منگل 6 جنوری 2026 - 17:30
مذہب تشیع میں انتظار کا مقام (حصہ دوم)

حوزہ/ انتظارِ فرج محض ایک قلبی کیفیت یا وقتی امید کا نام نہیں، بلکہ شیعہ ثقافت میں یہ ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی اور عملی رویہ ہے، جسے دینی تعلیمات نے عبادت، بہترین عمل، بلکہ برترین جہاد تک قرار دیا ہے۔ زیرِ نظر بحث میں انتظار کے اسی وسیع اور گہرے مفہوم کا جائزہ لیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | اسلامی معارف میں انتظارِ فرج کو ایک بنیادی اور زندگی ساز حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس مفہوم میں دینی تعلیمات نے صرف ’’اجتماعی نجات‘‘ یا روشن مستقبل کی امید دلانے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یأس و ناامیدی کی سختی سے مذمت بھی کیا ہے اور انسان کو امید اور مثبت عمل کی راہ پر گامزن کیا ہے۔

مہدویت سے متعلق روایات کا ایک اجمالی مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انتظار کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث کو مجموعی طور پر دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پہلے درجے، یعنی انتظارِ فرج کے عمومی مفہوم پر گفتگو کی جا رہی ہے۔

انتظارِ فرج کا عمومی مفہوم

اس مفہوم کے مطابق، انتظار انسان کو مستقبل کی امید سے جوڑتا ہے، اس کی روح میں زندگی کی حرارت پیدا کرتا ہے اور اسے ناامیدی، بے عملی اور شکست خوردگی سے نجات دلاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نے اس نوع کے انتظار کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ اسے نہایت بلند عناوین سے یاد کیا گیا اور اس کے لیے حیرت انگیز قدریں بیان کی گئی ہیں۔

۱۔ عبادت اور بندگی

قرآنِ کریم کے مطابق انسان اور جن کی تخلیق کا بنیادی مقصد بندگیِ خدا ہے: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ﴾

(الذاریات، ۵۱: ۵۶)

“اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔”

رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی بندگی کی ایک نمایاں صورت انتظارِ فرج کو قرار دیتے ہوئے فرمایا: «اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ عِبَادَةٌ»

(شیخ طوسی، الامالی، ص ۴۰۵)

یعنی: انتظارِ فرج عبادت ہے۔

چونکہ عبادت کا شمار عموماً انسانی اعمال میں ہوتا ہے، اس لیے اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ انتظار محض ذہنی آرزو نہیں بلکہ ایک عملی طرزِ زندگی ہے۔

۲۔ برترین عبادت

دینی تعلیمات کے مطابق بعض عبادات کو دوسری عبادات پر فضیلت حاصل ہے، کیونکہ ان کا انسانی کردار سازی میں اثر زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اسی بنا پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتظارِ فرج کو صرف عبادت ہی نہیں بلکہ برترین عبادت قرار دیا: «اَفْضَلُ الْعِبَادَةِ اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ»

(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۲۸۷)

یعنی: سب سے افضل عبادت انتظارِ فرج ہے۔

۳۔ برترین اعمال

کچھ روایات میں انتظار کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہترین اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: «اَفْضَلُ اَعْمَالِ اُمَّتِی اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ»

(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۲، ص ۶۴۴)

یعنی: میری امت کے بہترین اعمال میں سے ایک، اللہ کی جانب سے فرج و ظہور کا انتظار ہے۔

۴۔ خود انتظار ہی فرج ہے

نفسیات کے جدید علوم نے یہ ثابت کیا ہے کہ امید انسان کے اجتماعی اور انفرادی رویّوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ روشن مستقبل کی امید، موجودہ زندگی کو بھی حرکت، توانائی اور معنویت عطا کرتی ہے۔

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بعض روایات میں فرمایا گیا ہے کہ خود انتظارِ فرج ہی ایک قسم کی گشایش ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

«اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنْ اَعْظَمِ الْفَرَجِ»

(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۳۱۹)

یعنی: فرج کا انتظار خود سب سے عظیم فرج ہے۔

۵۔ برترین جہاد

اسلامی تعلیمات میں جہاد، یعنی اللہ کی راہ میں مسلسل کوشش اور جدوجہد، کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی بے شمار روایات اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں۔

انتظارِ فرج کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے بعض روایات میں اسے ’’برترین جہاد‘‘ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: «اَفْضَلُ جِهَادِ اُمَّتِی اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ»

(تحف العقول، ص ۳۷)

یعنی: میری امت کا سب سے افضل جہاد انتظارِ فرج ہے۔

یہ تمام روایات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ انتظار ایک فعال، بامقصد اور ذمہ دارانہ عمل ہے، نہ کہ گوشہ نشینی یا بے عملی۔

ان تمام تعلیمات کے مقابل، قرآنِ کریم میں اللہ کی رحمت سے ناامیدی کو سختی سے مذموم قرار دیا گیا ہے اور اسے بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے: ﴿إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ﴾

(سورۂ یوسف، ۱۲: ۸۷)

جاری۔۔۔

ماخذ: کتاب «درسنامۂ مہدویت»، تصنیف: خدامراد سلیمیان (معمولی ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha