پیر 18 مئی 2026 - 16:16
امریکہ میں سیاہ فام ووٹروں کے حقوق محدود کرنے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج

حوزہ/ امریکہ کی ریاست آلاباما کے دارالحکومت مونٹگومری Montgomery میں ہزاروں شہری حقوق کے کارکنوں، سیاہ فام رہنماؤں اور مظاہرین نے ایک بڑا احتجاجی اجتماع منعقد کیا، جس میں سیاہ فام شہریوں کے حقِ رائے دہی محدود کرنے اور انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی ریاست آلاباما کے دارالحکومت مونٹگومری Montgomery میں ہزاروں شہری حقوق کے کارکنوں، سیاہ فام رہنماؤں اور مظاہرین نے ایک بڑا احتجاجی اجتماع منعقد کیا، جس میں سیاہ فام شہریوں کے حقِ رائے دہی محدود کرنے اور انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔

یہ مظاہرہ امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ووٹنگ رائٹس ایکٹ کے اہم تحفظات کمزور ہوئے ہیں اور سیاہ فام ووٹروں کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

مظاہرین نے ریپبلکن جماعت کے زیرِ انتظام ریاستوں پر الزام عائد کیا کہ وہ نئے انتخابی قوانین کے ذریعے آئندہ انتخابات سے قبل سیاہ فام آبادی کی ووٹنگ طاقت کم کرنا چاہتی ہیں۔

احتجاجی مارچ تاریخی شہر سلما Selma سے شروع ہوا، جو 1965 کے مشہور “بلڈی سنڈے” واقعے کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور آلاباما کی ریاستی اسمبلی کی عمارت تک جاری رہا۔

اس احتجاج میں شریک امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر Cory Booker نے کہا: “مونٹگمری شہری حقوق کی تحریک کی مقدس سرزمین ہے اور ہم امریکہ کو دوبارہ نسلی امتیاز کے دور میں واپس نہیں جانے دیں گے۔”

شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نئی انتخابی تبدیلیاں دراصل امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کی آواز کمزور کرنے اور نسلی امتیاز پر مبنی پالیسیوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہیں، جس پر حالیہ عدالتی فیصلوں کے بعد تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha