جمعہ 3 اپریل 2026 - 12:43
ایران ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے: شیخ زکزاکی

حوزہ/ نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزاکی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہی وہ بڑی طاقت ہے جس نے خطے میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے صہیونی منصوبے کو ناکام بنا رکھا ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے عرب ممالک کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ اسی منصوبے کی حفاظت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ابوجا میں اپنے شاگردوں، ثقافتی اور سیاسی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ ابراہیم زکزاکی نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت کی اور عالم اسلام سے ایران کی مکمل حمایت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے کئی ماہ پہلے ہی ایران کے گرد اسلحے کا انبار لگا کر حملوں کی تیاری شروع کر دی تھی۔ ان کے بقول ابتدائی حملوں میں رہائشی مقامات اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں درجنوں طلبہ اور بے گناہ شہری شہید ہوئے۔

شیخ زکزاکی نے دعویٰ کیا کہ بعض حملے متحدہ عرب امارات، بحرین اور بعض دیگر اسلامی ممالک کی سرزمین سے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس سابقہ مفاہمت کے خلاف تھا جس کے تحت ان ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ کیے جانے پر اتفاق موجود تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد دشمنوں نے ایران کے اقتصادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور فولاد، سیمنٹ اور بجلی جیسے بنیادی شعبوں کو نشانہ بنایا تاکہ ایران کی معیشت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران نے بھی جواباً دشمن سے وابستہ مراکز کو نشانہ بنایا، تاہم اس نے کبھی عام شہریوں کو ہدف نہیں بنایا بلکہ صرف امریکی فوجی مراکز کو جواب دیا۔

نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما نے کہا کہ صہیونی حلقے کئی دہائیوں سے ایسے امریکی صدر کے منتظر تھے جو ایران کے خلاف براہ راست جنگ چھیڑ دے، اور ان کے بقول ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی اکسانے پر یہی راستہ اختیار کیا۔

شیخ زکزاکی نے زور دے کر کہا کہ ایران فلسطین کی حمایت کسی فرقہ وارانہ بنیاد پر نہیں بلکہ ایک اسلامی اور انسانی ذمہ داری کے تحت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اسی پالیسی کے نتیجے میں عراق، لبنان، یمن اور دیگر علاقوں میں مزاحمتی قوتیں مضبوط ہوئیں۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور جبهۂ مقاومت کی کامیابی کے لیے دعا کریں، بالخصوص سورۂ یٰس، سورۂ فاتحہ اور صحیفۂ سجادیہ کی دعاؤں کے اہتمام کی تاکید کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha