تحریر: ڈاکٹر مسرور صغریٰ رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی | رمضان یعنی گناہوں کو جلانے والا ۔۔۔۔ہمارے گناہان کبیرہ و صغیرہ کو عفو کرنے والا مہینہ ۔ بیشک خدا غفورالرحیم ہے مگر کیا آپ نے غور کیا کیسے گناہ ہیں جو خدا معاف کردے گا یقینا وہ ایسے گناہ ہیں جہاں آپ نے حقوق اللہ کے پورا کرنے میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا یا پھر اپنے نفس پر کم عقلی و کم فہمی و نادانی کے سبب ظلم کرلیا ان سب گنایوں کو تو خدا معاف کردے گا مگر وہ ظلم وہ جرم جو آپ نے حقوق العباد کے سلسلے میں اور بندہ خدا کی ذات اقدس پر کئے ہیں وہ گناہ خدا تب تک معاف نہیں کرے گا جب تک وہ شخص خود آپ کو نہ معاف کردے جس کے آپ گناہگار ہیں۔آج کے عہد میں لوگ نہ جانے کس غلط فہمی میں غرق اور ایک مست ہاتھی کی طرح بے فکری سے زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس خود ستائی کے غرور کے نشے میں وہ اپنے سوا سب بھول گئے ہیں اپنی ذات کی آرائش و زیبائش ہی ان کے لئے سب کچھ ہے وہ صرف اپنے مفاد کو پورا کرنے میں لگے ہیں اور اس معاملہ کو سر کرنے میں ان سے کب کہاں دوسروں کے حق کی حق تلفی ہورہی ہےان پر ظلم ہورہا ہے ان کی ہرزہ سرائی ہورہی ہے ان کے دل رنجیدہ ہورہے ہیں ان سب باتوں سے وہ بالکل نا آشنا ہیں انہیں ہر حال میں اپنے وجود کو منوانا ہے اس کی برتری ثابت کرنی ہے اور اس عمل کےنتیجے میں پیدا ہونے والی خرابی اور ناانصافی سے انہیں کوئی مطلب نہیں۔۔سچ بتائیے کیا یہی طرز بندگی ہے کیا یہی طریق بندگی ہے ۔۔۔نہیں نہ جانے آج کا انسان کس خود پرستی کے نشے میں چور ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ گویا کبھی اس کا سامنا خدا سے ہوگا ہی نہیں کبھی اسے اپنے کرموں کا جواب دینا ہی نہیں پڑے گا وہ بھول جاتے ہیں اتنی سرکشی جو تم کررہے ہو بس دنیا میں کر لو ایک دن آئے گا جب خدا تم پہ کمندیں کسے گا تو سارا زور خاک میں مل جائے گا اور منہ کے بل جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے جب اپنے ہی ذریعہ کئے گئے اعمال کو دیکھ کر تم اپنا منہ پیٹو گے اور تڑپوگے روؤگے مگر اس وقت تمہارے یاتھ میں کچھ نہیں ہوگا سوائے حسرت و مایوسی کے۔اس لئے ماہ رمضان کی اساس کو سمجھو خدا ہر سال میں ایک مہینے تمہیں ٹریننگ دیتا ہے تقویٰ کی۔ سمجھو اسے خدارا سمجھو رمضان فقط کچھ نہ کھا پی کر دن گزار دینے کا نام نہیں بلکہ دوسرے غریبوں یتیموں مسکینوں کی بھوک کے احساس ان کے درد و رنج و غم کو سمجھنے کا نام بھی ہے۔
رممضان فقط زبان واعضاء و جوارح سے عبادت کا نام نہیں بلکہ دل سے خالصتا فرمان خدا و شریعت پہ عمل کا نام ہے۔
اگر رمضان میں آپ کی زبان کسی کی دل آزاری کر رہی ہے آپ کا وجود کسی پہ ظلم کررہا ہے کسی کی آنکھوں میں آپ کے ذریعے کئے گئے ماضی یا حال میں ظلم کو یاد کرکے آنسو آجائیں تو آپ کے روزے نگاہ پروردگار میں فاقے سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔
اگر آپ رمضان میں بھی اپنی فانی دولت کے نشے میں چور ہوکر کسی کی بے حرمتی پہ آمادہ اوراسےذلیل و رسوا کرنے کی اپنی بری حرکت سے باز نہیں آرہے ہیں تو وہ روزہ ریاکاری کےزمرے میں ہے۔
آ پ روزہ رکھ کر والدین کی دل آزاری کریں عادتا جھوٹ بولیں دوسروں کا تمسخر اڑائیں تو یہ روزہ کسی کام کا نہیں۔
خدا نے روزہ آپ کو فقط بھوکا یاسا رہنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ صحیح معنوں میں خود سے قریب کرنے کے لئے بنایا اور جو جھوٹا ہےۭظالم ہےۭۭ۔نافرمانبردار ہےۭریاکار ہےۭمتکبر ہےۭدوسروں پر تہمت لگانے والا ہےۭدوسروں کی غیبت کرنے والا یےۭاس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ۔۔۔لہٰذامحتاط رہیں۔
سچ کہوں سب سو رہے ہیں عیش و نشاط کے بستر پر غفلت کی تکیہ لگائے سرکشی کی چادر اوڑھے ظلم و نافرمانی کی زمین پر زور اور تکبر جھوٹ فریب مفاد پرستی کے زیر آسمان ۔۔۔سب محو خواب ہیں بس اک چنگھاڑ اٹھے گی تب جاگیں گے سب اصل معنوں میں ابھی تو سب سب سبببببب سو رہے ہیں ۔۔۔۔خواب خرگوش کی طرح محو ہیں زندگی میں۔۔۔۔۔جاگتی ہوئی زندگی میں یہ وہ سمجھتے ہیں مگر حقیقتا سب سو رہے ہیں۔۔۔۔جب جاگیں گے تو سمجھیں گے ۔۔۔۔۔کیا کیا جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔واقعی انسان زندہ رہتا ہے تو اس طرح جیسے کبھی مرے گا نہیں اور مر اس طرح جاتا ہے جیسے کبھی زندہ ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔واقعی دانا سب دیوانے ہیں ۔۔دیوانے سب دانا۔۔۔۔۔دانا وہ ہے جو دنیا کو گزرگاہ سمجھتے ہوئے مہلت سمجھتے ہوئے آخر ت کی تیاری کرے دنیا کے مکتب میں نہ جانے کب تعطیل کی گھنٹی ںج جائے اور پھر سب۔۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ۔۔۔۔۔۔بس ۔۔۔۔انا لللہ۔۔۔۔۔اس لئے ہوش میں آجاؤ آنکھیں کھول لو بیدار ہوجاؤ اس سےپہلے کہ تمہیں ہوش میں لانے کے لئےتمہارے شانوں کو ہلا ہلاکر تلقین پڑھی جائے۔۔۔۔









آپ کا تبصرہ