جمعرات 1 جنوری 2026 - 21:38
سال نو کو خود احتسابی اور غلطیوں کو نہ دہرانے کے عہد کے ساتھ شروع کیا جائے

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: سال نو عیسوی کا آغاز خود احتسابی اور غلطیوں کو نہ دہرانے کے عہد کے ساتھ کیا جائے۔ گزشتہ سال کے ظلم و جبر کی داستانیں غزہ سمیت ارض فلسطین سنا رہی ہے وہ دن دور نہیں جب ظلم کا خاتمہ اور عدل کا نظام قائم ہو گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سال نو عیسوی 2026ء کے آغاز پر جاری اپنے پیغام میں کہا: سال نو کو خود احتسابی اور غلطیوں کو نہ دہرانے کے عہد کے ساتھ شروع کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا: 2025ء گزر چکا مگر آج بھی گزشتہ سال کے ظلم و جبر کی داستانیں غزہ سمیت ارض فلسطین سنا رہی ہے، مظلوم فلسطینیوں، کشمیریوں کا ایک اور سال جبر و ظلم و قبضے کی نذر ہوا۔ لبنان و شام سمیت خطے کی صورتحال پر امت مسلمہ کیلئے گزشتہ سال بھی سوگوار رہا، مگر وہ دن دور نہیں جب ظلم کا خاتمہ اور عدل کا نظام قائم ہو گا۔

علامہ سید ساجد نقوی نے کہا: پاکستان کے عوام بھی لاقانونیت، افراتفری، مہنگائی و بے روزگاری سے تنگ، کرم پارا چنار سمیت پاکستانی عوام آج بھی پائیدار امن و تحفظ کی آرزومند ہیں۔

انہوں نے کہا: صاحبان اقتدار اپنے قول و فعل سے ثابت کریں کہ آنے والا سال ارض وطن کیلئے داخلی و معاشی، معاشرتی اور اخلاقی استحکام کا باعث ہو گا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: سال گزشتہ سے پیوستہ سال ارض پاک کے باسیوں کو عدم تحفظ، بے چارگی، غربت، پسماندگی اور ذہنی اذیتوں کے سوا کچھ نہ دے پایا جبکہ ایک سال اور گزر گیا مگر نظام درست ہوا نہ عام آدمی کے مسائل حل ہوئے بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے اثرات موجود رہے جو آج بھی پارا چنار، کرم کی صورتحال سے واضح ہیں اور عوام آج بھی امن و استحکام کے متلاشی ہیں ۔سال نو کے آغاز پرعام آدمی بھی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کب عوام دوست پالیسیاں مرتب کی جائیں گی؟ عوام کی امیدوں کی بارآوری، ان کی مشکلات کے خاتمے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا سورج طلوع ہو گا؟ اور کب عوام کو مساوی اور یکساں حقوق کی فراہمی کے ساتھ انصاف میسر ہو گا؟

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا: رسم دنیا ہے کہ جب نئے سال کا آغاز ہوتا ہے تو حکمران، سیاسی جماعتوں کے سربراہان، تمام سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق افراد تجدید عہد کے بیانات جاری کرتے ہیں کہ گذشتہ سال ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آئندہ سال احتیاط کریں گے لیکن جب سال کا اختتام ہوتا ہے تو صورت حال پہلے سے بھی بدتر ہوتی ہے۔ صاحبان اقتدار اپنے قول و فعل سے ثابت کریں کہ آنے والا سال ارض وطن کیلئے داخلی و معاشی، معاشرتی اور اخلاقی استحکام کا باعث ہو گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha