جمعہ 13 فروری 2026 - 16:19
تبلیغِ دین انبیاء کے راستے کا تسلسل ہے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین نظری منفرد نے عصرِ غیبت میں علما کے مقام پر زور دیتے ہوئے کہا: معاشرے کی فکری اور اعتقادی رہنمائی، دین کا عالمانہ دفاع اور لوگوں کو شبہات اور شیطان کے جالوں سے نجات دلانا علما کا بنیادی کردار ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ،استاد حوزہ علمیہ قم حجت الاسلام والمسلمین نظری منفرد نے آیت اللہ العظمی علوی گرگانی رحمۃ اللہ کے چوتھے یومِ ارتحال کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں اس فقیہ پرہیزگار کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا: انسان کی عمر نہایت تیزی سے گزر جاتی ہے اگر انسان اس الٰہی سرمایہ سے درست طور پر فائدہ نہ اٹھائے تو انجامِ کار حسرت اور پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے موت کی حقیقت اور انسانی عمر کی کوتاهی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دنیا کی چمک دمک کی وجہ سے انسان کو حقائق سے غفلت نہیں کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور موت کی یاد دینی معارف کی یقینی باتوں میں سے ہے۔ سب لوگ اس دنیا میں چند روز رہے اور چلے گئے اور ہم بھی انہی سے جا ملیں گے۔ بچپن، نوجوانی، جوانی اور ادھیڑ عمری کے مواقع بہت تیزی سے گزر جاتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اس دنیا میں کب تک رہے گا۔

استادِ حوزہ علمیہ قم نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ایک خطبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: حضرت فرماتے ہیں جب تک زندگی باقی ہے اور اعمال کا نامہ کھلا ہوا ہے اور توبہ کا راستہ بند نہیں ہوا اس وقت کو غنیمت جانو اس سے پہلے کہ موت کے ساتھ عمل کا چراغ بجھ جائے، مہلت ختم ہو جائے اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے۔

انہوں نے ماہِ شعبان کے آخری دنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اس وقت ماہِ مبارک رمضان کے قریب ہیں اور ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم نے ماہ مبارک شعبان کے مواقع سے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔ امام رضا علیہ السلام سے عبدالسلام ہروی کے نام ایک روایت میں باقی ماندہ دنوں میں کوتاہیوں کی تلافی اور ماہِ رمضان میں داخلے کی تیاری پر زور دیا گیا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین نظری منفرد نے امام ہادی علیہ السلام کی ایک حدیث کے حوالے سے عصر غیبت میں علما کے تین بنیادی کردار بیان کیے اور کہا: پہلا فریضہ لوگوں کو خدا اور اس کے دین کی طرف ہدایت اور راہنمائی کرنا ہے، خواہ وہ زبان سے ہو، قلم سے یا عمل سے۔ دین کی تبلیغ، انبیا کے راستے کا تسلسل ہے اور علما نے تاریخ میں اس ذمہ داری کو نبھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: علما کا دوسرا کردار دین کے تقدس کا دفاع اور شبہات کا جواب دینا ہے۔ تاریخ میں الحادی اور مادیت پسند خیالات اٹھتے رہے ہیں لیکن علما نے دلیل اور برہان کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور جواب دیا ہے۔

حوزه علمیہ قم کے اس استاد نے علما کے تیسرے کردار کو لوگوں، بالخصوص کمزور افراد کو شیطان کے جال سے نجات دلانا قرار دیا اور کہا: علما ہدایت، روشنی اور علمی دفاع کے ذریعے معاشرے کو انحراف سے بچاتے ہیں۔ تحریک اسلامی میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد اور دین کے دفاع میں مشکلات برداشت کرنا، علما کی اس تاریخی ذمہ داری کی ایک واضح مثال ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha