حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جعفریہ الائنس پاکستان کے تحت نشترپارک کراچی میں تعزیتی ریفرنس بیاد الشہدائے جامع مسجد و امام بارگاہ خدیجۂ الکبری ترلائی و استقبال رمضان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ سانحہ ترلائی کے شہدا کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ہمیں احساس دلایا گیا ہے کہ جان لو تمھارے دشمن ختم نہیں ہوئے۔ ہم ہمیشہ اپنے جانوں کے نظرانے پیش کیئے۔ ان سب ظلم و ستم کے باوجود ہمارے دلوں میں وطن عزیز کی محبت ختم نہیں کی جاسکتی۔ وطن عزیز کو ہم نے اپنی ماں کی طرح جانا ہے اور مانتے ہیں۔ یہ ملک سنی شیعہ سب نے مل کر بنایا۔
علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ یہ جو خودکش حملے ہیں وہ اس کی ساخت کو نقصان پہنچانے کے لیئے ہیں۔ لیکن ہم ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔ الحمد ہم اس ملک میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ہم پاکستانی اور حسینی ہیں۔ عزاداری کو ہم اپنی عبادت جانتے ہیں۔ مودت و محبت اہلیبیت نہ ہو تو ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیئے ہم اپنے نظریئے اپنے مکتب کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اہلبیت کی تعلیمات اور ان کی محبت کی تبلیغ کے کاہل ہیں۔ امام حسین کے چاہنے والوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان کے قوانین اور ریاستی تقاضوں ملوض خاطر رکھتے ہوئے نظم و ضبط سے کام لینا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔
علامہ عباس کمیلی نے اپنے رفقا کے ساتھ مل کر ایک پلیٹ فارم جعفریہ الائنس پاکستان بنائی۔ جہاں انہوں تمام ملت جعفریہ کو اکٹھا کیا۔ 24 اکتوبر 2025 میں نے جعفریہ الائنس پاکستان کی صدارت کا حلف اٹھایا۔ تقریب میں جعفریہ الائنس کے ذمہ داران نے حلف اٹھایا۔









آپ کا تبصرہ