ہفتہ 3 جنوری 2026 - 10:50
علی (ع) اور الٰہی معاشرے کا قیام؛ عدل و انصاف، انسانی حقوق اور عوامی بھلائی علوی سیاست اور قیادت کا محور: سید زوار حسین ایڈووکیٹ

حوزہ/ 13 رجب المرجب کے بابرکت موقع پر، چیئرمین جموں و کشمیر پاکستان جعفریہ سپریم کونسل، سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ نے مسلمانان عالم کو امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت باسعادت پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی (ع) نے الٰہی معاشرے کے قیام کے لیے عدل و انصاف، انسانی حقوق اور عوامی بھلائی کو اپنی سیاست اور قیادت کا محور بنایا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 13 رجب المرجب کے بابرکت موقع پر، چیئرمین جموں و کشمیر پاکستان جعفریہ سپریم کونسل، سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ نے مسلمانان عالم کو امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت باسعادت پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی (ع) نے الٰہی معاشرے کے قیام کے لیے عدل و انصاف، انسانی حقوق اور عوامی بھلائی کو اپنی سیاست اور قیادت کا محور بنایا۔

سید زوار حسین نقوی نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بے مثال انسیت، محبت اور وفاداری کی روشن مثال ہے۔ آپ نے ہر مشکل، آزمائش اور خطرناک لمحے میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وفاداری کا عملی نمونہ پیش کیا اور دین حق کی سربلندی کے لیے اپنی تمام توانائیاں وقف کر دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے عدل و انصاف پر مبنی فیصلے، مشکل ترین حالات میں آپ کی حکمت عملی اور قیادت آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ نے الہی معاشرہ کے قیام کے لیے عدل و انصاف، انسانی حقوق اور عوامی بھلائی کو اپنی سیاست اور قیادت کا محور بنایا۔ آپ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق کے راستے پر چلنا، ہر حال میں انصاف قائم رکھنا اور اخلاقی اصولوں پر ثابت قدم رہنا ایمان کی اصل روح ہے۔

سید زوار حسین نقوی نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی سیرت مطہرہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی ذاتی، معاشرتی اور دینی زندگی میں عدل، محبت، قربانی اور وفاداری کے اصول اپنائیں۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی پیروی میں اپنی زندگی کو سنوارنے کی رہنمائی کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha