی چیز اور کسی شخص جیسا نہیں ہے۔
وہ اتنا عظیم ہے کہ دنیا کی کسی مخلوق سے اس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔
خود خدا نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اس کا کوئی ہمسر اور کوئی مثال نہیں۔
ہم عام طور پر انہی چیزوں کو ایک دوسرے جیسا کہتے ہیں جنہیں ہم نے دیکھا ہو۔
مثلاً ہم کہتے ہیں: سائیکل کے پہیے انسان کے پیروں جیسے ہیں۔ بلب سورج جیسا ہے۔ وہ بادل خرگوش یا دل کی شکل کا لگتا ہے۔ ہماری ٹیچر امی جیسی ہیں اور ہمارے استاد ابو جیسے۔
لیکن یہاں ایک بہت اہم بات ہے: ہم صرف انہی چیزوں کو ایک دوسرے جیسا کہہ سکتے ہیں جنہیں ہم نے دیکھا ہو۔
اب ذرا سوچو…
جب کسی نے خدا کو دیکھا ہی نہیں اور نہ کبھی دیکھ سکے گا، تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کس جیسا ہے؟
جس خدا نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہو، وہ اپنی ہی مخلوق جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟
اگر ہم کہیں کہ خدا سورج جیسا ہے، یا پہاڑ جیسا، یا پرندے یا انسان جیسا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم خدا کو چھوٹا کر رہے ہیں، حالانکہ خدا ان سب سے کہیں بڑا اور زیادہ طاقتور ہے۔
جس خدا کو ہم جانتے ہیں، وہ:
مہربان ہے، بخشنے والا ہے، جاننے والا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے،لیکن وہ کسی بھی ایسی چیز جیسا نہیں ہے جو ہم دیکھ سکتے ہیں۔
درخت، پہاڑ، دریا، آسمان اور ستارے، یہ سب خدا کی مخلوق اور اس کی نشانیاں ہیں،مگر خود خدا ان میں سے کسی جیسا نہیں۔
اب ایک اور سوال جو اکثر پوچھا جاتا ہے:
کیا خدا مرد ہے یا عورت؟
جو باتیں ہم نے ابھی کیں، ان کو سمجھ کر تم خود اس کا جواب دے سکتے ہو۔
مرد ہونا یا عورت ہونا صرف انسانوں کی صفت ہے۔ ہم انسان یا مرد ہوتے ہیں یا عورت۔ لیکن خدا انسان سے کہیں بلند ہے، اس لیے یہ باتیں خدا کے بارے میں معنی نہیں رکھتیں۔
اس لیے خدا نہ مرد ہے اور نہ عورت؛ وہ صرف خدا ہے۔
قرآن کے سورہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَد میں بھی آیا ہے کہ خدا کا کوئی ہمسر اور کوئی مثال نہیں۔
ہاتھ ہونا، پاؤں ہونا، تھک جانا، ڈر جانا، پسینہ آنا، باپ یا ماں ہونا، مرد یا عورت ہونا ۔ یہ سب انسانوں کی خصوصیات ہیں۔
لیکن خدا ان میں سے کوئی بھی نہیں، کیونکہ وہ ہماری طرح نہیں ہے۔
وہ ایک بے مثال ہستی ہے، واحد خدا، عظیم خدا، ایسا خدا جو کسی بھی چیز جیسا نہیں۔









آپ کا تبصرہ