حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ حوزہ علمیہ ایران، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ملتِ ایران اور امتِ مسلمہ کے نام اپنے اہم پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ دو برس سے جاری جنگ اور خصوصاً رمضان کی جنگ دراصل امریکہ اور صہیونی طاقتوں کی ایک پیچیدہ اور شیطانی سازش ہے، جس کا مقصد ایران، امتِ مسلمہ، فلسطین اور پورے خطے کی آزادی و خودمختاری کو کچلنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ صرف ایک عسکری جنگ نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور تاریخی محاذ ہے، جس میں انقلابِ اسلامی کے افکار، امام خمینیؒ، شہداء، ملتِ ایران، اسلامی نظام، مسلح افواج اور رہبر معظم کی قیادت نے خطے کے آزاد عوام اور محاذِ مقاومت کے ساتھ مل کر دشمن کی کئی سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔ ان کے بقول ’’جنگِ رمضان‘‘ استقامت و مقاومت کی تاریخ کا ایک روشن اور فیصلہ کن موڑ بن چکی ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ اس مرحلے پر پوری قوم، ریاستی اداروں، علمائے کرام، دینی و علمی مراکز، ذرائع ابلاغ اور نوجوانوں پر شرعی، ملی، ایمانی اور تاریخی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملتِ ایران کو الٰہی وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے ثابت قدم رہنا ہوگا اور دفاعی محاذ کی مکمل پشت پناہی جاری رکھنی ہوگی۔
اپنے پیغام میں انہوں نے پانچ اہم نکات پر زور دیا:
اول: اسلام، ایران اور مقاومت کے اہداف کے دفاع کے لیے جرات مندانہ اور دانشمندانہ جدوجہد کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔
دوم: عوام اور نوجوانوں کی میدانی اور عوامی سطح پر مسلسل موجودگی اور نظام، رہبر اور مجاہدین کی حمایت کو ناگزیر قرار دیا۔
سوم: ملت ایران، حکومت اور محاذِ مقاومت کو ہر ممکن صورتِ حال کے لیے مکمل آمادگی اختیار کرنے کی تاکید کی۔
چہارم: عالمِ اسلام کے علماء، دینی اداروں اور مسلم اقوام سے بیداری اور جبهۂ حق کی حمایت کی اپیل کی۔
پنجم: حوزاتِ علمیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس تاریخی موڑ پر ایک مضبوط فکری اور عملی مرکز کے طور پر اپنا کردار مزید مؤثر بنائیں۔









آپ کا تبصرہ